صلیبی جنگیں اور جدید امریکی جنگیں؛ ایک ہی سکے کے دو رخ  

صلیبی جنگیں اور جدید امریکی جنگیں؛ ایک ہی سکے کے دو رخ  

?️

سچ خبریں:صلیبی جنگوں کا جدید امریکی جنگوں سے موازنہ محض ایک نظریہ نہیں، بلکہ ان حکمت عملیوں کا تاریخی تجزیہ ہے جو نئے روپ میں دہرائی جا رہی ہیں۔  

عراقی سیاسی تجزیہ نگار نجاح محمد علی نے خصوصی تحریر بعنوان مزاحمتی محاذ؛ استقامت کی جڑیں اور صلیبی جنگ کے خلاف مقابلے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔
 صلیبی جنگیں اور جدید امریکی جنگیں: ایک ہی سکے کے دو رخ  
گیارہویں صدی میں صلیبیوں نے اسلامی مشرق کے خلاف Deus Vult (خدا کی مرضی) کا نعرہ لگایا تھا، جو آج امریکہ میں انتہائی دائیں بازو کی مسیحی قوتوں کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف مقدس جنگ کی شکل میں دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جب پیٹ ہیگسٹ (امریکی سیکرٹری دفاع) جیسے افراد کو منتخب کیا، جنہوں نے اپنی کتاب امریکن کروسِیڈ (2020) میں کھل کر صلیبیوں کی روح کی بحالی کی بات کی، تو یہ واضح ہو گیا کہ عالم اسلام پر تسلط کا منصوبہ ایک نظریاتی پردے میں لپٹی ہوئی نوآبادیاتی پالیسی ہے۔ یہاں تک کہ جو بائیڈن نے بھی افغانستان سے انخلا کے بعد کہا: امریکہ کو محور مقاومت اور چین جیسے بڑے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
 پہلا باب: صیہونی-صلیبی نقشہ: دستاویزات سے عمل تک  
1. مغربی ادب بطور ثبوت  
ہیگسٹ کی کتاب واضح طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عالم اسلام پر تسلط کی ضرورت سے جوڑتی ہے۔ یہ نقطہ نظر صیہونی دستاویزات جیسے پروٹوکولز آف دی لرنڈ اینڈ سیج آف زیون سے میل کھاتا ہے، جس میں کہا گیا ہے: ہمیں عالم اسلام کو داخلی اختلافات میں الجھا کر رکھنا چاہیے تاکہ اس کے وسائل پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔
صیہونی ادارے اٹلانٹا انسٹی ٹیوٹ کی 2023 کی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے: شام اور عراق کا زوال اسلامی توانائی کے راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کلید ہے۔
2. سازش کے جغرافیائی پہلو  
– بشار الاسد کے بعد شام: وکی لیکس کے دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی سفیر دمشق (2010) نے لکھا تھا: شامی حکومت کا زوال ایران اور حزب اللہ کے درمیان رابطے کی لائن کو کاٹ دے گا۔
– معمول سازی کے معاہدے بطور ہتھیار: امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل کی 2021 کی رپورٹ میں ابراہیم معاہدوں کی تعریف کی گئی ہے، جو فلسطینیوں کی جہادی روح کو معاشی محاصرے کے ذریعے کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
 دوسرا باب: مزاحمتی محاذ— مزاحمت کا ڈھانچہ  
1. فکری بنیاد  
امام خمینی نے 1979 میں کہا تھا: اگر ہم پہاڑ کی طرح ڈٹ جائیں تو دشمن ہمیں ہلا نہیں سکتا۔ یہی سوچ جنوبی لبنان کی آزادی (2000) اور غزہ کی مزاحمت کی کامیابیوں کی بنیاد بنا۔
2. اسٹریٹجک گہرائی  
– عراق: جنرل سلیمانی نے زور دیا: الحشد الشعبی داعش اور امریکی منصوبوں کے خلاف ایک دیوار ہے۔
– یمن: پینٹاگون کے ایک 2022 کے دستاویز میں اعتراف کیا گیا ہے: انصاراللہ کے میزائلوں نے بحیرہ احمر کے معادلات بدل دیے ہیں۔
3. نرم طاقت کے ذرائع  
رینڈ کارپوریشن کی 2023 کی رپورٹ خبردار کرتی ہے: مقاومت کا بیانیہ یورپی نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
 تیسرا باب: مغرب کے تضادات — انہیں کے قلم سے  
1. تبلیغ سے سیکولرازم تک  
– مائیکل ہیڈسن اپنی کتاب امریکی سلطنت کا نیا دور (2021) میں لکھتے ہیں: انسانی حقوق مشرق وسطیٰ کو لوٹنے کا بہانہ ہیں۔
– جیری فالویل (انجیلی پادری) نے فاکس نیوز (2020) پر کہا: اسرائیل کی حمایت ایک مذہبی فریضہ ہے!
2. صیہونیت بطور عملی بازو  
ایہود باراک (2018) نے کہا: جو بھی عرب ملک اسرائیل سے معمول سازی کرے گا، وہ اسرائیل کے تحفظ کا اڈہ بن جائے گا۔
 نتیجہ: مقاومت ہی ہماری تقدیر ہے  
آج مغرب صلیبی جنگ کو جدید ہتھیاروں سے لڑ رہا ہے:
– عسکری (امریکی اڈوں کے ذریعے)
– ثقافتی (جھوٹے امن کے نعروں سے)
– معاشی (ظالمانہ پابندیوں کے ذریعے)
لیکن جیسا کہ ڈاکٹر عبدالوہاب المسیری نے کہا: صلیبی جنگوں کا خاتمہ مذاکرات سے نہیں، بلکہ مقاومت سے ہوا۔ آج محور مقاومت — تہران سے لے کر بیروت اور صنعاء تک — ہیھات منا الذلہ کی روح زندہ رکھے ہوئے ہے۔
سید حسن نصراللہ نے صیہونی ریاست کو خبردار کیا: ہم تمہارے جنگی جہاز گرائیں گے، چاہے ہمیں اپنے کپڑے بیچ کر بھی لڑنا پڑے!

مشہور خبریں۔

عارف نے پوپ سے مخاطب ہو کر کہا: "عالمی اخلاق و صلح کے لیے مکالمے” کے علمبردار بنیں

?️ 15 اپریل 2026سچ خبریں: ایران کے نائب صدر نے پوپ سے مخاطب ہو کر

44 سال بعد شہید صدر کے قاتل کی پہچان

?️ 6 فروری 2025سچ خبریں: شہید محمد باقر الصدر کے قتل کے مرکزی ملزم سعدون

انسانیت کیخلاف جنگی جرائم پر اسرائیل کو کٹہرے میں لانا ہوگا۔ وزیراعظم

?️ 15 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے عرب اسلامی ہنگامی

سوڈان میں خانہ جنگی

?️ 7 مئی 2024سچ خبریں: اس ہفتے انگلینڈ کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں

رانا ثناء اللہ کا سابق وزیر اعظم کو گرفتار کرنے کا عندیہ

?️ 13 مئی 2022لندن (سچ خبریں)وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ سابق

اداروں کے خلاف مہم چلانے کا کیس: صحافی اسد طور کی ضمانت منظور

?️ 16 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسپیشل جج سینٹرل اسلام آباد نے اداروں کے

صدر کے استعفیٰ کے بعد عراق میں سیاسی تبدیلیاں

?️ 14 جون 2022سچ خبریں:   اتوار کی رات 22 جون کو عراق میں صدر دھڑے

صہیونی حکومت نے غزہ کا محاصرہ مزید سخت کر دیا ہے: غزہ حکومت

?️ 23 مئی 2026سچ خبریں:غزہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صہیونی حکومت نے جنگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے