?️
سچ خبریں:ملائیشیا کے تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت سے توانائی منڈی میں استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم جغرافیائی سیاسی خطرات اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بدستور برقرار ہے۔
ملائیشیا کے اقتصادی ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت نے عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کم ہونے کی امید پیدا کی ہے، تاہم اس پیش رفت کا تسلسل جغرافیائی سیاسی تناؤ میں کمی سے مشروط ہے۔
ملائیشیا کے روزنامہ دی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی، ٹرانسپورٹ لاگت اور تجارت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کیے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ساٹھ روزہ عارضی معاہدے میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی، بحری ناکہ بندی کے خاتمے، شپنگ فیسوں میں کمی اور ایران کی خام تیل کی فروخت کے لیے عارضی اجازت شامل ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام جیسے بنیادی اختلافی امور ابھی حل طلب ہیں۔
یونیورسٹی آف مالایا کے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی اینڈ مینجمنٹ کے ایگزیکٹو نائب صدر محمد دانیال عثمان نے کہا کہ ملائیشیا کے لیے اصل مسئلہ توانائی کی جسمانی کمی نہیں بلکہ عالمی توانائی منڈی میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آیا ملائیشیا اس جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کو ایک اسٹریٹجک موقع میں تبدیل کر سکتا ہے یا نہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ براہ راست جنگ نہ بھی بڑھے، ایران اور امریکہ کے تعلقات میں ابہام عالمی تیل منڈی میں خطرات کو بڑھاتا ہے، جس سے ایندھن، ٹرانسپورٹ، انشورنس اور سپلائی چین کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بحران کے بعد ملائیشیا نے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں اور روس کے ساتھ تیل، گیس اور ڈیزل کی طویل مدتی فراہمی کا معاہدہ کیا ہے۔
معیشت کے ماہرین کے مطابق یہ اقدام توانائی تحفظ کو بہتر بنا سکتا ہے، تاہم عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہے گا اور اصل چیلنج اس عدم استحکام کا انتظام ہے۔
سان وے یونیورسٹی کے پروفیسر یا کم لنگ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی پیداوار کنندگان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے سپلائی ذرائع اور برآمدی منڈیوں کو متنوع بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بحران توانائی کی کارکردگی بڑھانے، متبادل ذرائع تلاش کرنے اور کاروباری اداروں کی مزاحمت کو مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں ستر سے اسی ڈالر فی بیرل کے درمیان رہیں تو مہنگائی کا دباؤ کم ہوگا اور تجارت و معیشت میں بہتری آئے گی، تاہم عالمی سطح پر خطرات اب بھی موجود رہیں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا اب ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے اور ممالک کو اپنی توانائی، خوراک اور سپلائی چین کو قومی سلامتی کا حصہ سمجھنا ہوگا۔


مشہور خبریں۔
Miguel Delivers a Party for the End of the World on ‘War & Leisure’
?️ 15 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such
کیریبین کے سمندری ڈاکو، ٹرمپ نے وینزوئلا کا تیل کیوں پکڑا؟
?️ 27 دسمبر 2025سچ خبریں: وینزوئلا کے تیل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تنازع
دسمبر
پنجاب حکومت کا عید پر تمام سیاحتی مقامات بند کرنے کا فیصلہ
?️ 6 مئی 2021لاہور(اسچ خبریں) کورونا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر شہریوں کی زندگیوں
مئی
51% امریکی جوان اسرائیل کی نابودی کے خواہاں
?️ 18 دسمبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے چینل 12 نے اپنی ایک رپورٹ میں اعلان
دسمبر
مائیکرو سافٹ کے چار ملازم نوکری سے باہر؛ وجہ ؟
?️ 30 اگست 2025سچ خبریں: مائیکروسافٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کمپنی کی
اگست
سعودی حکومت کے منصوبوں اور اداروں میں کرپشن کا عروج
?️ 13 دسمبر 2022سچ خبریں:انسداد بدعنوانی کے انڈیکس میں سعودی عرب کا نمبر بہت نیچے
دسمبر
حالیہ صورتحال میں پاکستان کس کے ساتھ ہے؟
?️ 5 اکتوبر 2024سچ خبریں: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اسرائیل کو کسی بھی
اکتوبر
اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے پر نیتن یاہو کا ردعمل
?️ 8 جون 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کی جانب سے تل ابیب کو بچوں کو مارنے
جون