قبرس میں صہیونیوں کی آمد اور نئی سرزمینِ موعود؛ عوام میں تشویش کی لہر

قبرس میں صہیونیوں کی آمد اور نئی سرزمینِ موعود؛ عوام میں تشویش کی لہر

?️

سچ خبریں:ایران-اسرائیل جنگ کے بعد صہیونی آبادکاروں کی قبرس میں وسیع آمد اور زمینوں کی خریداری نے مقامی عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، قبرس کی اپوزیشن نے ملکی سلامتی کو لاحق خطرات پر حکومت کو خبردار کیا ہے۔

قبرس میں حالیہ دنوں صہیونی آبادکاروں کی بڑی تعداد کی آمد، زمینوں کی وسیع خریداری اور یہودی تعلیمی اداروں کی تیزی سے تعمیر نے مقامی آبادی میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔
 مقامی سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی قبرس کے بعض حصوں کو اسرائیل کی ’حیات خلوت‘ (بیک یارڈ) بننے پر نالاں ہیں اور اسے ملکی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی میزائل حملوں کے بعد بڑی تعداد میں یہودی آبادکار کشتیوں کے ذریعے مقبوضہ فلسطین سے فرار ہو کر قبرس پہنچے۔
 گزشتہ دو سال میں، خاص طور پر 7 اکتوبر کی جنگ کے بعد، قبرس جنوبی صہیونیوں کا اہم پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے، جہاں سماجی اور سیاسی طور پر انہیں زیادہ تحفظ اور آزادی میسر ہے۔
قبرس، اسرائیل کا قریبی سیاسی اتحادی ہے اور معاشرتی طور پر بھی اردن و مصر کی نسبت صہیونیوں کے لیے زیادہ سازگار سمجھا جاتا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق قبرس کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلیوں کی جانب سے زمینوں کی بڑے پیمانے پر خریداری پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
 اہم اپوزیشن پارٹی آکل (AKEL) کے سیکرٹری جنرل استفانوس استفانو نے ایک پارٹی کانفرنس میں حکومت کو خبردار کیا کہ غیر مشروط طریقے سے زمینوں کی فروخت ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اس عمل سے قبرس کی خودمختاری داؤ پر لگ رہی ہے۔ ان کے بقول، اسرائیلی نہ صرف زمینیں خرید رہے ہیں بلکہ مدارس، کنیسے اور یہودی بستیوں (گِٹوز) کی بھی بنیاد ڈال رہے ہیں۔
استفانو نے صدر نیکوس کریستودولیدس سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنقید یہود دشمنی یا غیر ملکیوں کے خلاف نہیں، بلکہ خالصتاً ملکی سلامتی کے حوالے سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل قبرس میں اپنی پناہ گاہ تیار کر رہا ہے، جو ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
قبرس کے نمایاں اخبار پولیتیس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ قبرس، یہودیوں کی نئی سرزمینِ موعود بنتا جا رہا ہے،آخر یہودی قبرس میں زمینیں کیوں خرید رہے ہیں؟ رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ جنگ کے بعد اسرائیلی سرمایہ کار اور آبادکار بڑی تعداد میں یونانی قبرس میں جائیدادیں خرید رہے ہیں، جس پر مقامی عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
قبرس میں تعینات اسرائیلی سفیر اورن انولیک نے ان بیانات اور خبروں کو مسترد کرتے ہوئے اسے یہود دشمنی قرار دیا اور کہا کہ قبرس میں یہود مخالف بیانیہ، ماضی کی خطرناک سوچ کو پھر سے زندہ کر رہا ہے، صہیونی میڈیا نے بھی اسی رویے کے تحت ان خبروں کو ’یہود دشمنی‘ سے تعبیر کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد، برطانوی وزیر اعظم جارج بالفور نے بھی یہودیوں کے لیے نقل مکانی کے مقامات کے طور پر قبرس اور ارجنٹائن پر غور کیا تھا، لیکن آخرکار فلسطین کو صہیونی ریاست کے قیام کے لیے منتخب کیا گیا جس کے اثرات آج پورے مشرق وسطیٰ پر پڑ رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

ترک انتخابات کے دوسرے راؤنڈ کے موقع پر لیرا میں گراوٹ

?️ 27 مئی 2023سچ خبریں:ترک صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے دو روز قبل ترک

یورپی ممالک جمہوریت کے نام پر دہشتگروں کی حمایت کرتے ہیں: ترک صدر

?️ 3 جون 2022سچ خبریں:ترک صدر نے شام کے مزید علاقوں میں فوجی آپریشن کو

ٹرمپ کے گھر سے ضبط کی گئی خفیہ دستاویزات کی اہمیت

?️ 28 اگست 2022سچ خبریں:امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر نے اس ملک کے ایوانِ

وزیر اعظم شہباز شریف نے انسداد پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کردیا

?️ 24 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے پولیو مہم کا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، گھریلو سلنڈر کی قیمت میں اضافہ 

?️ 1 ستمبر 2021اسلام آباد( سچ خبریں) پاکستان میں وفاقی حکومت نے ایک طرف تو

"حج ابوالفضل”؛ ایک شہید کمانڈر جو دو بار قاتلانہ حملے میں بچ گیا

?️ 30 ستمبر 2025سچ خبریں: لبنان میں حزب اللہ کے تیسرے شخص حج علی کرکی،

ٹرمپ کا دعویٰ: ہمارے پاس افغانستان میں جیتنے کا موقع تھا لیکن ہم نے سیاسی فیصلہ کیا

?️ 7 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر نے ورجینیا میں اپنے خطاب میں دعویٰ کیا

بن سلمان کے لیے تخت تک پہنچنے کی سب سے بڑی رکاوٹ

?️ 19 جنوری 2022سچ خبریں:ایک برطانوی ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں محمد بن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے