نیٹو اور یورپ نے ایران جنگ میں امریکہ کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟

ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد امریکہ اور نیٹو کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، یورپی ممالک نے جنگ میں شامل ہونے سے انکار

?️

سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد امریکہ اور نیٹو کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، یورپی ممالک نے جنگ میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے اس اقدام کو واشنگٹن کا یکطرفہ منصوبہ قرار دیا۔

ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی فوجی کارروائی نے جہاں خطے میں ایک نئی جنگی صورتحال کو جنم دیا، وہیں اس نے امریکہ اور نیٹو کے درمیان موجود گہرے اختلافات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

تقریباً چار ہفتوں سے جاری اس جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ یہ صرف ایک عسکری محاذ آرائی نہیں بلکہ مغربی اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی دراڑ کا بھی مظہر ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو توقع تھی کہ نیٹو کے رکن ممالک اس جنگ میں اس کا ساتھ دیں گے، تاہم یورپی اتحادیوں کی جانب سے براہِ راست شرکت سے انکار کے بعد انہوں نے اس رویے کو انتہائی احمقانہ غلطی قرار دیا اور اپنے اتحادیوں کو بزدل تک کہہ دیا، جبکہ حالیہ بیانات میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیٹو ممالک نے اس جنگ میں بالکل کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

یہ سخت بیانات دراصل اس پرانے تناؤ کا تسلسل ہیں جس میں ٹرمپ مسلسل یورپی ممالک پر دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ زیادہ اخراجات برداشت کریں اور امریکہ کی پالیسیوں کی پیروی کریں۔

تاہم ایران کے معاملے نے یہ واضح کر دیا کہ جب ایک مہنگی اور غیر یقینی جنگ میں شامل ہونے کا سوال ہو تو یورپ اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ یورپی ممالک نے اس جنگ کو نہ تو نیٹو کے اجتماعی دفاع کے دائرے میں سمجھا، نہ ہی اس کے اہداف یا نتائج کے حوالے سے خود کو قائل پایا۔

یورپی دارالحکومتوں کا مؤقف تھا کہ یہ جنگ نہ تو نیٹو کے آرٹیکل 5 کے تحت آتی ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں کسی اجتماعی مشاورت کے ذریعے فیصلہ کیا گیا، اسی لیے اسے ایک مشترکہ ذمہ داری کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اسی تناظر میں یورپی رہنماؤں کے بیانات بھی سامنے آئے۔ جرمنی نے واضح کیا کہ اس آپریشن کی کامیابی کے حوالے سے کوئی قابلِ اعتماد منصوبہ پیش نہیں کیا گیا، جبکہ فرانس نے اعلان کیا کہ وہ اس تنازع کا فریق نہیں اور آبنائے ہرمز سے متعلق کسی فوجی کارروائی میں شریک نہیں ہوگا۔ اسپین نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے اس جنگ کو غیر قانونی قرار دیا اور کسی بھی فوجی مشن میں شرکت سے انکار کر دیا۔

ادھر نیٹو کی سطح پر بھی اس جنگ کو اتحاد کا حصہ بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آئی۔ اتحاد کی قیادت نے واضح کیا کہ آرٹیکل 5 کو فعال کرنے پر کوئی غور نہیں ہو رہا، جس کا مطلب یہ تھا کہ اس جنگ کو نیٹو کی اجتماعی ذمہ داری نہیں بنایا جائے گا۔

یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ ایک ایسے جنگی منصوبے کو اتحادی رنگ دینا چاہتا تھا جس میں یورپ نہ شامل تھا، نہ قائل اور نہ ہی اس کے نتائج کا بوجھ اٹھانے کو تیار تھا۔

دوسری جانب، اس جنگ نے یورپ میں سیکیورٹی خودمختاری کے تصور کو مزید تقویت دی ہے۔ یورپی ممالک اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ امریکہ خصوصاً ٹرمپ کے دور میں بغیر مؤثر مشاورت کے جنگی فیصلے کر سکتا ہے اور بعد میں اتحادیوں سے ان کی قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

اسی تناظر میں یورپ نے اس جنگ سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنی سلامتی کو ایسے غیر یقینی تنازعات سے وابستہ نہیں کرنا چاہتا جو براہِ راست اس کے مفاد میں نہ ہوں۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ نے یورپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ برسوں میں نیٹو کے دفاعی بوجھ کا بڑا حصہ خود اٹھائے، جس نے یورپی ممالک میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے اور انہیں اپنی دفاعی خودمختاری کی طرف مائل کیا ہے۔

اس اختلاف کے اثرات آبنائے ہرمز کی سلامتی پر بھی واضح نظر آ رہے ہیں۔ نیٹو کے اجتماعی مؤقف کی عدم موجودگی میں امریکہ کو محدود اور عارضی اتحادوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے اس کی عالمی قیادت کی صلاحیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، ایران کے خلاف یہ جنگ امریکہ کے لیے اتحاد کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کرنے کا سبب بنی ہے۔ اب نیٹو بظاہر تو قائم ہے، لیکن عملی طور پر یہ ایک ایسا اتحاد بنتا جا رہا ہے جہاں ممالک صرف محدود اور اپنے مفادات کے مطابق تعاون کرتے ہیں، نہ کہ ہر امریکی جنگ میں شریک ہوتے ہیں۔

یوں ایران کا معاملہ اس بڑی حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ یورپ اب امریکہ کی ہر پالیسی کی خودکار پیروی کے لیے تیار نہیں، اور یہی رجحان مستقبل میں مغربی اتحاد کی نوعیت کو بنیادی طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

برطانیہ میں فلسطین حامیوں کے اثر و رسوخ اور سیاسی دباؤ پر صہیونی میڈیا کی تشویش

?️ 18 مئی 2026سچ خبریں:صہیونی اخبار یدیعوت احرونٹ نے برطانیہ میں فلسطین حامی عوامی رجحان

ابو عبداللہ خطرہ کا تل ابیب کے لیے صالح العروری سے کم نہیں تھا

?️ 28 نومبر 2024سچ خبریں: شہداء زندہ ہیں، یہ پیارے معاشرے کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی

ہم جنوب سے شمالی شام تک راہداری نہیں بننے دیں گے: اردگان

?️ 18 جولائی 2025سچ خبریں: جب طیب اردوغان نے جمعرات کی شام کابینہ اجلاس کے

دن رات بمباری، رات دن قتل عام

?️ 26 اکتوبر 2023سچ خبریں: گذشتہ رات اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے مختلف

ترک پریس: یہ غزہ نہیں، یہ تل ابیب ہے!

?️ 16 جون 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت پر ایران کے طاقتور حملوں نے ترکی کے

برطانیہ میں پولیس کے اختیارات میں اضافے کے خلاف ایک بار پھر شدید مظاہرے شروع ہوگئے

?️ 3 مئی 2021لندن (سچ خبریں) برطانیہ میں پولیس کے اختیارات میں اضافے کے خلاف

کورونا: اسد عمر نے سخت پابندیاں لگانے کا انتباہ دے دیا

?️ 18 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں  تیزی سےاضافہ

حکومت آئی پی پیزسے متعلق حقیقی اقدامات نہیں کررہی،مفتاح اسماعیل

?️ 23 ستمبر 2024کراچی: (سچ خبریں) عوام پاکستان پارٹی کے رہنماء مفتاح اسماعیل نے کہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے