?️
امریکہ اور ایران جوہری معاہدے پر لچک دکھا رہے ہیں:ترکی وزیر خارجہ
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی کے حوالے سے لچک کے آثار نظر آ رہے ہیں، تاہم اگر مذاکرات کو میزائل پروگرام تک وسعت دی گئی تو خطے میں نئی کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔
فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں فیدان نے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کہ امریکہ ایران کی یورینیم افزودگی کو طے شدہ حدود کے اندر برداشت کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق، دونوں فریق بظاہر کسی مفاہمت تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام تک بڑھایا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور یہ اقدام “ایک اور جنگ” کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن نے اپنے ایک اہم مطالبے — یعنی ایران کی جانب سے مکمل طور پر یورینیم افزودگی ختم کرنے — میں نرمی کے اشارے دیے ہیں۔ یہ شرط طویل عرصے سے کسی معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی رہی ہے، کیونکہ ایران این پی ٹی کے رکن کی حیثیت سے افزودگی کو اپنا حق قرار دیتا ہے۔
فیدان کے مطابق، تہران سنجیدگی سے ایک حقیقی معاہدے کا خواہاں ہے اور وہ افزودگی کی سطح پر پابندیاں قبول کرنے اور سخت نگرانی کے نظام پر عمل درآمد کے لیے تیار ہو سکتا ہے، جیسا کہ 2015 کے جوہری معاہدے میں کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران سمجھتا ہے کہ اسے امریکہ کے ساتھ کسی نہ کسی سمجھوتے تک پہنچنا ہوگا، جبکہ امریکہ بھی یہ ادراک کر رہا ہے کہ ایران پر حد سے زیادہ دباؤ ڈالنا مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔
فیدان نے متنبہ کیا کہ اگر امریکہ تمام معاملات کو بیک وقت طے کرنے پر اصرار کرے گا تو خدشہ ہے کہ جوہری فائل بھی آگے نہیں بڑھ پائے گی اور نتیجتاً خطہ ایک نئی جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اپنے دورۂ واشنگٹن کے دوران امریکی قیادت کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، کیونکہ اسرائیل کے لیے خطے میں فوجی برتری برقرار رکھنا بنیادی ترجیح ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے زور دیا کہ ایران اور امریکہ کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ان کے بقول، ایران کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات سے ہم آہنگ کرے تاکہ توازن برقرار رہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ امریکہ کے ممکنہ حملوں سے ایران میں نظام کی تبدیلی کا امکان کم ہے۔ ان کے مطابق، اگرچہ سرکاری ادارے اور دیگر اہداف شدید نقصان اٹھا سکتے ہیں، تاہم ریاستی نظام بطور سیاسی ڈھانچہ برقرار رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق بڑی خبر
?️ 15 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)پیٹرولیم مصموعات کی قیمتوں سے متلعق بڑی خبر سامنے
دسمبر
اسرائیلی حکام نے اپنے وزراء پر برطانوی حکومت کی پابندیوں پر ردعمل ظاہر کیا ہے
?️ 10 جون 2025سچ خبریں: اسرائیلی حکام نے برطانوی حکومت کی طرف سے داخلی سلامتی
جون
غزہ میں رہائشی بلند عمارتیں اسرائیلی فضائی حملوں کا ہدف پھر بھی لوگ شہر نہیں چھوڑ رہے
?️ 14 ستمبر 2025غزہ میں رہائشی بلند عمارتیں اسرائیلی فضائی حملوں کا ہدف پھر بھی
ستمبر
رمضان المبارک میں غزہ کی پٹی کے خلاف زمینی اور فضائی حملوں میں شدت
?️ 13 مارچ 2024سچ خبریں: رمضان کے مقدس مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی غزہ
مارچ
سجل علی، عدنان صدیقی سمیت دیگر کو سول اعزازات سے نواز دیا گیا
?️ 24 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کی نامور اداکارہ سجل علی، سینئر اداکار
مارچ
سی ان ان کا اسرائیلیوں کے ہاتھوں فلسطینی کارکنوں پر تشدد کا اعتراف
?️ 9 نومبر 2023سچ خبریں:گزشتہ ہفتے اسرائیل سے ملک بدر کیے جانے والے فلسطینی کارکنوں
نومبر
برطانوی حکومت نے عراق کے شہر نینوا کے گورنر کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا
?️ 23 جولائی 2021واشنگٹن (سچ خبریں) واشنگٹن کی حمایت اور منظوری کے ساتھ برطانیہ نے
جولائی
طاقتور اداروں میں احتساب ہوتا نظر آرہا ہے۔ طلال چودھری
?️ 11 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا
دسمبر