?️
ایرانی جوہری پروگرام بین الاقوامی جانبدارانہ نظام کا منطقی جواب ہے: پاکستانی ماہر
پاکستان کے معروف تھنک ٹینک اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (IPRI) سے وابستہ محقق عالیہ بتول نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام دراصل بین الاقوامی سطح پر قائم امتیازی اور جانبدارانہ عدمِ اشاعہ کے نظام کا ایک منطقی اور دفاعی ردعمل ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر عائد یکطرفہ پابندیوں کو منافقانہ رویہ قرار دیا، حالانکہ ایران ایک ذمہ دار NPT رکن ملک ہے۔
انہوں نے ایک تازہ تحریر میں اسرائیل اور امریکہ کی حالیہ جارحیت، ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے، اور مغرب کے دوہرے معیارات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغرب جہاں ایک جانب ایران پر پابندیاں عائد کرتا ہے، وہیں دوسری طرف اسرائیل جیسے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی کھلے عام حمایت کرتا ہے۔
عالیہ بتول نے تحریر کیا کہ طاقتور ممالک اکثر خود ساختہ قوانین پر عمل نہیں کرتے، جبکہ کمزور ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے انہی قوانین کے تحت دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام اسی دباؤ اور ناانصافی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا ایران بین الاقوامی نظام کو تباہ نہیں کرنا چاہتا، بلکہ وہ خطے میں اپنی خودمختاری کے تحفظ اور بیرونی مداخلت سے بچاؤ کے لیے اپنا دفاع کر رہا ہے۔
تحریر میں مزید کہا گیا کہ ایران کے لیے جوہری توانائی صرف ایک سکیورٹی ایشو نہیں بلکہ یہ قومی خودمختاری، سائنسی ترقی، اور فخر کا نشان بھی ہے۔ ایران نے 1974 میں NPT پر دستخط کیے، جس کے تحت ہر رکن ملک کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے۔ لیکن مغرب نے ایران کو اس کے قانونی حق سے بھی محروم رکھا اور اس پر پابندیاں لگائیں، جب کہ دیگر ممالک کو کھلی چھوٹ دی گئی۔
عالیہ بتول نے کہا کہ ایران کو ایک ایسے امتیازی نظام کا سامنا ہے جو دنیا کو دو دائمی طبقات میں تقسیم کرتا ہے: جوہری ہتھیار رکھنے والے پانچ ممالک، اور باقی دنیا جنہیں ان ہتھیاروں تک رسائی کی اجازت نہیں۔ جوہری طاقتیں خود تو اپنے ہتھیاروں کو جدید بناتی رہتی ہیں، لیکن دوسروں پر سخت پابندیاں لگاتی ہیں۔
انہوں نے امریکہ اور بھارت کے درمیان 2006 کے جوہری معاہدے کو ایک اور مثال قرار دیا، جس کے ذریعے بھارت کو جو کہ NPT کا رکن نہیں جوہری مواد اور تعاون تک رسائی دی گئی۔ اس کے برعکس، ایران جیسے ملک کو معاہدے کے باوجود سخت شرائط اور تنقید کا سامنا ہے۔
تحریر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسرائیل، جو نہ تو NPT پر دستخط کرنے والا ملک ہے اور نہ ہی اپنی جوہری تنصیبات کی بین الاقوامی نگرانی قبول کرتا ہے، مغربی ممالک کی غیرمشروط حمایت حاصل کیے ہوئے ہے۔ جب کہ ایران نے بارہا شفاف انداز میں تعاون کیا، IAEA کے معائنے قبول کیے، لیکن اسے عالمی سطح پر تنہا کیا گیا۔
عالیہ بتول نے کہا کہ اس صورتحال میں ایران کے پاس یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے NPT پر نظرثانی کرے اور IAEA کو مزید رسائی دینے پر دوبارہ غور کرے۔ کیونکہ ایران کا جوہری پروگرام درحقیقت ایک غیرمنصفانہ، امتیازی اور منافقانہ عالمی نظام کا عقلی ردعمل ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر عالمی برادری واقعی جوہری پھیلاؤ کو روکنا چاہتی ہے تو اسے ایران پر سے یکطرفہ پابندیاں ختم کرنی ہوں گی، NPT کے تمام اراکین کے لیے مساوی حقوق یقینی بنانا ہوں گے، اور 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کو قابلِ عمل ضمانتوں کے ساتھ بحال کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، دنیا ایک نہ صرف جوہری پھیلاؤ بلکہ بین الاقوامی نظام کے زوال کے خطرے سے بھی دوچار ہو جائے گی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
اسرائیلی سرمایہ کاری کی تازی ترین صورتحال
?️ 17 جون 2024سچ خبریں: اسرائیل میں غیر مستحکم اقتصادی ماحول نے حقیقی سرمائے کے لیے
جون
سعودی وزیر خارجہ کا ایران کے بارے میں تازہ ترین موقف
?️ 18 مارچ 2023سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ نے اپنے تازہ ترین موقف میں ریاض اور
مارچ
غزہ کے حامی طلباء کے خلاف امریکی کانگریس نے کیا کہا؟
?️ 5 مئی 2024سچ خبریں: ایک طرف امریکی پولیس کے ہاتھوں طلباء پر جبر تشدد
مئی
اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا پنجاب،خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع
?️ 9 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے پنجاب
فروری
جنین کیمپ پر صیہونی حملے میں چار فلسطینی شہید
?️ 29 ستمبر 2022سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کی عسکری شاخ سرایا القدس
ستمبر
اردغان کو ہٹانا آسان کیوں نہیں؟
?️ 16 جنوری 2022سچ خبریں: ان دنوں ترکی میں اردغان کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنما
جنوری
ہم امریکہ سے ہتھیار خریدنے کے لیے بڑے معاہدے پر کام کر رہے ہیں : زیلنسکی
?️ 28 ستمبر 2025سچ خبریں: یوکرین کے صدر ولادمیر زلنسکی کا کہنا ہے کہ ملک
ستمبر
لبنان میں داعش کے مرکز کا خاتمہ
?️ 30 جنوری 2023سچ خبریں:لبنان کی عوامی سلامتی نے بیروت میں رسول ہسپتال کو ڈرون
جنوری