انصاراللہ کے رہنما عبدالملك الحوثی کی امریکہ پر شدید تنقید

انصاراللہ

?️

سچ خبریں: یمن کی انصاراللہ تحریک کے رہنما عبدالملك الحوثی نے اپنے خطاب میں زور دے کر کہا کہ صہیونی ریاست کی غزہ پٹی پر وحشیانہ اور جنگیانہ حملے امریکہ اور مغربی ممالک کی مکمل پشت پناہی سے جاری ہیں۔
گزشتہ ہفتے غزہ میں 1,200 سے زائد افراد شہید یا زخمی ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ صہیونیوں نے ان علاقوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جنہیں وہ محفوظ قرار دیتے تھے، جبکہ اب تک 250 فلسطینی پناہ گزین کیمپوں پر حملے کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ پٹی میں انسانی صورت حال انتہائی المناک ہو چکی ہے اور فعال اداروں کے پاس خوراک کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال امریکی حمایت یافتہ صہیونی ریاست کی بربریت کو عیاں کرتی ہے۔ کرۂ باختری میں بھی اس ریاست کے مظالم جاری ہیں، جہاں تل ابیب مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یوم نکبت کی سالگرہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ گزشتہ 77 سالوں سے صہیونی ریاست کے طریق کار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت بھی اسی طرح برقرار ہے۔
انصاراللہ رہنما نے کہا کہ عرب ممالک کا فلسطین سے اغماض اور تعلقات کی بحالی ایک بڑی غداری ہے۔ جو حکومتیں اور قومیں فلسطین کی حمایت نہیں کرتیں، ان کے پاس کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صہیونی ریاست اور امریکہ ایک ایسا بیانیہ پھیلا رہے ہیں جس کے تحت ایران کو ہر مخالفت کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، حالانکہ ایران کا موقف ایک شریفانہ اسلامی موقف ہے جو ہر مسلم حکومت کو اپنانا چاہیے۔
الحوثی نے یمنی مسلح افواج کے حالیہ کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے 9 آپریشنز کیے گئے، جن میں ہائپرسونک میزائلز، بیلسٹک میزائلز اور ڈرونز کا استعمال شامل تھا۔ ان میں سب سے اہم بن گوریون ایئرپورٹ پر حملہ تھا، جس کا مقصد صہیونی دشمن کو ہوائی محاصرے میں لینا تھا۔ ایک اور اہم آپریشن ٹرمپ کی تقریر کے دوران کیا گیا۔ یمنی افواج صہیونی دشمن کی ہوائی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عرب ریاستوں سے مالی اور سیاسی طور پر باج وصول کرتا ہے اور انہیں ڈرا کر اپنے مفادات پورے کراتا ہے۔ امریکہ عرب ممالک سے رقم لے کر اسرائیل کو دیتا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کا مقصد امت مسلمہ کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صہیونی ریاست کی بحری آمدورفت بحر احمر، باب المندب، خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ممنوع ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت سعودی عرب سے کیا چاہتی ہے ؟ 

?️ 29 ستمبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر جنگ یوو گیلانت کی تحریر نے تل

وزیر اعظم کی عمران خان کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت

?️ 16 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین

حریم شاہ کا شادی کا دعویٰ غلط ثابت ہو گیا

?️ 29 دسمبر 2021کراچی (سچ خبریں)  ٹک ٹاک اسٹار اور اداکارہ حریم شاہ کا شادی

احتجاج میں بھی پی ٹی آئی پارلیمانی راستہ اختیار کرے گی، بیرسٹر گوہر

?️ 4 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اگرچہ پاکستان تحریک انصاف اپوزیشن میں اپنے اتحادیوں

حماس نے اسرائیل کو مکمل طور پر چکما دیا

?️ 2 دسمبر 2023سچ خبریں:ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ حماس نے 7

متحدہ عرب امارات پر تنقید کرنے کے جرم میں سعودی سینئر افسر گرفتار

?️ 1 دسمبر 2021سچ خبریں:سعودی ذرائع نے متحدہ عرب امارات پر تنقید کرنے پر اس

ترک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ اور حماس کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کے درمیان ملاقات

?️ 6 نومبر 2025سچ خبریں: استنبول شہر میں ترکی کے انٹلیجنس سربراہ ابراہیم کالن اور حماس

گینٹز کا استعفیٰ، جنگی کابینہ کا خاتمہ

?️ 11 جون 2024سچ خبریں: حالیہ دنوں میں ہم نے صیہونی حکومت کی جنگی کابینہ کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے