امریکہ نے ایران پر حملہ کیوں کیا؟

?️

سچ خبریں:امریکی حملہ ایران کی جوہری تنصیبات پر ایک ناکام اور نمائشی کارروائی ثابت ہوا، رپورٹ میں ٹرمپ کے حملے کے پیچھے 7 اہم مقاصد اور محرکات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

المیادین نیوز چینل نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کا ایران پر حالیہ حملہ، جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا، تین جوہری تنصیبات کی مکمل تباہی نہیں بلکہ ایک سیاسی شو اور نمائشی حملہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو تباہ کرنے کے لیے یہ ایک بڑی "فوجی کامیابی” ہے، جبکہ زمینی حقائق اور آزاد ذرائع اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملے میں استعمال ہونے والے B-2 بمبار طیاروں اور ٹوماہاک میزائلوں نے صرف بیرونی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، جبکہ زیرِ زمین جوہری تنصیبات محفوظ رہیں۔
فوردو جیسے حساس مقامات سے موصولہ ویڈیوز میں نہ کوئی بڑی تباہی دکھائی دی، نہ ہی شہری علاقوں میں کوئی غیر معمولی صورتحال۔
ایران کی تیاری:
ایرانی ذرائع کے مطابق، جوہری مواد اور سینٹری فیوجز کو حملے سے پہلے ہی خفیہ و محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
ٹرمپ کے حملے کے سات بڑے محرکات:
1. اسرائیلی حملے کی ناکامی کا تدارک:
   ایران نے اسرائیلی حملے کے بعد نہ صرف توازن بحال کیا بلکہ جارحانہ جوابی کارروائی میں بھی کامیاب رہا۔
2. ایران کی مزاحمت:
   ٹرمپ کے دھمکیوں کے باوجود ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔
3. ایرانی حملوں کی مؤثر کارکردگی:
   ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے اسرائیلی حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور صہیونی دفاعی نظام کی کمزوری ظاہر کر دی۔
4. اف-35 اور دیگر امریکی جنگی جہازوں کے خلاف ایرانی دفاع:
   ایرانی فضائی دفاعی نظام نے دشمن کے جدید ترین جنگی جہازوں کو بھی گرانے کی صلاحیت دکھائی۔
5. امریکی-اسرائیلی حکومت کا اندرونی بحران:
   ایران میں امریکی-اسرائیلی نیٹ ورکس کی ناکامی اور ایرانی عوام کی حمایت نے ان کے اندرونی منصوبے ناکام بنا دیے۔
6. خطے میں ایران کی فتح سے خوف:
   ایران کی برتری خطے میں طاقت کے توازن کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتی ہے جس کا امریکہ اور اسرائیل کو شدید اندیشہ ہے۔
7. نیتن یاہو اور صہیونی لابی کا دباؤ:
   نیتن یاہو کی ذاتی مداخلت اور امریکی صہیونی لابی کی بھرپور کوششوں نے امریکہ کو فوجی کارروائی پر آمادہ کیا۔
ٹرمپ کا سیاسی مقصد اور ایران کے آپشنز
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کو فوجی کامیابی کا یقین نہیں تھا، بلکہ وہ محض داخلی دباؤ اور سیاسی بند گلی سے نکلنے کے لیے "عملی کارروائی” کا تاثر دینا چاہتے تھے۔
المیادین نے لکھا ہے کہ ایران کے پاس متعدد عسکری و سفارتی آپشنز موجود ہیں:
 وہ حملاتِ جوابی کی لہر شروع کر چکا ہے۔
 ایران بین الاقوامی جوہری اداروں کے ساتھ تعلقات پر بھی نظرِ ثانی کر سکتا ہے۔
حالانکہ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ ردعمل کی صورت میں تناؤ بڑھایا جائے گا، لیکن پسِ پردہ وہ اپنے اتحادیوں کو مذاکرات اور سیاسی حل کی راہ اپنانے کی ہدایت دے چکے ہیں۔
رپورٹ کا اختتام اس نوٹ پر ہوا کہ ٹرمپ جلد ہی یہ احساس کر لیں گے کہ ان کا یہ حملہ امریکی عوام، عالمی رائے عامہ اور میدانِ جنگ کی صورتحال کو مزید خراب کر چکا ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ نے فوج اور جنگی بحری جہاز وینزویلا کے ساحل قریب کیوں  تعینات  کیے ہیں؟

?️ 31 اگست 2025امریکہ نے فوج اور جنگی بحری جہاز وینزویلا کے ساحل قریب کیوں 

وفاقی وزرا نے ’اڑان پاکستان‘ منصوبہ ملکی ترقی کیلئے ناگزیر قرار دے دیا

?️ 31 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزرا نے ’اڑان پاکستان‘ منصوبے کو ملکی

برطانوی ڈاکٹر کی غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی دردناک کہانی

?️ 3 اگست 2025برطانوی ڈاکٹر کی غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی دردناک کہانی

سیاسی طور پر اپوزیشن کی شکست میں ایک اور اضافہ ہوا ہے

?️ 28 جنوری 2022لاہور (سچ خبریں) لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر

والد اپنی بیوی کیلئے لبرل اور بیٹیوں کیلئے سخت قدامت پسند تھے، اسما عباس

?️ 17 مارچ 2024کراچی: (سچ خبریں) سینئر اداکارہ اسما عباس نے کہا ہے کہ ان

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، نور ولی کے نائب سمیت 4 دہشتگرد ہلاک

?️ 30 اکتوبر 2025ضلع باجوڑ: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک-افغان بارڈر پر

بہت ہوگیا! قانون اپنا راستہ بنائے گا، لاڈلے کو ملک سے کھلواڑ نہیں کرنے دیا جائے گا، وزیراعظم

?️ 28 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے پاکستان نے عالمی

ٹرمپ کی صلیبی جنگ اس بار افریقی براعظم میں تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملک نائجیریا کے خلاف ہے

?️ 2 نومبر 2025سچ خبریں: لاطینی امریکہ میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے