اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد پیش منظر؛ مغربی میڈیا کے تین ممکنہ منظرنامے

ایران اور امریکہ کے درمیان

?️

سچ خبریں:اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکی اور برطانوی میڈیا نے خطے میں مستقبل کے حالات کے لیے تین ممکنہ منظرنامے پیش کیے ہیں۔

مغربی میڈیا نے پاکستان میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے بعد مستقبل کے منظرناموں کا جائزہ لیا ہے۔

نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، آئی پیپر اور ٹیلی گراف جیسے ممتاز مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات 20 گھنٹے کی طویل بحث کے بعد کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے، جس نے ایک ایسے مرحلے کی راہ ہموار کی ہے جسے مغربی رپورٹوں میں اسٹریٹجک تعطل قرار دیا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور ٹیلی گراف اس بات پر متفق ہیں کہ اس دور کے مذاکرات کی ناکامی حیران کن نہیں تھی، کیونکہ دونوں فریقوں کے مؤقف میں گہری خلیج موجود ہے، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی ونس کر رہے تھے، جنہوں نے مذاکرات کے خاتمے کے بعد اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک کسی قسم کی پیش رفت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی صورتحال تک نہیں پہنچ سکے جہاں ایران ہماری شرائط تسلیم کرنے کے لیے تیار ہو۔

اس رپورٹ کے مطابق اختلاف کے اہم ترین نکات میں واشنگٹن کا ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل ختم کرنے پر اصرار، جبکہ اس کے برعکس تہران کا جوہری توانائی کے پرامن استعمال اور یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق پر اصرار اور اپنی اسٹریٹجک صلاحیتوں سے دستبردار نہ ہونا شامل ہے۔ ان اختلافات میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول، ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنا، ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی، جنگ سے متعلق ہرجانہ اور لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

یہ اخبارات اس بات کے قائل ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کو غیر خوشگوار انتخاب کا سامنا ہے، جو طویل اور پیچیدہ مذاکرات میں داخل ہونے، جنگ کی طرف واپسی یا بنیادی حل کے بغیر بحران کو سنبھالنے کی کوششوں کے درمیان جھول رہے ہیں۔

 ان میڈیا ذرائع کے مطابق تنازعات کے دوبارہ شروع ہونے سے عالمی توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ تنازعات کا تعلق براہ راست آبنائے ہرمز سے ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے ان مذاکرات کے بارے میں لکھا کہ یہ دور گزشتہ دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے کی اعلیٰ ترین سطح تھی، لیکن یہ کسی ٹھوس پیش رفت کے بغیر ختم ہوا، جبکہ نظریاتی طور پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔ برطانوی اخبار آئی پیپر نے بھی نشاندہی کی کہ زمینی کشیدگی کے تسلسل کے باعث جنگ بندی بدستور غیر مستحکم ہے، یہ عمل سفارتی کامیابی کے کسی بھی موقع کو کمزور کر سکتا ہے۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے مستقبل کے حوالے سے تین مرکزی منظرنامے پیش کیے ہیں:

اول: مستقبل میں مذاکرات کی بحالی

اس اخبار کے تجزیے کے مطابق امریکی وفد کا نکل جانا ایران کو مزید رعایتیں دینے پر مجبور کرنے کے لیے ایک تزویراتی قدم ہو سکتا ہے، لیکن اخبار خبردار کرتا ہے کہ یہ راستہ بحران کو طول دینے اور موجودہ تعطل کی صورتحال کے اعادہ کا باعث بن سکتا ہے۔

دوم: فوجی کشیدگی کی طرف واپسی

اس منظرنامے میں جنگ کا بڑے پیمانے پر دوبارہ شروع ہونا یا محدود کارروائیاں کرنا شامل ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں۔ واشنگٹن کے لیے اس منظرنامے کے خطرات یہ ہیں کہ یہ عالمی توانائی کی منڈیوں کو درہم برہم کر سکتا ہے اور افراط زر کی شرح میں اضافہ کر سکتا ہے، جو امریکی حکومت پر داخلی سیاسی دباؤ کو بڑھانے کا سبب بنے گا۔

سوم: معاہدے کے بغیر جنگ کا خاتمہ

ٹیلی گراف مزید لکھتا ہے کہ امریکی صدر رسمی معاہدے کے بغیر ہی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ کر سکتے ہیں، جس کا مطلب امریکہ کی پسپائی کے طور پر لیا جائے گا۔

ان مغربی اخبارات کے مطابق اس دور کے نتائج ایک پیچیدہ حقیقت کی طرف لے گئے ہیں۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب امریکہ طویل اور مہنگی جنگ نہیں چاہتا اور ایران بنیادی رعایتیں دینے سے گریز کر رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

P.K.K اور Ocalan کے پیغام کی تحلیل کے بارے میں 15 نکات

?️ 1 مارچ 2025 سچ خبریں: PKK دہشت گرد گروہ کے قید رہنما عبداللہ اوجلان

جنوبی سوڈان میں انتخابات ایک بار پھر ملتوی

?️ 14 ستمبر 2024سچ خبریں: جنوبی سوڈان کے صدر کے دفتر نے ہفتے کے روز

واٹس ایپ کی 2024 کی وہ خفیہ ٹِرکس جن کا علم بیشتر افراد کو نہیں ہوسکا

?️ 28 دسمبر 2024سچ خبریں: واٹس ایپ دنیا کا مقبول ترین میسجنگ پلیٹ فارم ہے

سندھ ہائیکورٹ نے مجوزہ آئینی ترمیم کے خلاف درخواست مسترد کردی، تحریری حکم جاری

?️ 14 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) سندھ ہائیکورٹ نے 26ویں مجوزہ آئینی ترمیم کے خلاف

یمن کے بچوں کے لیے سزائے موت کا حکم دنے والا بن سلمان

?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:  تیونس کے سابق صدر منصف المرزوقی نے آل سعود کی

یہ تفرقے اور سیاست کا نہیں دہشت گردوں سے مقابلے کا وقت ہے، وزیراعظم

?️ 3 فروری 2025کوئٹہ: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پوری قوم

الیکشن کمیشن انتخابی مہم، اخراجات کی باقاعدہ نگرانی کرے گا، چیف الیکشن کمشنر

?️ 31 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا کہ

ہم توانائی کی منڈی میں صرف اپنا حصہ مانگ رہے ہیں:ایران

?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے اطالوی ہم منصب کے ساتھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے