امریکہ آبنائے ہرمز کو طاقت کے زور پر کیوں نہیں کھول سکتا؟ الجزیرہ کی تفصیلی رپورٹ 

آبنائے ہرمز

?️

سچ خبریں:الجزیرہ کی ایک جامع رپورٹ میں واشنگٹن کے اس دعوے پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں ایک محفوظ گذرگاہ قائم کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی وسیع فائر پاور، سمندری بارودی سرنگوں کا جال اور آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول امریکی تحرکات کے لیے بڑے خدشات پیدا کرتا ہے۔

الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں واشنگٹن کے اس دعوے پر سوال اٹھایا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں ایک محفوظ گذرگاہ قائم کر سکے گا۔ رپورٹ کے مطابق ایران اس تنگے میں وسیع پیمانے پر فائر کوریج رکھتا ہے اور امریکہ کے کسی بھی اقدام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات کے دوران، جبکہ خود امریکی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے، اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اس تنگے میں ایک ’’محفوظ گذرگاہ‘‘ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

شیماء بوعلام کی تیار کردہ اس رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن شدید خطرات سے بھرپور ہوگا۔ آبنائے ہرمز کے موجودہ حالات اور ایران کی جانب سے کسی بھی غیرمنظور شدہ بحری آمدورفت کو روکنے کے لیے ممکنہ فوجی اقدامات نے واشنگٹن کے لیے صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے نصب کی گئی بحری بارودی سرنگیں اور وہ فائر پاور جو ایرانی فورسز نے اس تنگے کے اردگرد پھیلا رکھی ہے، جہاں سے روزانہ دنیا کی توانائی کی ایک تہائی مقدار گزرتی ہے، امریکہ کی کسی بھی پیش قدمی کو بے حد دشوار بناتی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹر نے کہا کہ اگر امریکہ آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ کھولنے کے اپنے منصوبے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو اسے سب سے پہلے ایک انتہائی پیچیدہ انٹیلیجنس آپریشن شروع کرنا ہوگا تاکہ ایرانی میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز، تیز رفتار کشتیوں اور سب سے خطرناک سمجھی جانے والی بحری بارودی سرنگوں کے مقامات کی نشاندہی کی جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق اس پیچیدہ آپریشن کے اشارے اس وقت ملے جب امریکی وزیر دفاع پِیٹ ہگسٹ نے اعلان کیا کہ فرانک پیٹرسن اور مائیکل مورفی نامی امریکی ڈسٹرائر آبنائے ہرمز کی جانب روانہ ہو گئے ہیں، جس کا مقصد بحری قرنطینہ کا ایک علاقہ قائم کرنا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق امریکہ ’’راستوں کی صفائی‘‘ کی حکمت عملی اختیار کرے گا، یعنی ابتدائی مرحلے میں وہ پورے تنگے کی صفائی نہیں کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کی اس حکمت عملی کا محور یہ ہے کہ پہلے ایک مخصوص چوڑائی کا محفوظ راستہ بنایا جائے، جس کے خطرات سے پاک ہونے کی تصدیق کے بعد اسے فضائی نگرانی کے ذریعے محفوظ رکھا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مخصوص طیارے تیز رفتار ایرانی کشتیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال ہوں گے۔

خطرناک ترین ہتھیار 

الجزیرہ کی رپورٹر نے بتایا کہ بحری بارودی سرنگیں، جن کی ایران کے پاس مختلف اقسام موجود ہیں، امریکہ کے اس مشن کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہیں، کیونکہ نہ تو یہ عام نظر آتی ہیں اور نہ ہی ان کا کھوج لگانا آسان ہوتا ہے۔ بعض سطح سمندر پر تیرتی ہیں، کچھ پانی کے نیچے چھپی ہوتی ہیں۔

ایران کے پاس موجود سرنگوں کی اقسام :

سرگرداں تیرتی بارودی سرنگیں، جو پانی کے بہاؤ کے ساتھ حرکت کرتی ہیں اور جہاز سے ٹکرانے پر پھٹ جاتی ہیں۔

تماسی تیرتی سرنگیں، جو پانی کی سطح پر تیرتی رہتی ہیں اور جہاز کے لگتے ہی دھماکہ کرتی ہیں۔

تماسی بارودی سرنگیں جو کیبلز کے ذریعے سمندر کی تہہ سے بندھی ہوتی ہیں۔

کف‌خیز سرنگیں، جو سمندر کی تہہ میں نصب کی جاتی ہیں، کم گہرائی والے پانیوں کے لیے موزوں ہوتی ہیں اور مقناطیسی فیوز سے چلتی ہیں۔

اژدری سرنگیں، جو سب سے زیادہ جدید تصور کی جاتی ہیں اور ہدف کا پتا چلتے ہی اس کی سمت بڑھتی ہیں۔

خود دفن ہونے والی سرنگیں، جو رسوبات کے نیچے چھپ جاتی ہیں اور ان کی کھوج لگانا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مارچ تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ایران کے پاس تقریباً چھ ہزار بحری بارودی سرنگیں اور سیکڑوں تیز رفتار کشتیاں موجود ہیں، جو اسے آبنائے ہرمز میں برق رفتاری سے سرنگیں بچھانے کی صلاحیت دیتی ہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کے بیشتر جنگی جہاز تباہ کر دیے ہیں، لیکن اصل نقصان کا اندازہ واضح نہیں۔

الجزیرہ نے مزید کہا کہ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے مائن سویپرز ناگزیر ہیں۔ یہ ایسے تیار کیے گئے ہوتے ہیں کہ سرنگوں کے لیے تقریباً ’’غیر مرئی‘‘ ہوں، یعنی ان کا مقناطیسی اثر بہت کم ہوتا ہے اور ان کی آواز بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے تاکہ صوتی سرنگوں کو متحرک ہونے سے روکا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق یہ مائن سویپرز شیشے یا غیر فلزی مادوں کے جسم پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان کا پہلا کام سونار کے ذریعے زیرِ آب سرنگوں کا پتا لگانا ہوتا ہے، اس کے بعد ان کی درجہ بندی کی جاتی ہے کہ وہ صوتی، مقناطیسی یا دباؤ سے چلنے والی ہیں، اور آخر میں سب سے خطرناک مرحلہ سرنگ کو ناکارہ بنانے یا دھماکے سے اڑا دینے کا ہوتا ہے، جو زیرِ آب ریموٹ کنٹرول روبوٹ یا ماہر غوطہ خور انجام دیتے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹر کے مطابق امریکی فورسز اس مشن میں متعدد خطرات کا سامنا کریں گی، کیونکہ آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ کھولنے کے لیے بیس سے زیادہ مائن سویپرز، کمانڈ اور سپورٹ جہازوں اور زیرِ آب رباتی نظاموں کی ضرورت پڑے گی۔ پچاس سے سو سرنگوں کی صفائی میں کئی دن لگ سکتے ہیں، جبکہ چھوٹی سرنگوں کی صفائی میں تقریباً دو ماہ لگ سکتے ہیں، لہٰذا سینکڑوں سرنگوں سے نمٹنے میں کئی ماہ لگ جانا ممکن ہے۔

رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی ہم آہنگی نہ ہو تو آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں کے کچھ حصے ممکنہ طور پر تصادم کے علاقے بن سکتے ہیں، کیونکہ یہ تنگ علاقہ کسی بھی فوجی نقل و حرکت کو آسان اور واضح ہدف بنا سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ پر بین الاقوامی قبضے اور ٹونی بلیئر کی صدارت کا کیا منصوبہ ہے؟

?️ 28 ستمبر 2025سچ خبریں: جیسے جیسے صہیونی ریاست غزہ میں اپنا نسل کشی مہم

مشرقی خان یونس پر صیہونی بمباری/غزہ کے 3 ہسپتالوں کی خطرناک صورتحال

?️ 17 نومبر 2023 سچ خبریں: خبر رساں ذرائع نے صہیونی فوج کے حملوں کے

حزب اللہ نے حیفا پر میزائل حملہ کرکے اسرائیل کو کیا پیغام دیا ہے؟

?️ 13 جون 2024سچ خبریں: غزہ میں صہیونی فوج کی شکست اور اس حکومت کے

کولمبیا کا امریکہ پر الزام

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں:کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے امریکہ پر الزام لگایا ہے

این ایف سی فارمولا تبدیل کے بغیر وفاق اضافی فنڈز کیسے استعمال کرسکتا ہے؟ سپریم کورٹ

?️ 13 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ آئینی بینچ میں زیر سماعت سپر

خواتین کو وراثت سے محروم کرنیوالی رسومات کی کوئی شرعی اور قانونی حیثیت نہیں، وفاقی شریعت کورٹ

?️ 20 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی شرعی عدالت نے اپنے تاریخی فیصلے میں

کویتی حکومت مستعفی

?️ 5 اپریل 2022سچ خبریں:میڈیا ذرائع کے مطابق کویت کے وزیراعظم نے سرکاری طور پر

10 یورپی ممالک کا فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری روکنے کا مطالبہ

?️ 27 مئی 2023سچ خبریں:10 یورپی ممالک نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے