اسرائیل کے اندرونی اختلافات مستقبل کا سب سے بڑا خطرہ

اسرائیل

?️

اسرائیل کے اندرونی اختلافات مستقبل کا سب سے بڑا خطرہ

ایک تازہ اسرائیلی سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی عوام کی اکثریت بیرونی خطرات کے بجائے اندرونی اختلافات اور سماجی تقسیم کو اپنے مستقبل کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان مقبوضہ فلسطین میں گہرے سماجی اور سیاسی بحران کی واضح علامت ہے۔

اسرائیلی اخبار معاریو کی رپورٹ کے مطابق، ’’یہودی پالیسی پلاننگ انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے حالیہ سروے میں 55 فیصد اسرائیلیوں نے اعتراف کیا کہ داخلی اختلافات اور معاشرتی خلیج اسرائیل کے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ سروے میں یہ خطرہ ایران اور اسرائیل-فلسطین تنازع سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف 23 فیصد افراد نے ایران کو سب سے بڑا خطرہ کہا، جبکہ 18 فیصد نے فلسطینیوں کے ساتھ تنازع کو اہم چیلنج قرار دیا۔ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے بیرونی خطرات پر زور دینے کے باوجود، عوام کی اصل تشویش اندرونی بحرانوں اور سماجی بکھراؤ سے جڑی ہوئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تشویش مختلف طبقوں میں یکساں پائی جاتی ہے۔ 59 فیصد یہودی اور 39 فیصد عرب شہریوں نے اندرونی تقسیم کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دائیں بازو، اعتدال پسند اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد، سبھی اس نکتے پر متفق نظر آتے ہیں۔

حتی دائیں بازو کے حلقوں میں، جو عموماً بیرونی دشمنوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، اندرونی بحران کو سب سے بڑا خطرہ مانا جا رہا ہے۔ سروے کے مطابق 48 فیصد سخت گیر دائیں بازو، 57 فیصد اعتدال پسند دائیں بازو اور 73 فیصد مرکزی دھارے سے تعلق رکھنے والے افراد نے سماجی تقسیم کو اسرائیل کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا چیلنج کہا۔

اس حوالے سے انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ یدیدیہ شٹرن نے خبردار کیا کہ اسرائیلی معاشرہ شدید اندرونی بحران سے گزر رہا ہے اور عوام اب سماجی خطرات کو سلامتی کے خطرات سے زیادہ اہم سمجھنے لگے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اس صورتحال کو نظر انداز کیا گیا تو نتائج مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل گزشتہ برسوں سے سیاسی عدم استحکام، بڑے پیمانے پر احتجاج، مذہبی و نسلی اختلافات، دائیں اور بائیں بازو کی شدید کشمکش اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی جیسے مسائل کا شکار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ایک بار پھر ثابت کرتے ہیں کہ اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ نہ تو ایران ہے اور نہ ہی فلسطینی مزاحمت، بلکہ وہ گہرے اور حل طلب اندرونی بحران ہیں جو اس کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو اندر سے کمزور کر رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

صنعا ایئرپورٹ کا محاصرہ توڑنے میں ایران کا رول قابل احترام ہے: یمن

?️ 4 جولائی 2026سچ خبریں: عبدالواحد ابوراس، نجات ملی حکومت یمن کے نائب وزیر خارجہ، نے

کرپشن کے مقدمے میں گرفتار چوہدری پرویز الہٰی کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا گیا

?️ 4 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) کرپشن کے مقدمے میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف (پی

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی عینک لگا کر 70 فیصد ہے۔ اعظم نذیر تارڑ

?️ 16 فروری 2026شیخوپورہ (سچ خبریں) وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ

اقوام کو ایران سے استکبار کے خلاف مزاحمت کا راستہ سیکھنا چاہئے: لیاقت بلوچ

?️ 3 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) جماعت اسلامی پاکستان کے نائب صدر نے کہا کہ

آج انسانیت کو درپیش سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟

?️ 17 جولائی 2023سچ خبریں: امریکی ماہر نے دنیا کے مختلف خطوں میں نیٹو افواج

اسرائیل تشدد کے چکر کو پھیلانے کا ذمہ دار ہے: قطر

?️ 9 اپریل 2023سچ خبریں:قطر کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ

لبنان امریکی اور سعودی مداخلت کا مرکز بن چکا ہے:حزب اللہ

?️ 12 فروری 2022سچ خبریں:لبنان کی حزب اللہ کی مرکزی کونسل کے ایک رکن نے

ترکی میں ملازمین اور کارکنوں کی عام ہڑتال کی وجوہات

?️ 19 اگست 2025سچ خبریں: ملازمین اور مزدور یونینوں نے اجرتوں میں اضافے کے مذاکرات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے