اسرائیل غزہ امن منصوبے میں رکاوٹ ہے، گیند اب امریکہ اور اسرائیل کے کورٹ میں ہے

حماس

?️

اسرائیل غزہ امن منصوبے میں رکاوٹ ہے، گیند اب امریکہ اور اسرائیل کے کورٹ میں ہے
ایران میں حماس کے نمائندہ خالد قدومی نے کہا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس ابتدا ہی سے جنگ بندی، اسیران کے تبادلے اور انسانی امداد کی فراہمی پر آمادہ تھی، مگر اسرائیل کی جانب سے جاری فضائی و زمینی حملے امن کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
قدومی نےاپنے ایک انٹرویو میں امریکی صدر کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کے منصوبے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ:ہم نے صدر ٹرمپ کی تجویز کو مثبت نیت سے قبول کیا ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاکہ تفصیلات طے کی جا سکیں، مگر اب گیند امریکہ اور اسرائیل کے کورٹ میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس نے اپنے تمام اتحادیوں اور غزہ کی مزاحمتی تحریکوں سے مشاورت کے بعد اپنی رضامندی کا اعلان کیا۔
ہم جنگ بندی، قابض افواج کے انخلا اور فوری انسانی امداد کے لیے تیار ہیں۔ اب وقت ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب اپنی ذمہ داری نبھائیں اور قتلِ عام کو روکا جائے۔
قدومی کے مطابق غزہ کی صورتحال بدستور نازک ہے اور ہر گھنٹے شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ اگر واقعی امن چاہتا ہے تو اسے اسرائیل پر فوری دباؤ ڈالنا ہوگا۔
خالد قدومی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حماس نے مصر کے تجویز کردہ منصوبے، جسے عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے، پر اصولی طور پر اتفاق کیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت جنگ بندی کے بعد  فلسطینی نیشنل ٹیکنوکریٹ کمیٹی  تشکیل دی جائے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ کمیٹی سیاسی نوعیت کی نہیں ہوگی اور اس میں حماس کی براہِ راست نمائندگی ضروری نہیں۔ مقصد صرف عوامی ریلیف اور استحکام ہے۔”
اصلی سوال یہ ہے کہ امریکہ سنجیدہ ہے یا نہیں؟
حماس کے نمائندے نے سوال اٹھایا کہ جب دوحہ میں امریکی منصوبے پر غور جاری تھا تو اسرائیل نے حماس کے رہنماؤں پر حملے کیوں کیے؟
اگر واقعی امن کے لیے ارادہ موجود ہے تو ان مجرمانہ حملوں کی وضاحت کون کرے گا؟ یہ سوال حماس سے نہیں بلکہ واشنگٹن سے پوچھا جانا چاہیے۔
قدومی نے اپنے انٹرویو کے اختتام پر حماس کے بنیادی مطالبات یوں بیان کیے فوری جنگ بندی؛اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا؛غزہ کے تمام راستوں کا دوبارہ کھلنا انسانی امداد اور بازآبادی کی ضمانت؛اسیران کے تبادلے اور انتخابات کے انعقاد کے لیے سیاسی فریم ورک ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام نکات پر پیش رفت صرف اسی صورت ممکن ہے جب عالمی برادری، خصوصاً امریکہ، سنجیدہ ارادہ اور عملی دباؤ دکھائے۔ہم امن چاہتے ہیں، لیکن عزت اور آزادی کے ساتھ۔ اگر ارادہ ہو تو یہ بحران ختم ہو سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

2022 میں 224 فلسطینیوں کی شہادت

?️ 4 فروری 2023سچ خبریں:فلسطینی ذرائع نے گذشتہ سال 224 فلسطینیوں کی شہادت اور جمعہ

پی ٹی آئی کاعمران خان پر قاتلانہ حملے کیخلاف ملک بھر میں احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

?️ 5 نومبر 2022لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف  نے عمران خان پر قاتلانہ حملے

وزارت داخلہ کا نوازشریف کے پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست پر کارروائی نہ کرنے پر زور

?️ 24 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزارت داخلہ نے نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

?️ 29 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا

کسان کی مضبوطی ملک کی مضبوطی:عمران خان

?️ 26 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) ملتان میں کاشت کاروں کے لیے کسان کارڈ کے

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں کبھی بھی 3 ماہ تک ایسا آئینی بحران نہیں آیا۔حمزہ شہباز

?️ 17 جون 2022لاہور(سچ خبریں) وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ جان

یوکرین آذربائیجانی گیس کو یورپ تک پہنچانے کا خواہاں

?️ 8 فروری 2025سچ خبریں: انٹرفیکس نے یوکرائنی وزارت خارجہ کے ترجمان جارجی تیکھی کے

مقبوضہ کشمیر میں روہنگیا مسلمانوں کی گرفتاریاں، پناہ گزینوں میں شدید خوف و ہراس پیدا ہوگیا

?️ 11 مارچ 2021جموں (سچ خبریں)  مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے  روہنگیا مسلمانوں کے خلاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے