?️
سچ خبریں:امریکہ میں تازہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ایران جنگ کے معاملے پر ریپبلکن پارٹی میں نسلی و فکری تقسیم بڑھ رہی ہے۔ نوجوان ریپبلکنز ٹرمپ کی ایران پالیسی سے ناخوش ہیں جبکہ بزرگ ووٹر اس کی حمایت کر رہے ہیں۔
امریکی روزنامہ یو ایس اے ٹوڈے نے لکھا ہے کہ مختلف سروے ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر امریکی ایران کے ساتھ جنگ سے ناخوش ہیں، اور جہاں زیادہ عمر کے ریپبلکنز نے بڑی حد تک ٹرمپ کی حمایت کی ہے، وہیں نوجوان اس جنگ کے مخالف ہیں۔
حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے بنیادی ووٹرز میں بھی ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر اختلافات کے آثار دکھائی دے رہے ہیں؛ نوجوان ریپبلکنز اس جنگ کی حمایـت کرنے میں دوسری عمر کے گروہوں کے مقابلے میں واضح طور پر کم دلچسپی رکھتے ہیں۔
گزشتہ ماہ شائع ہونے والے پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق، 18 سے 29 سال کے ریپبلکنز اور ریپبلکن مائل آزاد ووٹروں میں سے نصف سے بھی کم لوگ ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسیوں سے مطمئن ہیں۔
مجموعی طور پر اسی سروے کے مطابق، 69 فیصد ریپبلکنز اور ریپبلکن مائل ووٹرز ایران سے متعلق ٹرمپ کی حکمتِ عملی کی حمایت کرتے ہیں، اور عمر کے ساتھ یہ حمایت بڑھتی ہے۔ 65 سال اور اس سے زیادہ عمر والوں میں یہ شرح 84 فیصد، 50 سے 64 سال کے گروہ میں 79 فیصد، اور 30 سے 49 سال کے افراد میں 60 فیصد ہے۔
تمام امریکی شہریوں میں، صرف 37 فیصد لوگ ایران کے حوالے سے ٹرمپ کے رویے کی حمایت کرتے ہیں۔
ملک کے اندر جنگ پر شدید شکوک و شبہات کا سامنا کرتے ہوئے، ٹرمپ نے اس تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کی؛ انہوں نے 7 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا اور مستقل معاہدے تک پہنچنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات کا آغاز کیا۔ باوجود اس کے جنگ بندی کی صورتحال ابھی بھی نازک ہے۔ دوبارہ جھڑپیں شروع ہونے کا امکان برقرار ہے، جو نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن جماعت کے اندر اس اختلاف کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے 2024 کی کامیاب انتخابی مہم میں نوجوان ووٹروں میں بہتر کارکردگی دکھائی، اور 30 سال سے کم عمر کے 39 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ 2020 میں یہ شرح 35 فیصد تھی۔
تاہم اب ٹرمپ کے کئی نوجوان حامی جنگ شروع کرنے کے فیصلے سے ناخوش ہیں، جسے وہ ٹرمپ کے انتخابی وعدوں کے منافی سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی رات کہا تھا: میں جنگیں شروع نہیں کروں گا، میں جنگوں کو ختم کروں گا۔
اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی سابقہ جنگوں پر سخت تنقید کرتے رہے، اور حال ہی میں ان کے کچھ حامیوں نے جو ان کے غیر مداخلت اور امریکہ پہلے جیسے نعروں کے پیروکار تھے، ان پر وعدہ خلافی کا الزام لگایا ہے۔
مشہور پوڈکاسٹر جو روگن جیسے نمایاں حمایتی، جن کے نوجوان مردوں میں بڑی تعداد میں سامعین ہیں، ایران کے ساتھ جنگ پر شدید تنقید کر چکے ہیں۔
روگن نے جو 2024 میں ٹرمپ کے حامی تھے، کہا: ان کی انتخابی مہم کے دوران جو کچھ وہ کہتے تھے، اس کے مقابلے میں یہ سب کچھ بالکل پاگل پن لگتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ خود کو دھوکھا کھایا ہوا محسوس کرتے ہیں۔
ایک نوجوان ریپبلکن نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں کے بارے میں ٹرمپ کے انتخابی مؤقف اس کے ووٹ دینے کے بنیادی عوامل میں سے ایک تھا۔
اس نے کہا: میں نے سوچا تھا کہ ہمیں اس خطے کے تنازعات سے دور رہنا چاہیے اور میرا خیال تھا کہ وہ یہی کرے گا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے یقیناً اس کے بارے میں میری رائے کمزور پڑ گئی ہے۔
کئی نوجوان ریپبلکن مہنگائی اور معاشی دباؤ پر فکر مند ہیں اور چاہتے ہیں کہ ٹرمپ ایران کے بجائے معاشی مسائل پر توجہ دیں۔ ہالینڈ نے رہائش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی مثال دی۔
یہ نسلی خلیج صرف ریپبلکن جماعت کے اندر نہیں، بلکہ پورے امریکی معاشرے میں موجود ہے۔ سی این این/SSRS کے سروے کے مطابق 18 سے 34 سال کے صرف 19 فیصد افراد ایران کے بارے میں ٹرمپ کی حکمتِ عملی کو درست سمجھتے ہیں، جبکہ 45 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں یہ شرح 41 فیصد ہے۔ اکنامسٹ/YouGov کے سروے میں بھی 18 سے 29 سال کے صرف 13 فیصد افراد نے جنگ کی حمایت کی۔
ڈارتموتھ یونیورسٹی کے پروفیسر جیف فریڈمین کے مطابق، نوجوان ووٹر عراق اور افغانستان کی جنگوں کے ماحول میں پروان چڑھے ہیں، جنگیں جو وقت کے ساتھ عوامی ناراضی کا باعث بنیں۔ اس پس منظر نے فوجی طاقت کے استعمال کے بارے میں ان کی رائے پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
اس کے برعکس بڑی عمر کے ووٹر امریکہ کی سرد جنگ میں فتح اور 1991 کی خلیجی جنگ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ فریڈمین نے کہا کہ بزرگ ریپبلکن اس دور میں پلے بڑھے جب جماعت بیرونِ ملک مضبوط عسکری موجودگی رکھتی تھی۔
ریپبلکن جماعت کے اندر ٹرمپ کی حمایت میں کمی، وسط مدتی انتخابات کے قریب اس جماعت کے لیے مشکلات بڑھا سکتی ہے۔ ڈیموکریٹس نے 2025 اور 2026 میں متعدد انتخابی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جو ان کے لیے ایک ممکنہ الیکشن ویو کی بنیاد بن چکی ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے عالمی توانائی بازار کو جھٹکا دیا ہے اور دنیا بھر میں صارفین کے لیے تیل اور ایندھن کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ اس جنگ نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل کو روک دیا، جو عالمی سطح پر تقریباً ایک پانچویں حصہ تیل کی برآمدات کے لیے کلیدی گزرگاہ ہے۔


مشہور خبریں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں ناموس رسالت ﷺ کے معاملے پر بحث کرانے کا فیصلہ
?️ 11 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم شہباز شریف کی تجویز پر قومی اسمبلی کے اجلاس
جون
مغربی کنارے میں صیہونیوں کے حملوں میں 123 فلسطینی زخمی
?️ 20 فروری 2022سچ خبریں:فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ مغربی کنارے کے
فروری
اسرائیلی نمائندوں کو برطانیہ کی دفاعی نمائش میں شرکت سے روک دیا گیا
?️ 29 اگست 2025سچ خبریں: برطانوی وزارت دفاع نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی
اگست
کن عرب ممالک نے ٹرمپ کو مبارکباد ہے؟
?️ 21 جنوری 2025سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے موقع پر متعدد عرب ممالک
جنوری
زارا نور عباس نے پہلی شادی جلد بازی میں کی، 8 ماہ بعد ہی گھر واپس آگئی تھیں، اسما عباس
?️ 5 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) سینیئر اداکارہ اسما عباس نے انکشاف کیا ہے کہ
اکتوبر
مشرقی ایشا میں نیٹو کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟
?️ 12 جولائی 2023سچ خبریں:یورپی یونین میں چینی حکومت کے سفارتی مشن نے سیکرٹری جنرل
جولائی
جنوبی افغانستان میں زلزلے سے 280 افراد ہلاک اور 500 زخمی
?️ 22 جون 2022سچ خبریں: صوبہ پکتیکا کے مقامی ذرائع نے بتایا کہ صوبے
جون
طالبان نے افغانستان سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا
?️ 20 جولائی 2022سچ خبریں: طالبان کے ترجمان نے افغانستان میں انسانی حقوق کی
جولائی