صہیونی ریاست کو طوفان الاقصیٰ کے تین انٹلیجنس و سکیورٹی دھچکے

صہیونی ریاست کو طوفان الاقصیٰ کے تین انٹیلیجنس و سکیورٹی دھچکے

?️

سچ خبریں:طوفان الاقصیٰ نے صیہونی سکیورٹی نظام کی بنیادیں ہلا دیں تین تاریخی ناکامیاں جنہوں نے تل ابیب کی سلامتی کا افسانہ توڑ دیا۔

فلسطینی مزاحمتی تحریک کی کارروائی طوفان الاقصیٰ اسرائیل کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا سکیورٹی دھچکا ثابت ہوئی، یہ آپریشن نہ صرف صہیونی انٹیلیجنس کے فریب، بلکہ اس کے فوجی و معلوماتی نظام کے مکمل زوال کی علامت بن گیا۔

یہ بھی پڑھیں:حماس: الاقصیٰ طوفان خطے کے سیاسی اور عسکری میدان میں ایک اہم موڑ تھا

عملیات طوفان الاقصیٰ نے صہیونی ریاست کے سیکیورٹی ڈھانچے پر ایسی کاری ضرب لگائی جس کے اثرات آنے والے برسوں تک باقی رہیں گے،
یہ بلاشبہ فلسطینی تاریخ کی درخشاں ترین اور بی‌نظیر ترین کارروائی تھی جس نے اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر دفاعی تاثر کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا۔
صہیونی ریاست جو ہمیشہ اپنے وجود کو سلامتی سے تعبیر کرتی آئی ہے، پہلی بار اپنے بنیادی دفاعی فلسفے پر سوالیہ نشان کا سامنا کر رہی ہے۔

۱۔ صہیونی انٹیلیجنس کے فریب کا شکار ہونا

فلسطینی مزاحمت کی سب سے بڑی کامیابی اسرائیل کے خفیہ اداروں کو غلط فہمی میں مبتلا کرنا تھی۔
اگرچہ جنگ کے جاری رہنے اور حماس کی خفیہ کارروائیوں کے تفصیلی ریکارڈ کے شائع نہ ہونے کے باعث تمام جزئیات ابھی واضح نہیں،
مگر دستیاب شواہد اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیلی انٹیلیجنس کو حماس نے مہارت سے دھوکہ دیا۔

حماس کے رہنما یحییٰ السنوار، جو صفقة الاحرار (معاہدۂ تبادلۂ اسرا) کے بعد اسرائیلی جیلوں سے رہا ہوئے،
اس پورے فریب کے ماسٹر مائنڈ سمجھے جاتے ہیں، انہوں نے حماس کے اندرونی سیکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط بنایا تاکہ دشمن کے جاسوسوں کا مکمل سدباب کیا جا سکے۔

اس کے بعد السنوار نے اسرائیل کے ذہن میں یہ تصور بٹھا دیا کہ حماس اپنی مزاحمتی پالیسی سے پیچھے ہٹ چکی ہے اور سیاسی مفاہمت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
سنہ 2018 کے بعد اسرائیلی تجزیہ کار اس نتیجے پر پہنچے کہ حماس نرم رویہ اختیار کر چکی ہے۔
یہی تاثر اسرائیل کو غافل بنا گیا۔

جب اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس کے کچھ یونٹوں نے حماس کی مشکوک سرگرمیوں پر انتباہ جاری کیا،
تو اعلیٰ حکام نے انہیں نظرانداز کر دیا، کیونکہ ان کے خیال میں حماس کسی بڑے حملے کی تیاری نہیں کر سکتی۔
یوں طوفان الاقصیٰ کی کامیابی کا پہلا مرحلہ — نفسیاتی فریب — مکمل ہوا۔

۲۔ حماس کی آپریشنل رازداری اور اسرائیل کی مکمل لاعلمی

اسرائیلی انٹیلیجنس نیٹ ورک، جو امریکہ اور یورپی اتحادیوں کی جدید ٹیکنالوجی ماهوار نگرانی، مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ ڈیٹا — سے مزین ہے،
حماس کے اس وسیع آپریشن کے بارے میں کچھ بھی نہ جان سکا۔

دو سال بعد بھی اس حقیقت پر سب متفق ہیں کہ صیہونی سکیورٹی ایجنسیوں کو طوفان الاقصیٰ کے آغاز یا اس کی تیاری کے بارے میں کوئی عملی علم نہیں تھا۔
صرف معمولی نقل و حرکت، جو ہر فوجی آپریشن سے قبل دیکھی جاتی ہے، ان کے نوٹس میں آئی —
لیکن اسے بھی غیر اہم سمجھ کر رد کر دیا گیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا نے دیکھا کہ تمام جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹس، ڈرونز، اور ڈیجیٹل نگرانی کے باوجود
اسرائیل اپنی سرزمین کے اندر ہونے والے سب سے بڑے حملے کو پیشگی طور پر نہ روک سکا، نہ بھانپ سکا۔

۳۔ اسرائیل کی ناکامی — اپنے ہی قیدی آزاد نہ کر سکا

طوفان الاقصیٰ کے بعد اسرائیل نے اعلان کیا کہ تقریباً 240 فوجی اور شہری حماس کی تحویل میں ہیں۔،اکتوبر 2023 سے صہیونی فوج نے غزہ کے 365 مربع کلومیٹر علاقے میں ان قیدیوں کی بازیابی کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن کیے مگر دو سال بعد بھی وہ کسی ایک اسیر کو طاقت کے ذریعے آزاد نہ کر سکے۔

تمام جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، جاسوسی نیٹ ورکس اور زمینی قبضے کے باوجود اسرائیل کو یہ کامیابی صرف تبادلہ اسیران کے معاہدوں کے ذریعے ملی یعنی جنگی میدان میں مکمل ناکامی۔

دوسری جانب حماس نے شدید ترین بمباری اور زمینی حملوں کے باوجود اپنی تنظیمی، انٹیلیجنس اور آپریشنل برتری برقرار رکھی۔
اس کے جاری حملے اسرائیل کے لیے مسلسل ایک سیکیورٹی کابوس بن چکے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حماس نہ صرف میدان میں بلکہ معلوماتی جنگ میں بھی دشمن سے کئی قدم آگے ہے۔

مزید پڑھیں:الاقصیٰ طوفان کے 2 سال بعد؛ کامیابیاں ؛ 4 علاقائی ماہرین کا تجزیہ

فلسطینی مزاحمت کے یہ تین سیکیورٹی و انٹیلیجنس دھچکے،اسرائیل کے اس بنیادی بیانیے کو توڑ چکے ہیں کہ وہ خطے کی سب سے محفوظ اور طاقتور ریاست ہے،آج بھی میدانِ جنگ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک اپنی سیکیورٹی برتری اور جنگی تدبیر سے صہیونی افسانے کو بار بار رسوا کر رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان کے دارالحکومت میں شیعہ برادری کی بڑی احتجاجی ریلی، دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

?️ 13 فروری 2026پاکستان کے دارالحکومت میں شیعہ برادری کی بڑی احتجاجی ریلی، دہشت گردی

27 ممالک نے غزہ تک میڈیا کی فوری رسائی کا مطالبہ کیا

?️ 22 اگست 2025سچ خبریں: 27 ممالک نے ایک بیان میں غیر ملکی میڈیا تک

اسرائیل کے سب سے بڑے دہشت گرد جاسوسی مرکز میں مثال بحران

?️ 23 نومبر 2024سچ خبریں: صیہونی فوج کا یونٹ 8200، قابض حکومت کا سب سے

سید حسن نصر اللہ کی شہادت سے انسانیت ایک غیر معمولی شخصیت سے محروم ہوگئی

?️ 27 ستمبر 2025سچ خبریں: لبنانی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ طلال ارسلان کا کہنا ہے

آج کا اجلاس اپوزیشن کے لئے بہت بڑا پیغام تھا

?️ 17 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے امید

جرمنی میں فلسطین کی  بھر پور حمایت 

?️ 8 نومبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے خلاف فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے الاقصیٰ طوفانی

ٹرمپ کی چین، بھارت اور برازیل سے درآمدی اشیاء پر نئے محصولات عائد کرنے کی دھمکی

?️ 29 جنوری 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے

فواد چوهدری کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس

?️ 11 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیر اطلاعات و پی ٹی آئی  کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے