?️
سچ خبریں:اسپینش تھنک ٹینک پولیٹیکا ایکسٹیریئر کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی نظم کو کمزور کرنے اور ایران پر غیرقانونی حملے کے ذریعے دنیا میں انتشار پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، ادارے نے ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو غیر متوازن اور مردسالارانہ قرار دیا ہے۔
اسپین کے معروف تھنک ٹینک پولیتیکا ایکسٹیریئر نے ایک تجزیاتی مضمون میں امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی نظام کے سب سے بڑے اخلالگر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں عالمی استحکام اور اصولوں کو سخت نقصان پہنچایا، جس میں ایران پر امریکی بمباری کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
تجزیہ کار اندرس اورٹگا نے لکھا کہ ٹرمپ نے نہ صرف دنیا بھر میں افراتفری کو فروغ دیا، بلکہ مستحکم عالمی نظم کو بھی کمزور کیا، نیٹو اتحادیوں کو دباؤ میں لانا اور ایران پر حملہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو ان کے پہلے اور موجودہ دورِ صدارت میں جاری رہی۔
تحریر کے مطابق، ٹرمپ نے عالمی نظام کو تباہ کیا مگر اس کے بدلے میں کوئی نیا اور قابلِ پیش گوئی نظام نہیں دیا، موجودہ صورتحال میں یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کا انجام کیا ہوگا، تاہم ماہرین کے خیال میں ان کا نتیجہ مزید انتشار اور عدم استحکام ہی ہوگا۔
یورپ کے لیے بھی ٹرمپ ایک بڑا امتحان بن چکے ہیں، کئی یورپی لیڈر اس وہم میں مبتلا ہیں کہ شاید ٹرمپ کا دور جلد گزر جائے، اس لیے وہ فی الحال ان سے بنا کر چلنا چاہتے ہیں۔
تھنک ٹینک نے لکھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ حملہ عالمی سطح پر طاقت کے استعمال کے قوانین کے ٹوٹنے اور انتشار کی ایک واضح مثال ہے، فارن پالیسی کی تجزیہ نگار آلیس لاسمن کے مطابق یہ کارروائی مردسالارانہ خارجہ پالیسی کا مظہر اور امریکی داخلی بحران کا خارجی اظہار ہے، اس کے علاوہ یہ حملہ این پی ٹی (ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدہ) کی روح کے بھی منافی ہے، جس کے دونوں فریق (امریکہ اور ایران) رکن ہیں، جبکہ اسرائیل اس کا حصہ نہیں مگر ایٹمی طاقت ہے۔
ادارے کے مطابق، یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو اس پر حملہ نہ کیا جاتا، اسی طرح یوکرین پر بھی روس نے حملہ نہ کیا ہوتا۔ لہذا مستقبل میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔
یاد دہانی کرائی گئی کہ ایران کا ایٹمی پروگرام خود واشنگٹن کی ایٹم برائے امن پالیسی کے تحت 1957ء میں شاہ ایران کے دور میں شروع ہوا، اور 1967ء میں تہران ریسرچ سنٹر کا قیام عمل میں آیا۔
تھنک ٹینک کے مطابق، امریکہ اکثر اپنی ہی پیدا کی گئی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایٹمی توانائی ایران کی قومی شناخت کا حصہ بن چکی ہے۔
تجزیہ کار نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ٹرمپ نے صرف اسرائیلی وزیراعظم نتانیاہو سے مشاورت کے بعد ایران پر حملے کا فیصلہ کیا، جبکہ یورپی ممالک ایرانیوں کے ساتھ پرامن حل کی تلاش میں مذاکرات میں مصروف تھے۔ اس صورتحال میں یورپ کی خاموشی اور ٹرمپ کی خوشنودی کے لیے اس کے پیچھے چلنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نہ صرف عالمی اداروں اور معاہدوں (پیرس ماحولیاتی معاہدہ، ایران نیوکلیئر ڈیل، یونیسکو، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن وغیرہ) سے امریکہ کو الگ کیا بلکہ نیٹو کی ساکھ بھی کمزور کر دی، انہوں نے اقوام متحدہ کے اداروں کی فنڈنگ روکنے اور عالمی ترقیاتی اہداف کی مخالفت جیسے اقدامات بھی کیے۔
تھنک ٹینک نے کہا کہ ٹرمپ کا مقصد ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور عالمی نظام کو اپنے مفادات کے مطابق توڑنا ہے، ان کی پالیسیوں سے واضح ہے کہ امریکہ تقریباً ہر جنگ میں چاہے وہ قانونی ہو یا غیرقانونی شکست یا کم از کم ناکامی کا شکار رہا ہے۔
مزید پڑھیں:امریکہ اسرائیلی جارحیت میں شریک ہے، جس مقام سے حملہ ہوگا اسی جگہ جواب دیں گے، ایرانی سفیر
تجزیہ کے آخر میں قلمکار نے کہا کہ امریکہ کے پاس اگرچہ طاقت بہت ہے، مگر عالمی قیادت کے لیے تاریخی اور ثقافتی وژن کی کمی ہے۔ ان کے مطابق، امریکہ اپنے لیے تو مضبوط ہے مگر انسانیت کے لیے نہیں، اور یورپ سے اس کی وابستگی کمزور ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
وزیراعظم کا نوشہرہ کی صورتحال کا جائزہ
?️ 29 اگست 2022نوشہرہ: (سچ خبریں)دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی سطح
اگست
مشرق وسطیٰ کے نئے آرڈر میں سعودی عرب کا کردار
?️ 18 نومبر 2025سچ خبریں: سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا 18
نومبر
بھارت کے ساتھ ایٹمی جنگ کا امکان نہیں:خواجہ آصف
?️ 28 اپریل 2025 سچ خبریں:وزیر دفاع پاکستان خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت
اپریل
مسئلہ فلسطین اور غزہ جنگ میں قطر کا کیا کردار رہا ہے؟
?️ 3 دسمبر 2023سچ خبریں: مسئلہ فلسطین میں حماس کے ساتھ مواصلاتی چینل کو برقرار
دسمبر
تھائی لینڈ میں حوکمت کے خلاف شدید مظاہرے، درجنوں شہری اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے
?️ 21 مارچ 2021تھائی لینڈ (سچ خبریں) تھائی لینڈ میں شاہی محل کے قریب حکومت
مارچ
روس کے خلاف پابندیوں کی امریکی جنگ،کون جیتا کون ہارا؟
?️ 12 اگست 2023سچ خبریں: امریکہ میں روس کے سفیر نے ماسکو کے خلاف واشنگٹن
اگست
گیلنٹ کی برطرفی کی وجوہات
?️ 7 نومبر 2024سچ خبریں: اگرچہ امریکی انتخابات صیہونی حکومت کے پرنٹ اخبارات کی اہم
نومبر
اگر مزاحمت نہ ہوتی تو لبنان کا شام جیسا انجام ہوتا: حزب اللہ
?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں: حزب اللہ کے ایک اعلیٰ نمائندے نے حکومت سے اندرونی
اکتوبر