?️
آلاسکا میں ٹرمپ اور پوتین کی ملاقات توقعات اور امیدوں کے سائے میں
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتین جمعہ 24 اگست (15 اگست) کو امریکی ریاست الاسکا کے شہر اینکریج میں واقع ایئربیس المندورف-ریچرڈسن میں ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ ملاقات روس اور یوکرین کی تین سالہ جنگ کے بعد براہِ راست مذاکرات کا پہلا بڑا موقع ہے۔
یہ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد روسی صدر سے پہلی آمنے سامنے ملاقات ہے۔ تاہم اس عمل میں سب سے نمایاں غیر موجود شخصیت یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی ہیں۔
گزشتہ سات ماہ میں ٹرمپ اور پوتین کے درمیان چھ مرتبہ ٹیلیفونک گفتگو ہوچکی ہے اور اس سے قبل سعودی عرب اور ترکی میں بھی مذاکراتی کوششیں کی گئی تھیں۔ مگر وائٹ ہاؤس نے اس ملاقات کی توقعاaت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے اور اسے صرف خیالات کے تبادلے کا موقع قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنما ممکنہ جنگ بندی پر براہِ راست بات کریں گے اور کامیابی کی صورت میں زیلنسکی کو بھی آئندہ مذاکرات میں شامل کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے ملاقات سے قبل کہا میں یہاں آیا ہوں تاکہ ہزاروں جانیں بچائی جا سکیں۔ اگر روس نے جنگ ختم نہ کی تو اسے سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔” تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ پوتین کو مکمل طور پر قائل نہیں کر سکتے کہ وہ شہریوں پر حملے روک دے۔
وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ امریکی صدر کے پاس "بہت سے ہتھیار” ہیں جن میں نئی پابندیاں بھی شامل ہیں، جو ضرورت پڑنے پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ممکنہ امن معاہدے کے لیے زمین کا تبادلہ ایک آپشن ہوسکتا ہے، لیکن یہ فیصلہ روس اور یوکرین کے ہاتھ میں ہے۔ ذرائع کے مطابق روس مشرقی یوکرین کے بڑے حصوں پر کنٹرول رکھنے اور ان کی بین الاقوامی حیثیت تسلیم کروانے کی شرط رکھتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امن معاہدے کے لیے سکیورٹی گارنٹیز اور سرحدی تنازعات پر بات کرنا ضروری ہوگا اور یہ عمل وقت طلب ہے۔
الاسکا مذاکرات میں ٹرمپ کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر خزانہ اسکاٹ بسنت اور خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکاف شامل ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اس ٹیم کی شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
یورپی رہنماؤں نے اس ملاقات پر اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ بعض حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اب بھی پوتین کے اثر میں آسکتے ہیں، حالانکہ اس بار وہ 2018 کی ہیلسنکی ملاقات کے مقابلے میں زیادہ تیار نظر آتے ہیں۔
ایک یورپی عہدیدار کے مطابق "پوتین ایک بہت ماہر مذاکرات کار ہیں اور اگر ٹرمپ کمرۂ ملاقات میں تنہا ہوئے تو یہ ایک کمزوری ثابت ہوسکتی ہے۔”
مشرقی یوکرین کے علاقے اب بھی سب سے بڑا تنازع ہیں۔ جنگ کے تباہ کن اثرات اور عالمی دباؤ اس کے فوری خاتمے کا تقاضا کر رہے ہیں۔ الاسکا ملاقات کو امن کی سمت ایک ممکنہ اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے، لیکن اس کے نتائج کا دارومدار دونوں فریقین کی لچک اور بین الاقوامی حمایت پر ہوگا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
حماس اور جہاد اسلامی کو خریدا نہیں جاسکتا:صیہونی ذرائع
?️ 16 دسمبر 2021سچ خبریں:اسرائیلی فوج کے اعلیٰ ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ حماس
دسمبر
شام کی ایک اور کامیابی
?️ 17 جون 2023سچ خبریں:شام کے وزیر خزانہ نے اپنے ملک کے برکس اور شنگھائی
جون
فیصل واڈا کیس میں تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہوئی، نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں
?️ 6 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فیصل
اکتوبر
پنجاب حکومت نے مساجد میں داخلے پر پابندی لگا دی
?️ 14 اپریل 2021لاہور (سچ خبریں) کورونا وائرس وجہ سے محکمہ صحت نےنوٹی فکیشن بھی
اپریل
امریکی خارجہ پالیسی دنیا میں تناؤ کا باعث:روس
?️ 28 اگست 2022سچ خبریں:روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ بیرون ملک امریکی
اگست
سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ وفاقی وزیر مواصلات
?️ 8 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے
اکتوبر
غیر ملکی میڈیا ایران کی جعلی تصویر بنانے کی کوشش کیوں کر رہی ہے؟
?️ 10 دسمبر 2025سچ خبریں: اکیسویں صدی میں جنگوں اور امن کے فاتحین و مغلوبین کا
دسمبر
امریکہ اور یورپ پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا: سعودی اخبار
?️ 27 فروری 2022سچ خبریں: سعودی اخبار الشرق الاوسط نے روس اور یوکرین کے درمیان
فروری