?️
اسرائیل پر تنقید کی قیمت آزادیٔ بیان کا خاتمہ ہے:چارلی کرک
امریکی قدامت پسند رہنما اور ٹرمپ کے قریبی اتحادی چارلی کرک کے قتل کے بعد واشنگٹن میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ کرک اپنی آخری مواضع میں اسرائیل کے اثر و رسوخ اور امریکی سیاست میں اس کے کردار پر سوال اٹھا رہے تھے۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ بارہا شکایت کرتے تھے کہ اسرائیل پر تنقید اتنی سخت سزا اور دباؤ لاتی ہے کہ ہم عملاً اسے آزادانہ طور پر بیان ہی نہیں کر سکتے۔
کرک، جو برسوں صہیونی نیٹ ورکس کے حمایت یافتہ سمجھے جاتے تھے، حالیہ برسوں میں نئی نسل کے قدامت پسندوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اسرائیل پر کھل کر تنقید کرنے لگے۔ اس تبدیلی نے نہ صرف انہیں میڈیا اور مالیاتی دباؤ کا سامنا کرایا بلکہ ذاتی حملوں اور سنگین دھمکیوں تک نوبت پہنچائی۔
امریکی جریدے نیوزویک نے لکھا ہے کہ کرک کی رائے نے خود قدامت پسندوں کے اندر اختلافات کو گہرا کر دیا۔ ست دیلون سی ای او بابلون بی نے کہا کہ کرک کھلے عام کہتا تھا: جو بھی اسرائیل پر سوال اٹھائے، فوراً اس پر ’یہود دشمنی‘ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔
صحافی ٹکر کارلسن نے بھی انکشاف کیا کہ کرک کو پچھلے مہینوں میں شدید دباؤ کا سامنا رہا اور وہ کہتا تھا کہ اسرائیل کے خلاف نرم ترین تنقید بھی ناقابل برداشت بنا دی جاتی ہے۔ کارلسن کے مطابق، کرک کی سوچ مذہبی ایمان اور نوجوان نسل کے ساتھ براہ راست گفتگو کے باعث بدلی، اور وہ جنگوں کو امریکی مفاد کے خلاف سمجھنے لگا۔
اسی دوران، کچھ قدامت پسند چہروں نے بھی اعتراف کیا کہ اسرائیل پر تنقید کے بعد ان کے پلیٹ فارم بند کرنے یا تعلقات توڑنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کرک بارہا اسرائیل کے حق میں بیانات دیتا رہا اور اسے کتابی حق قرار دیتا تھا، لیکن ساتھ ہی اس رویے سے متنفر تھا کہ معمولی سوالات پر بھی اسے دشمن سمجھا جاتا ہے۔ اس کا کہنا تھا: میں اسرائیل سے محبت کرتا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجھے لگتا ہے خود اسرائیلی شہری اپنی حکومت پر زیادہ آزادانہ تنقید کر سکتے ہیں، جتنا ہم امریکہ میں نہیں کر سکتے۔
چارلی کرک کا قتل اُس وقت ہوا جب وہ اسرائیل کے سیاسی اثر و رسوخ پر سب سے بڑے سوالات اٹھا رہا تھا۔ اس سانحے نے نہ صرف قدامت پسند حلقوں میں بلکہ امریکی میڈیا انڈسٹری میں بھی خوف اور غصے کی فضا پیدا کر دی۔
کرک کے قتل کے بعد، مشہور پروگرام جمی کیمل لائیو کی نشریات بھی معطل ہو گئیں، جب اس کے میزبان نے اس واقعے پر متنازعہ تبصرہ کیا۔ اس فیصلے نے امریکہ میں آزادیٔ بیان پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کرک کا قتل واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگا یا پھر یہ واقعہ بھی خاموشی اور دباؤ کی تاریخ کا ایک اور باب بن جائے گا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 روپے فی لیٹر تک اضافے کا خدشہ
?️ 30 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 روپے فی
جون
لاہور ہائی کورٹ سے بانی پی ٹی آئی کو رلیف
?️ 25 جولائی 2024سچ خبریں: لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف
جولائی
ایران کی انڈرگراؤنڈ میزائل اور ڈرونز مراکز کی رونمائی
?️ 8 مارچ 2022سچ خبریں:ایران کی سپاہ پاسداران فوج نے پہلی بار اپنے انڈر گراؤنڈ
مارچ
قازقستان میں بدامنی کے دوران تقریباً 4000 مظاہرین حراست میں
?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں: قازق وزارت داخلہ، نووستی نے کہا کہ حالیہ دنوں کے
جنوری
مصر اور ترکی کے مابین کشیدگی میں کمی، حماس نے خیرمقدم کردیا
?️ 2 اپریل 2021استنبول (سچ خبریں) مصر اور ترکی کے مابین جاری کشیدگی میں کمی
اپریل
عمران خان کی رہائی ملکی مسائل کے حل میں ہے، شاہد خاقان عباسی
?️ 7 اپریل 2025جہلم: (سچ خبریں) عوام پاکستان پارٹی کے رہنماء شاہد خاقان عباسی کا
اپریل
ترکی اسرائیل کے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟ترک صدر کی زبانی
?️ 31 مارچ 2024سچ خبریں: ترکی کے صدر نے کہا کہ یہ ملک تل ابیب
مارچ
آڈیو لیکس پر عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، عمران خان
?️ 10 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیر
اکتوبر