ٹرمپ کی 100 روزہ حکمرانی؛ تجارتی جنگ، داخلی آمریت اور بین الاقوامی انتشار

ٹرمپ کی 100 روزہ حکمرانی؛ تجارتی جنگ، داخلی آمریت اور بین الاقوامی انتشار

?️

سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے پہلے 100 دنوں میں اختیارات کا ارتکاز، تجارتی جنگوں کا آغاز، اور اتحادیوں سے محاذ آرائی نمایاں طور پر دیکھنے کو ملی ہے۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی 100 دنوں کی کارکردگی کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دور کا نچوڑ تین نکات پر مشتمل ہے:
1. وفاقی نظام کا دباؤ میں آنا
2. اتحادیوں پر سیاسی دباؤ
3. بین الاقوامی تجارتی جنگوں کا آغاز
اقتصادی حکمت عملی؛ جارحانہ تحفظ پسندی اور عوامی بےچینی
ٹرمپ نے اپنی معاشی پالیسیوں کے تحت تجارتی تحفظ پسندی کو فروغ دیا۔ چین، کینیڈا، میکسیکو اور یورپی یونین پر بھاری محصولات عائد کیے گئے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدامات روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے، مگر ییل یونیورسٹی کے مطابق ان اقدامات نے امریکی خاندانوں کی سالانہ آمدنی میں 4900 ڈالر کی کمی کی،
ایلان مسک؛ٹیکنالوجی سے اقتدار تک
ٹرمپ نے ایلون مسک کو وفاقی اختیارات میں اصلاح کے لیے شامل کیا، مسک نے وزارتِ قابلیت کا تصور پیش کیا، مگر ان کی پالیسیاں خاص طور پر سوشل سیکیورٹی پر حملے کے سبب عوامی بےچینی کا باعث بنیں۔
ہجرت کی روک تھام؛فوجی مداخلت اور پناہ گزین دشمنی
ٹرمپ نے میکسیکو سرحد پر فوجی تعیناتی کی، اور ہزاروں پناہ گزینوں کو السالوادور اور گوانتانامو بھجوا دیا۔ 1807 کے متروک قوانین کو بحال کر کے فوج کو داخلی گرفتاریوں کی اجازت دی گئی۔
عدالتی نظام پر حملے
ٹرمپ نے متعدد ججوں اور وفاقی وکلاء کو ہدف بنایا اور ان کی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کی، عدالتوں کے خلاف ان کے بیانات نے عدالتی خودمختاری پر سوالات کھڑے کیے۔
عالمی تعلقات؛ روایتی اتحاد کی شکست
ٹرمپ نے نیٹو اتحاد، عالمی ادارہ صحت، پیرس ماحولیاتی معاہدے اور دیگر عالمی تنظیموں سے علیحدگی اختیار کی۔ انہوں نے گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے، پاناما کینال پر کنٹرول اور کینیڈا کو 51ویں ریاست قرار دینے کی بات بھی کی۔
طاقت کی مرکزیت اور صدارتی آمریت
ٹرمپ نے 100 دنوں میں سابقہ پانچ صدور سے دس گنا زیادہ ایگزیکٹو آرڈرز جاری کیے، جن میں کانگریس کو مکمل نظر انداز کیا گیا۔ ڈیموکریٹ سینیٹرز نے خبردار کیا کہ یہ رویہ جمہوریت کی بجائے آمریت کی طرف لے جا رہا ہے۔
عسکری میدان میں تبدیلیاں
درجنوں اعلیٰ فوجی افسران کو برخاست کیا گیا۔ وزیر دفاع پیٹ ہگسٹ نے سول ملازمین کی بڑی تعداد کو جبری سبکدوشی کا نشانہ بنایا۔ ساتھ ہی چین کے ساتھ ممکنہ جنگ کی تیاری میں ایک ٹریلین ڈالر کا بجٹ مختص کیا گیا۔
صحت عامہ پر حملہ
ٹرمپ نے 10000 سے زائد صحت عامہ کی ملازمتیں ختم کیں، ویکسین تحقیق کو روک دیا، اور فلورائیڈ کے پانی میں شامل ہونے پر پابندی کی حمایت کی۔ وزیر صحت رابرٹ ایف کینیڈی نے بچوں کی ویکسینیشن بند کرنے کی تجویز دی، جس پر ڈاکٹروں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
ماحولیات کی پسپائی
ٹرمپ حکومت نے زغال سنگ کو 70 فیصد توانائی کا ذریعہ بنا کر صاف توانائی منصوبوں کو روک دیا۔ ماحولیاتی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ ان پالیسیوں سے درجنوں کمپنیاں ماحولیاتی قوانین سے فرار حاصل کر رہی ہیں۔
فنون و ثقافت کا زوال
جان ایف کینیڈی سینٹر اور نیشنل اینڈومنٹ فار دی آرٹس سمیت فنون لطیفہ کے اداروں کا بجٹ معطل کر دیا گیا۔ ان اداروں کے ملازمین کو بغیر تنخواہ رخصت پر بھیج دیا گیا۔
میڈیا پر دباؤ
سی بی ایس نیوز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور وائس آف امریکہ کو قانونی کارروائیوں کا سامنا رہا۔ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر بیل گرویسکین کے مطابق، ٹرمپ حکومت نے صحافت کو ریاستی دشمن تصور کیا اور آزاد پریس کو محدود کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے۔

مشہور خبریں۔

اردن کے خلاف صیہونی حکومت کے سفارتی لٹریچر میں تندی

?️ 19 اپریل 2022سچ خبریں:  مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ پر تل آویو کے

چوہدری پرویز الٰہی کیوں غائب ہیں؟

?️ 6 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کو رہا

نیورا لنک کی ڈیوائس تیسرے انسان کے دماغ میں نصب

?️ 15 جنوری 2025سچ خبریں: ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ٹیلی

لبنان میں حالات خراب کرنے کی سازش

?️ 15 فروری 2025 سچ خبریں:بیروت ایئرپورٹ کے راستے میں پرامن احتجاجی مظاہروں کے دوران

کیا نیتن یاہو کے کابینہ کا زوال شروع ہو گیا ہے؟

?️ 31 مئی 2025سچ خبریں: صیہونی ریجیم کے چینل 12 نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں

ایران کی ڈرون طاقت پر صیہونیوں کو تشویش

?️ 13 جولائی 2022سچ خبریں:صیہونی حکام جوبائیڈن کے سفر کے دوران نئے اینٹی ڈرون لیزر

کشمیری آج بھارت کے یوم جمہوریہ کو” یوم سیاہ “کے طور پر منارہے ہیں

?️ 26 جنوری 2024سرینگر: (سچ خبریں) کنٹرول لائن کے دونوں طرف اور دنیا بھر میں

فرانس اور جرمنی میں اسلامو فوبیا عروج پر

?️ 2 مئی 2022سچ خبریں:فرانس کے 2022 کے صدارتی انتخابات ایسے وقت میں ہوئے جبکہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے