?️
سچ خبریں:متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایرانی جزائر پر دوبارہ دعووں اور آبنائے ہرمز سے متعلق مؤقف کے تناظر میں خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و عسکری حقیقتوں اور ایران کی اسٹریٹجک برتری پر تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
جبکہ متحدہ عرب متحدہ عرب امارات اب بھی بار بار اور بے بنیاد دعوؤں کے ذریعے ایرانی جزائر پر نظریں جمائے ہوئے ہے، خطے کی حقیقی قانونی اور جغرافیائی حقیقت کچھ اور ہی کہانی بیان کرتی ہے؛ یہ آبی علاقے کسی تنازع کا میدان نہیں بلکہ آبنائے ہرمز جیسے اسٹریٹجک گزرگاہ پر ایران کی مستحکم حاکمیت کا واضح اظہار ہیں۔
جنگ کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد متحدہ عرب متحدہ عرب امارات نے پہلے سے زیادہ کھل کر خود کو ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے تابع اور پیروکار ایک ملک کے طور پر ظاہر کیا ہے؛ ایسا ملک جو طاقت کے بجائے کمزوری اور ایران کی قوت سے خوف کے باعث تہران کے خلاف محاذ میں شامل ہوا ہے۔
متحدہ عرب امارات، جو ایرانی ڈرونز اور میزائل حملوں کے دباؤ اور سنگین اقتصادی بحرانوں سے دوچار ہے، اب اضطراب اور پریشانی کے انداز میں ایک ایسے فوجی اتحاد کی تشکیل کا مطالبہ کر رہا ہے جو آبنائے ہرمز کو زبردستی کھولنے کے لیے ہو؛ وہ آبنائے جو اب مکمل طور پر ایران کی جغرافیائی و اسٹریٹجک برتری کی علامت بن چکی ہے۔
ابوظبی کا اچانک تناؤ میں کمی کی پالیسی سے تصادم کی جانب رخ اختیار کرنا کسی سوچے سمجھے اسٹریٹجک فیصلے کے بجائے میدانِ حقیقت کی نئی صورتحال کا فوری ردعمل ہے، یعنی خطے میں ایران کی برتری کا اعتراف۔
میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کے حوالے سے ایران کے خلاف دعوے دراصل اس بات کا غیر مستقیم اعتراف ہیں کہ خطے کے ممالک ایران کی دفاعی طاقت کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔
اسی دوران ابوموسیٰ، تنب بزرگ اور تنب کوچک جیسے جزائر پر پرانا تنازع دوبارہ سیاسی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، حالانکہ تاریخی اور عملی حقیقت یہ ہے کہ یہ جزائر کئی دہائیوں سے ایران کے مکمل کنٹرول میں ہیں اور اس کے دفاعی نظام کا اہم حصہ ہیں۔
سن ۱۹۷۱ سے جب ایران نے ان جزائر پر کنٹرول حاصل کیا، تہران نے نہ صرف اپنی پوزیشن برقرار رکھی بلکہ انہیں اپنے دفاعی نیٹ ورک کے مرکزی ستونوں میں شامل کر لیا۔
اس کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات صرف سیاسی دعوؤں اور بیرونی حمایت کے انتظار تک محدود رہا ہے، جو عملی وقت میں کبھی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔
متحدہ عرب امارات کے لیے یہ مسئلہ ایک اسٹریٹجک معاملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی دباؤ کا ذریعہ بن چکا ہے، جسے وہ بحران کے وقت مغربی طاقتوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
حقیقت کے میدان میں ایران مکمل برتری رکھتا ہے۔ ان جزائر میں اس کی فوجی موجودگی خلیج فارس کی بحری گزرگاہوں پر مکمل کنٹرول کی صلاحیت فراہم کرتی ہے، اور ہر بحری جہاز ایران کے دفاعی نظام کی نگرانی میں آتا ہے۔
موجودہ جنگی حالات میں یہ جزائر ایران کی اس حکمت عملی کا بنیادی ستون ہیں جسے بعض مغربی تجزیہ کار غرق نہ ہونے والے بحری جہاز سے تشبیہ دیتے ہیں۔
دوسری طرف امریکہ، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی بحری طاقت سمجھتا ہے، اب محدود، مہنگے اور خطرناک آپشنز کے درمیان پھنس چکا ہے۔ وہ نہ تو آبنائے ہرمز کو آسانی سے کھول سکتا ہے اور نہ ہی ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کی بھاری قیمت برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔
متحدہ عرب امارات بھی بخوبی جانتا ہے کہ امریکہ کے بغیر اس منصوبے پر عمل ممکن نہیں، لیکن ٹرمپ جیسے غیر متوقع رہنما پر انحصار مزید خطرات کو جنم دیتا ہے۔
یہ جزائر اب ایران کے پاسداران انقلاب کے مکمل دفاعی نظام میں شامل ہیں، جس میں ساحلی میزائل، غیر روایتی بحری جنگ، ڈرونز اور جدید الیکٹرانک نظام شامل ہیں، جو کسی بھی حملے کو انتہائی مشکل بنا دیتے ہیں۔
ایران نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ ان جزائر پر کسی بھی قسم کی جارحیت کا سخت ترین جواب دیا جائے گا، جو پورے خطے کے معاشی نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔
تاریخی تجربات بھی بتاتے ہیں کہ ایران کشیدگی کے دوران انتہائی حکمت اور توازن کے ساتھ فیصلے کرتا ہے اور مخالف فریق کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
مغربی تجزیہ کار بھی اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ان جزائر پر کسی بھی فوجی کارروائی کا آغاز تو ممکن ہو سکتا ہے، لیکن اسے برقرار رکھنا ناممکن ہوگا۔
ایسی کارروائی کے لیے خلیج فارس کے تمام ساحلی علاقوں پر مکمل کنٹرول درکار ہوگا، جو عملی طور پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے بس سے باہر ہے۔
تہران کے مطابق یہ جزائر ایران کی قومی خودمختاری کا حصہ ہیں اور ان پر کسی بھی حملے کو مکمل جنگ تصور کیا جائے گا، جو پورے خطے کو بڑے بحران میں دھکیل سکتا ہے۔
آخر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی پالیسی زیادہ تر واشنگٹن کی خوشنودی حاصل کرنے اور خلیجی ممالک کے درمیان مسابقت میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش ہے، نہ کہ کوئی عملی یا قابلِ عمل اسٹریٹجک منصوبہ۔
حقیقت یہ ہے کہ خلیج فارس کے توازن کو اب بیرونی طاقتیں نہیں بلکہ خطے کی جغرافیائی اور عسکری حقیقتیں طے کر رہی ہیں، جن میں ایران ایک مرکزی کردار رکھتا ہے۔


مشہور خبریں۔
شرجیل میمن کو جتنی وفاق و پنجاب کی فکر ہے کاش اتنی سندھ کی ہوتی۔ عظمی بخاری
?️ 22 ستمبر 2025لاہور (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ
ستمبر
وفاقی وزیر داخلہ اٹلی پہنچ گئے، اٹلی، یونان، سپین کے ہم منصبوں سے ملاقات طے
?️ 24 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اٹلی پہنچ گئے۔ وزیر
فروری
صدر مملکت آئندہ عام انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی
?️ 3 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) صدر مملکت عارف علوی نے الیکٹرانک ووٹنگ میشنز (ای
دسمبر
امی سے جس لڑکے کو ملواتی ہوں، اسے داماد سمجھ لیتی ہیں، فجر شیخ
?️ 13 اپریل 2025کراچی: (سچ خبریں) ابھرتی ہوئی اداکارہ فجر شیخ نے کہا ہے کہ
اپریل
ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس پر سماعت براہِ راست نشر کی جائے، بلاول بھٹو کی سپریم کورٹ میں درخواست
?️ 11 دسمبر 2023 اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیر خارجہ و چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول
دسمبر
امریکہ ہمارے ملکی مسائل میں مداخلت نہ کرے:طالبان
?️ 24 جولائی 2022سچ خبریں:طالبان نے امریکی وزارت خارجہ کے بیان پر رد عمل کا
جولائی
غزہ کے ہسپتالوں کے ساتھ قبضے کی فاشسٹ جنگ پر حماس کا ردعمل
?️ 26 مارچ 2024سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک نے غزہ شہر کے الشفاء میڈیکل
مارچ
ٹرمپ کا منصوبہ آبنائے ہرمز نہیں کھول سکتا: بین الاقوامی تجزیہ کار
?️ 6 مئی 2026سچ خبریں:اسکائی نیوز کے مطابق، ایک سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ
مئی