?️
امریکہ اور اسرائیل خلیج میں جنگ کو اقتصادی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں
لبنانی روزنامہ النهار نے رپورٹ دی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگیں اور تنازعات امریکہ اور اسرائیل کو اقتصادی فوائد فراہم کر رہی ہیں اور ان کی علاقائی برتری کو مضبوط کر رہی ہیں، تاہم اس کے ساتھ ہی تجزیے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ جنگی پالیسی دونوں ممالک کے لیے بڑھتے ہوئے عسکری اخراجات اور قرضوں کا سبب بھی بنی ہے۔
النهار کے مطابق، اقتصادی جنگ کا تصور جدید سرمایہ داری کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگوں نے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ جنگیں امریکہ اور اسرائیل کو بڑی اقتصادی کامیابیاں دلاتی ہیں، خاص طور پر دفاعی صنعت اور عسکری حکمت عملی کے ذریعے۔
اخبار نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کا تعاون بیسویں صدی کے آغاز سے موجود ہے، جب یہودیوں کی فلسطین ہجرت میں اضافہ ہوا اور صہیونی تحریک کو مغربی طاقتوں، خاص طور پر برطانیہ اور امریکہ کی حمایت حاصل ہوئی۔ ۱۹۴۸ کے بعد یہ تعاون عسکری اور اقتصادی سطح پر ایک مضبوط اتحاد میں بدل گیا۔
النهار کے مطابق، سوویت یونین کے زوال کے بعد امریکہ نے عالمی سطح پر "دشمن” کی تعریف کو دوبارہ متعین کیا اور عرب دنیا و اسلامی ممالک کو مغرب کے لیے ایک نیا خطرہ قرار دیا۔
مشرق وسطیٰ کی جنگیں امریکی معیشت کے لیے بڑی آمدنی کا ذریعہ ہیں، کیونکہ یہ لاک ہیڈ مارٹن، بوئنگ اور دیگر بڑی کمپنیوں کی دفاعی صنعت کو فعال رکھتی ہیں اور نئی ہتھیاروں اور فوجی ٹیکنالوجی کے تجربے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔
اخبار نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا یہ اتحاد صرف عسکری نہیں بلکہ اقتصادی بھی ہے۔ اسرائیل دفاعی صنعت کی برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکہ کی اقتصادی اور عسکری حکمت عملی کا اہم شریک بن گیا ہے۔ جنگوں نے اسرائیل کی عسکری اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کو بھی بڑھایا ہے اور اسے امریکہ کی عالمی حکمت عملی میں ایک کلیدی کھلاڑی بنایا ہے۔
النهار نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگیں عالمی معیشت پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔ امریکہ کی دفاعی صنعت آمدنی کا اہم ذریعہ ہے، جبکہ اسرائیل اس اتحاد کے ذریعے اپنی فوجی طاقت اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیتا ہے۔ تاہم، جنگوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مشرق وسطیٰ میں اقتصادی نقصان اور اندرونی مالی دباؤ امریکی اور اسرائیلی معیشت کے لیے طویل مدتی چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔
اخبار نے نتیجہ اخذ کیا کہ اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کو قلیل مدتی اقتصادی فوائد حاصل ہوتے ہیں، مگر بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات اور قرضے مستقبل میں مالی بحران کا سبب بن سکتے ہیں۔ موجودہ جنگیں ان کے لیے علاقائی ہژمونی میں اضافہ کرتی ہیں، لیکن عالمی سطح پر تناؤ میں بھی اضافہ کر سکتی ہیں، اور ایک کثیرالقطبی عالمی نظام اور عرب و اسلامی دنیا کی بدلتی سیاست مغربی اتحاد کی مستقبل کی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
صدر مملکت سے وزیراعظم کی ملاقات، سیاسی و معاشی امور پر تبادلہ خیال
?️ 17 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز
جون
شمالی لبنان کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کا سعودی منصوبہ
?️ 26 مئی 2022سچ خبریں:سعودی عرب تیل کے ڈالروں کے ذریعہ اپنے اور واشنگٹن کے
مئی
نیتن یاہو کی جنگ طلبانہ پالیسیوں کے خلاف اسرائیل میں شدید مظاہرے شروع ہوگئے
?️ 25 مئی 2021تل ابیب (سچ خبریں) اسرائیل میں نیتن یاہو کی جنگ طلبانہ پالیسیوں
مئی
امریکہ میں اسکول ٹیچروں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت
?️ 4 اگست 2022سچ خبریں:امریکی ریاستی قانون گذار قومی کانفرانس کا کہنا ہے کہ اس
اگست
غزہ میں دھماکوں کی شدت نے زلزلوں جیسی کیفیت پیدا کردی ہے: ہیومن رائٹس
?️ 20 ستمبر 2025سچ خبریں: بحیرہ روم کی انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظیم
ستمبر
ہماری 2 نسلیں انصاف مانگنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ آتی رہیں، بلاول بھٹو
?️ 19 دسمبر 2023لاہور: (سچ خبریں) سابق وزیر خارجہ و چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے
دسمبر
پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھی مرتبہ کمی کا امکان
?️ 7 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت اگر پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا فیصلہ
ستمبر
یمن میں 6 ماہ کی جنگ بندی میں توسیع کا ابتدائی معاہدہ
?️ 8 اپریل 2023سچ خبریں:یمن کے ایک سفارتی ذریعے نے آج اسپوٹنک خبر رساں ایجنسی
اپریل