کیا طوفان الاقصیٰ کا فیصلہ درست تھا؟

طوفان الاقصیٰ

?️

سچ خبریں:طوفان الاقصیٰ کے 7 اکتوبر کے آپریشن سے متعلق اس سوال کا جائزہ کہ کیا یہ فیصلہ درست تھا، اور اس سے قبل فلسطین کو درپیش 5 اہم اسٹریٹجک تبدیلیوں نے حماس کو مزاحمت کے فیصلے تک کیوں پہنچایا۔

طوفان الاقصیٰ آپریشن شروع کرنے کا اسٹریٹجک فیصلہ خطے میں فلسطینی مفادات کے خلاف ہونے والی 5 اہم اسٹریٹجک تبدیلیوں میں تیزی آنے کے نتیجے میں کیا گیا، جن کے مقابلے میں مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔

طوفان الاقصیٰ آپریشن کے 3 سال بعد غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی اور نقصانات دیکھنے کو مل رہے ہیں، جس کا تصور 7 اکتوبر سے پہلے شاید ہی کسی نے کیا ہو۔ اس حقیقت کے پیش نظر بعض بین الاقوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آپریشن 7 اکتوبر کے بعد پیدا ہونے والے تباہ کن نتائج کو دیکھتے ہوئے کیا یہ کارروائی عقل مندانہ فیصلہ تھی؟

طوفان الاقصیٰ سے پہلے کی اسٹریٹجک صورتحال

فلسطینی تجزیہ کار سامی العریان نے المیادین نیوز چینل میں شائع ہونے والے اپنے تجزیہ میں لکھا ہے کہ طوفان الاقصیٰ آپریشن سے قبل فلسطینی محاذ پر 5 اہم اسٹریٹجک تبدیلیاں واضح طور پر سامنے آ رہی تھیں:

  • غزہ کا محاصرہ
  • مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کی تیز رفتار توسیع
  • قدس اور مسجد الاقصیٰ پر بڑھتا ہوا تنازع
  • صیہونی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی صورتحال
  • عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل اور سعودی عرب و اسرائیل کے درمیان ممکنہ معاہدے کے امکانات

مجموعی طور پر ان تبدیلیوں سے ایک بنیادی نتیجہ سامنے آتا تھا کہ وقت فلسطینی مزاحمت کے حق میں نہیں تھا۔

2023 تک غزہ کا محاصرہ 16 سال سے زیادہ عرصے سے جاری تھا۔ 2.2 ملین سے زائد فلسطینی ایک مختصر ساحلی پٹی میں محصور تھے اور نقل و حرکت، تجارت اور اقتصادی و سماجی زندگی پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔

موجودہ جنگ سے پہلے بھی غزہ میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 44 فیصد تک پہنچ چکی تھی، جبکہ نوجوانوں میں بے روزگاری 60 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی اور تقریباً 1.2 ملین افراد غذائی امداد کے محتاج تھے۔

حماس کو درپیش اسٹریٹجک مسئلہ

حماس ایک اہم اسٹریٹجک مسئلے سے دوچار تھی۔ وہ غزہ کا انتظام سنبھال رہی تھی، لیکن محاصرہ ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔

وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں سے اسرائیل کو کچھ قیمت ضرور ادا کرنا پڑتی تھی، لیکن بنیادی صورتحال تبدیل نہیں ہو رہی تھی۔ تباہی کے بعد محدود پیمانے پر تعمیر نو ہوتی، مذاکرات کے نتیجے میں عارضی طور پر کشیدگی کم ہوتی، لیکن محاصرہ بدستور برقرار رہتا۔

دوسری جانب صیہونی بستیوں کی مسلسل توسیع فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے باقی رہ جانے والی جغرافیائی بنیاد کو بتدریج ختم کر رہی تھی۔

2023 تک مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی قدس، میں تقریباً 750000 صیہونی آبادکار رہ رہے تھے۔ 2022 کے اواخر میں بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے تشکیل دی گئی حکومت نے بتسلئیل اسموٹریچ جیسے افراد کو مغربی کنارے پر غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔

ایسے حالات میں اسٹریٹجک صبر بالآخر اسٹریٹجک مفلوجی میں تبدیل ہوسکتا تھا۔

مسجد الاقصیٰ اور قدس کا مسئلہ

اس کے علاوہ قدس اور مسجد الاقصیٰ کا مسئلہ بھی موجود تھا۔

مئی 2021 میں ہونے والی سیف القدس جھڑپوں نے ظاہر کیا کہ مسجد الاقصیٰ فلسطینیوں کو جغرافیائی اور سیاسی تقسیم سے بالاتر ہوکر متحرک کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں بھی اس مسئلے کی شدید حساسیت موجود ہے۔

2022 اور 2023 کے واقعات نے حماس کے خدشات میں مزید اضافہ کیا۔ مسجد الاقصیٰ پر بار بار دھاوے، نمازیوں کے ساتھ جھڑپیں اور صیہونی انتہا پسند حلقوں کی جانب سے مسجد الاقصیٰ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے مطالبات نے شدید تشویش پیدا کردی تھی۔

فلسطینی قیدیوں کا مسئلہ

فلسطینی قیدی بھی ایک اہم اسٹریٹجک مسئلہ تھے۔

7 اکتوبر سے قبل صیہونی جیلوں میں 5000 سے زائد فلسطینی قید تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ ان میں سے 1200 سے زائد افراد بغیر کسی الزام یا فردِ جرم کے حراست میں رکھے گئے تھے۔

ایتمار بن گوئر کے قومی سلامتی کے وزیر بننے کے کچھ ہی عرصے بعد فلسطینی قیدیوں پر سخت پابندیاں مزید بڑھا دی گئیں۔

اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کی معمول پر آتی ہوئی تعلقات

آخر میں عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کا خطرہ بھی موجود تھا۔

2023 تک حماس کو خدشہ بڑھتا جا رہا تھا کہ خطے میں ایسی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی مسئلہ مکمل طور پر پس منظر میں چلا جائے۔

تعلقات معمول پر لانے کے معاہدوں نے یہ ثابت کردیا تھا کہ عرب حکومتیں فلسطینی مسئلے کے حل کے بغیر بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لاسکتی ہیں۔

نیتن یاہو کا فلسطین کے بغیر مشرق وسطیٰ کا تصور

7 اکتوبر سے صرف 2 ہفتے قبل بنیامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نئے مشرق وسطیٰ کے اپنے تصور کو پیش کیا تھا۔

یہ تصور اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات معمول پر لانے اور ایک ایسے اقتصادی کوریڈور پر مبنی تھا جو ایشیا کو اس خطے کے ذریعے یورپ سے منسلک کرے۔

نیتن یاہو کی جانب سے دکھائے گئے نقشے میں عملی طور پر تاریخی فلسطین کو اسرائیل کے طور پر دکھایا گیا تھا اور فلسطینی ریاست کے لیے کوئی جگہ نہیں رکھی گئی تھی۔

اس طرح طوفان الاقصیٰ آپریشن سیاسی اور اسٹریٹجک حساب کتاب اور ایک ایسی اسٹریٹجک صورتحال کا نتیجہ تھا جس میں فلسطینی مسئلہ شدید خطرے سے دوچار ہوچکا تھا۔

تجزیہ کار سامی العریان کا کہنا ہے کہ کسی فیصلے کی درستگی کا اندازہ اس فیصلے سے پہلے کے حالات کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے، نہ کہ اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں نسل کشی اور تباہی کی ذمہ داری صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں پر عائد ہوتی ہے۔

کیا حماس کے پاس طوفان الاقصیٰ کے علاوہ کوئی راستہ تھا؟

حماس کے پاس متبادل راستے موجود تھے اور یحییٰ سنوار پہلے ہی ان میں سے بعض کو آزما چکے تھے۔

2017 میں غزہ کی قیادت سنبھالنے کے بعد انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے تجویز دی تھی کہ اگر غزہ کا محاصرہ اور پابندیاں ختم کردی جائیں تو غزہ کا انتظامی اختیار فلسطینی اتھارٹی کو واپس کردیا جائے گا۔

تاہم یہ کوشش اسرائیل اور امریکہ کی شدید مخالفت کے باعث ناکام ہوگئی۔

حماس نے مصر اور قطر کی ثالثی کے ذریعے طویل مدتی جنگ بندی کے انتظامات کی بھی کوشش کی۔

2018 اور 2019 میں غزہ کے فلسطینیوں نے عظیم واپسی مارچ کے ذریعے ایک بڑے پیمانے کی، زیادہ تر پُرامن تحریک شروع کی، لیکن اسرائیل کی جانب سے اس کا ایسا جواب دیا گیا جس کے نتیجے میں 200 سے زائد فلسطینی شہید اور دسیوں ہزار زخمی ہوئے، جن میں تقریباً ایک چوتھائی بچے تھے۔

حماس کے پاس تحمل، مزید سفارت کاری، محدود سطح پر کشیدگی میں اضافہ، اپنی فوجی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے یا صرف تنظیمی بقا کو ترجیح دینے جیسے راستے بھی موجود تھے۔

لیکن 2023 تک حماس کی قیادت ان تمام راستوں کا کئی سالہ تجربہ حاصل کرچکی تھی اور ان میں سے کوئی بھی محاصرہ ختم کرنے، بستیوں کی توسیع روکنے، مسجد الاقصیٰ کے تحفظ، ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی یا خطے میں تعلقات معمول پر لانے کے عمل کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔

طوفان الاقصیٰ کے بین الاقوامی اثرات

طوفان الاقصیٰ کے بعد فلسطینیوں کو بھاری انسانی قیمت ادا کرنا پڑی۔ کم از کم 74000 فلسطینی شہید اور 175000 سے زائد زخمی ہوئے۔ غزہ کے بیشتر باشندے بے گھر ہوچکے ہیں۔

گھروں، محلوں، جامعات، اسکولوں، اسپتالوں، مساجد اور گرجا گھروں کے علاوہ غزہ کی پٹی کے شہری بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ تباہ ہوگیا۔

تاہم تجزیہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کی ذمہ داری خود اسرائیل اور اس کے حامیوں پر عائد ہوتی ہے۔ قابض قوت کی جانب سے کیے گئے جرائم کی ذمہ داری اس کے خلاف مزاحمت کرنے والی قوت پر عائد نہیں کی جاسکتی، کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں طاقتور فریق کو ہر جرم سے بچ نکلنے کا غیر معمولی حق حاصل ہوجائے گا۔

7 اکتوبر کی کارروائی نے فلسطینی مسئلے کے حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کے عمل کو شدید دھچکا پہنچایا اور فلسطین ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آگیا۔

صیہونی قبضے، بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا عالمی سطح پر ایسا جائزہ لیا گیا جو گزشتہ کئی دہائیوں میں بے مثال تھا۔

دنیا کے مختلف حصوں میں نئی نسل نے ایسے سوالات اٹھانا شروع کیے جو صرف صیہونی پالیسیوں تک محدود نہیں تھے بلکہ صہیونیت، آبادکار نوآبادیاتی نظام، نکبہ اور فلسطینیوں پر مسلط سیاسی نظام کی نوعیت اور مفہوم تک پھیل گئے۔

اس جنگ نے مغرب کی قیادت میں قائم عالمی نظام کے اندر موجود گہرے تضادات کو بھی نمایاں کردیا۔ بین الاقوامی قانون کے دفاع کے لیے قائم اداروں کو ایسے امتحان کا سامنا کرنا پڑا جس کے اثرات فلسطین سے آگے بڑھ کر ان اداروں کی عالمی ساکھ اور قانونی حیثیت تک پہنچ گئے۔

خطے میں معمول پر آنے کا عمل رک گیا اور عالمی سطح پر فلسطین کے بارے میں سیاسی و عوامی بیانیے میں نمایاں تبدیلی آئی۔

حتمی فتح ابھی باقی ہے

غزہ نے ایسی قیمت ادا کی ہے جس کا تصور کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ فلسطینی معاشرے کو بے پناہ نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔

خطے میں طاقت کا توازن اب بھی غیر واضح ہے اور حماس، فلسطینی قومی تحریک، صیہونی وجود اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ان واقعات کے نتائج ابھی سامنے آ رہے ہیں۔

اگرچہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ 7 اکتوبر کو فلسطینی مزاحمت کی تاریخی اسٹریٹجک فتح یا اسرائیل کی تباہ کن اسٹریٹجک شکست قرار دیا جائے، تاہم تاریخ میں ایسی قوموں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے جارحیت، قبضے اور بیرونی تسلط کے خلاف جدوجہد میں بے پناہ قربانیاں دیں۔

سوویت یونین نے نازی جرمنی کو شکست دینے کے دوران 20 ملین سے زائد افراد کھوئے۔

ویتنام نے فرانسیسی استعمار اور امریکی مداخلت کے خلاف کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ میں لاکھوں افراد کی جانیں گنوائیں، اس کے بعد اسے اتحاد اور آزادی حاصل ہوئی۔

اسی طرح افغانستان نے 2021 میں امریکی افواج کے حتمی انخلا سے قبل 2 دہائیوں تک امریکی قبضے کو بھاری انسانی قیمت کے ساتھ برداشت کیا۔

مشہور خبریں۔

اسرائیلی جرنیلوں کی بے بسی: ہمیں حماس کے مطالبات ماننے چاہئیں

?️ 13 مئی 2024سچ خبریں: قابض حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور اس کی

یمنی بحران بچوں کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک:عالمی ادراہ صحت

?️ 8 فروری 2022سچ خبریں:عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ یمن کا انسانی

ٹرمپ ایران کے خلاف شکست کو فتح کے طور پر پیش کرنے پر مجبور

?️ 31 مئی 2026 سچ خبریں:وال اسٹریٹ جرنل کے چیف ایڈیٹر جیرارڈ بیکر نے کہا

امریکی میرینز کا ایک گروپ مقبوضہ فلسطین کے ساحل کے قریب

?️ 17 اکتوبر 2023سچ خبریں:فلسطینی مزاحمت کے ساتھ جنگ میں صیہونی عارضی حکومت کی حمایت

دیکھنا ہے زور کتنا بازوے قاتل میں ہے: پیوٹن

?️ 24 جولائی 2023سچ خبریں:روس کے صدر نے اس ملک میں مسلح بغاوت کے بعد

پر تشدد احتجاج: مذہبی جماعت کے منتظمین کی نشاندہی، مشتعل عناصر کی فہرست بھی تیار

?️ 15 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) مذہبی جماعت کے پرتشدد احتجاج کے منتظمین کی نشاندہی

گوادر کا نیا ایئرپورٹ: نہ جہاز نہ مسافر، بس ایک پراسراریت

?️ 23 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) لاگت کے حوالے سے پاکستان کا یہ سب

تہران میں گرفتار اٹلی کی صحافی رہا

?️ 9 جنوری 2025سچ خبریں: تہران میں گرفتار اٹلی کی صحافی نے اپنے ملک واپس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے