?️
سچ خبریں: عراقی سیاسی تجزیہ کار نے اس بات پر زور دیا کہ اس ملک میں تعینات امریکی قابضین صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور 2011 کا منظر نامہ مزاحمتی قوتوں کے حملوں کے ساتھ دہرایا جائے گا۔
المعلومہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراق کے سیاسی تجزیہ نگار صباح العکیلی نے کہا ہے کہ عراق میں امریکی قابضین کے ٹھکانوں کے خلاف اس ملک کی اسلامی مزاحمتی قوتوں کے حالیہ حملے 2011 سے پہلے کی صورتحال کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا امریکہ کو عراق سے جانا ہو گا؟
انہوں نے مزید کہا کہ اس سال ہم نے قابض افواج کو عراق سے نکالنے کے لیے ان کے خلاف ایک منفرد آپریشن دیکھا، 2011 سے پہلے حملہ آوروں کے خلاف مزاحمتی قوتوں کے حملوں نے انہیں عراق چھوڑنے پر مجبور کیا لہٰذا واضح ہوا کہ قابض صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔
العکیلی نے مزید کہا کہ امریکی فریق طاقت کی منطق اور عراق میں ان کے مفادات اور قابض افواج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد ہی مذکرات کرنے کے لیے تیار ہو گا لہذا قابضین پر دباؤ جاری رہنا چاہیے تاکہ وہ عراق سے نکلنے کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔
عراق کی اسلامی مزاحمت نے جمعے کے روز ایک بیان جاری کیا اور اعلان کیا کہ اسلامی مزاحمت کی درخواست، پارلیمنٹ کی قرارداد اور عراق سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ امریکہ کے دھوکے کی وجہ سے عمل میں نہیں آیا۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے عراقی حکومت کی مشترکہ کمیٹی بنانے کی درخواست کو تسلیم کرنا بھی مزاحمت کی مہلک ضربوں کی وجہ سے ہے۔
عراق کی اسلامی مزاحمت نے کہا کہ امریکہ صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے اور جنگ کے سالوں میں ہم نے اس سے خیانت اور ظلم کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ نئی نقل و حرکت کا مقصد وقت ضائع کرنا اور مزاحمت کے خلاف مزید جرائم کی سازش کرنا نیز عراقی قوم اور امت اسلامیہ کو نقصان پہنچانے کے مذموم منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ کے خلاف صیہونی حکومت کی جنگ کے آغاز اور تل ابیب حکومت کے بمبار طیاروں کی جانب سے اس پٹی کے رہائشی، تعلیمی اور طبی علاقوں پر نہ رکنے والی بمباری کے ساتھ ہی، علاقے میں موجود اسلامی مزاحمتی گروہوں میں سے ہر ایک نے اپنے طور پر غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت کا فرض ادا کیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی اسلحے کے بغیر عراق سے نہیں نکلیں گے:عراقی مزاحمتی تحریک
اس دوران عراقی گروہوں نے عراق اور شام میں امریکی اڈوں کو سو سے زائد مرتبہ نشانہ بنایا ہے اور امریکیوں کو یہ باور کرایا ہے کہ غزہ کے عوام کے قتل عام میں صیہونی حکومت کی حمایت کی قیمت بہت زیادہ ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکی سفیر تل ابیب سے غزہ جنگ پر بات چیت کے لیے مصر جا رہے ہیں
?️ 28 ستمبر 2025امریکی سفیر تل ابیب سے غزہ جنگ پر بات چیت کے لیے
ستمبر
پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کو پرعزم ہیں وزیر اعظم
?️ 13 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہبازشریف نے معیشت کی بحالی کو پہلی
مئی
صیہونی حکومت کی جنگجویانہ پالیسیوں کا اس کے بجٹ پر اثر
?️ 12 اکتوبر 2024سچ خبریں: اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صہیونی حکومت اپنی جنگ
اکتوبر
شہید ہنیہ کا سب سے بہترین انتقام کیا ہے؟ ان کے بیٹے کی زبانی
?️ 14 ستمبر 2024سچ خبریں: شہید اسماعیل ہنیہ کے بیٹے نے صیہونی غاصبوں کے غزہ
ستمبر
امریکی لابی افغانستان کے اثاثوں کا حصہ حاصل کرنے کی کوشش میں
?️ 18 فروری 2022سچ خبریں: بائیڈن کے 9/11 کے متاثرین کے خاندانوں کے حق میں
فروری
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد
?️ 28 اپریل 2022اسلام آباد (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں
اپریل
پاکستان پوسٹ میں 5 ہزار اسامیوں پر ہر وزیر ’اپنوں‘ کو نوازتا رہا، قائمہ کمیٹی میں انکشاف
?️ 2 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے
دسمبر
پاکستان زراعت کے شعبے کی استعداد بڑھانے کے لئے چینی تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے. شہبازشریف
?️ 7 جون 2024بیجنگ: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان زراعت کے شعبے کی استعداد
جون