900 دن سے جاری غزہ جنگ؛ تباہی، نسل کشی ،انسانی بحران جاری

غزہ

?️

سچ خبریں:غزہ میں اسرائیل کی جنگ کو 900 دن سے زائد ہو چکے ہیں، جہاں ہلاکتوں کی تعداد 72 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور 84 فیصد علاقہ تباہ ہو چکا ہے۔

عالمی رپورٹس کے مطابق 900 دن کے بعد بھی غزہ میں انسانی بحران، صحت کا نظام، اور معیشت مکمل زوال کا شکار ہیں جبکہ جنگ بندی کے باوجود حملے جاری ہیں۔

فلسطینیوں کے خلاف صیہونی جارحیت کو 900 دن سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری کی جانب سے اب تک خاموشی اور محض مذمتی بیانات ہی دیکھنے کو ملے ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جنگ بندی منصوبے کو بھی صیہونی حکومت کی جانب سے بار بار خلاف ورزیوں نے مؤثر طور پر ناکام بنا دیا ہے، جس کے باعث صہیونی فوجی مشینری کو روکنے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارتِ صحت کے سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک شہداء کی تعداد 72 ہزار 991 تک پہنچ چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 173 ہزار 219 ہو گئی ہے۔

اس کے باوجود صیہونی حکومت، عالمی برادری کی خاموشی، عدم فعالیت اور امریکہ کی حمایت کے سائے میں، صرف غزہ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے لبنان اور ایران سمیت دیگر خطوں میں بھی کارروائیوں کو وسعت دی ہے۔

جرمن ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اس وقت غزہ کی پٹی کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے، اور صیہونی وزیراعظم کے مطابق تقریباً 60 فیصد علاقہ اس کے قبضے میں ہے۔

اسی طرح بنیامین نیتن یاہو نے حالیہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کے 70 فیصد علاقے پر کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

غزہ اس وقت مکمل تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ علاقہ بیسویں اور اکیسویں صدی کی سب سے بڑی انسانی تباہی کی مثال بن چکا ہے، جہاں شہری ڈھانچہ تقریباً مکمل طور پر مٹ چکا ہے۔

مقامی رپورٹوں کے مطابق غزہ کا 84 فیصد علاقہ تباہ ہو چکا ہے، جبکہ شہر غزہ میں یہ شرح 92 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تباہی صرف عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ معیشت، معاشرت اور انسانی زندگی کے پورے ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی معیشت کو 22.7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ براہِ راست تباہی کا تخمینہ 35.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ یہ تباہی 365 مربع کلومیٹر کے ایک محدود علاقے میں ہوئی ہے جو پہلے ہی بیس سالہ محاصرے کا شکار تھا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق غزہ کی معیشت میں 84 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین کے مطابق غزہ کی بحالی میں 77 سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

جنگ سے قبل غزہ میں 450 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس موجود تھے، جن میں سے 70 فیصد مکمل طور پر تباہ یا ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں۔ شمالی غزہ کے علاقے جیسے جبالیا، الشجاعیہ اور دیگر مقامات تقریباً مکمل طور پر مٹ چکے ہیں۔

غزہ کا صحت کا نظام شدید بحران کا شکار ہے۔ ہلال احمر فلسطین کے مطابق صیہونی ناکہ بندی اور حملوں کے باعث ادویات، طبی آلات، ایندھن اور بجلی کی فراہمی مکمل طور پر متاثر ہو چکی ہے۔

بیشتر اسپتال جنریٹرز پر چل رہے ہیں، جو مسلسل دو سال سے بغیر مرمت کے کام کر رہے ہیں۔ ایندھن کی کمی کے باعث طبی خدمات کسی بھی وقت مکمل طور پر بند ہو سکتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 18 ہزار سے زائد مریض فوری علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقلی کے منتظر ہیں، مگر روزانہ صرف محدود تعداد میں مریضوں کو اجازت دی جا رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ کے نصف سے زائد اسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ طبی نظام مکمل تباہی کے دہانے پر ہے۔

انروا کے مطابق غزہ کے 90 فیصد اسکول جنگ میں متاثر یا مکمل تباہ ہو چکے ہیں۔

بالآخر 9 اکتوبر 2024 کو مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی میں ایک امن معاہدہ طے پایا، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ تھا۔

حماس نے 17 اکتوبر 2024 کو جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی تصدیق کی، جبکہ صیہونی فوج نے بھی جنگ بندی کے آغاز کا اعلان کیا۔

تاہم رپورٹس کے مطابق اسرائیل اب بھی جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، اور اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

حماس کے رہنما محمود مرداوی کے مطابق اسرائیل نہ صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے بلکہ انسانی ضروریات جیسے ادویات، ایندھن اور امداد کی فراہمی کو بھی روکے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ صیہونی فوج معاہدے پر مکمل عمل نہیں کر رہی جبکہ فلسطینی فریق اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر چکا ہے۔

مرداوی کے مطابق اسرائیل اب بھی غزہ کے تقریباً 60 فیصد علاقے پر قابض ہے اور صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل عام شہریوں، خصوصاً بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہا ہے اور جنگ بندی کو عملی طور پر ناکام بنا رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

شمالی کوریا کی امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی شرط

?️ 26 فروری 2026 سچ خبریں:شمالی کوریا کے رہنما کیم جونگ اون نے جمعرات کی

فلسطینی شہداء کی شناخت روکنے کے لیے تل ابیب کا وحشیانہ جرم

?️ 4 نومبر 2025سچ خبریں: غزہ پٹی کے وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش

پی ٹی آئی میں سب غیرسیاسی لوگ ہیں، مذاکرات ہونے چاہئیں۔ طلال چودھری

?️ 2 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ

بلوچستان میں فوج نے کلیئرنس آپریشن شروع کر دئے

?️ 5 فروری 2022راولپنڈی (سچ خبریں)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر

امریکی بحری جہازوں کے ساتھ IRGC بحریہ کے تصادم کی تفصیلات

?️ 3 نومبر 2021سچ خبریں: پاسداران انقلاب اسلامی کی بہادر بحریہ کے خلاف بروقت اور مستند

جماعت اسلامی کے گرفتار رہنماؤں کے بارے میں پنجاب حکومت کا فیصلہ

?️ 3 اگست 2024سچ خبریں: پنجاب حکومت نے جماعت اسلامی کے گرفتار رہنماؤں کو رہا

آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر پاکستان دیوالیہ ہوسکتا ہے، موڈیز کی تنبیہ

?️ 9 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) موڈیز نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی مالیاتی

ٹرمپ یوکرین کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں؟یوکرینی نمائندے کا انکشاف 

?️ 28 جون 2025 سچ خبریں:یوکرینی نمائندے کے مطابق ٹرمپ نے یوکرین سے ہاتھ کھینچنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے