بھارتی انتہا پسند ڈرامے باز مودی کا کشمیری عوام کو دھوکا اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی گہری سازش

بھارتی انتہا پسند ڈرامے باز مودی کا کشمیری عوام کو دھوکا اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی گہری سازش

?️

(سچ خبریں) بھارتی انتہا پسند اور ڈرامے باز وزیر اعظم نریندر مودی کا کشمیری عوام کو دھوکا دینے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی گہری سازش دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگئی اور اتنی محنت سے رچایا گیا ڈراما بالکل فلاپ ہوگیا۔

بھارت کے انتہا پسند سوچ کے حامل وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں جمعرات کے روز کل جماعتی مشاورتی کانفرنس کے نام سے ایک ڈھونگ رچایاجس کا مقصد عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا اور جمہوریت پسند، انسانی حقوق اور انصاف کے علمبردار اقوام کو بیوقوف بنانا تھا۔

یہ عجیب کل جماعتی کانفرنس تھی جس میں کشمیری عوام کی حقیقی نمائندہ حریت کانفرنس کے رہنما گھروں میں نظر بند تھے یا جیلوں میں صعوبتیں برداشت کررہے تھے، ان رہنمائوں کو کانفرنس میں مدعو تک نہیں کیا گیا تھا ایسی کانفرنسوں کے موقع پر ماحول کو ساز گار بنانے کے لیے عام طور پر مخالف سیاسی رہنمائوں اور متنازعہ خطہ کے عوام پر پابندیوں میں نرمی کی جاتی ہے مگر بھارتی وزیر اعظم کی زیر صدارت نئی دہلی میں ہونے والی اس کانفرنس کے دوران کشمیری عوام پر طویل عرصہ سے جاری مصائب میں مزید اضافہ کر دیا گیا۔

بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں تیز اور سخت کر دیں انٹرنیٹ سروس 48 گھنٹے کے لیے معطل کر دی گئی، قابض انتظامیہ نے بانہال سے بارہ مولا تک ٹرین سروس کی معطلی میں بھی 30 جون تک توسیع کر دی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین اور دیگر حریت رہنمائوں نے اس کانفرنس سے متعلق رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے نئی دلی میں اپنے سابقہ حاشیہ برداروں کے ساتھ کل جماعتی اجلاس کے نام پر رچایا جانے والا ڈرامہ کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے ایک کوشش ہے۔

نریندر مودی کشمیریوں سے غداری کی تاریخ دہرا رہے ہیں، کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں کی شرکت کے بغیر تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی بھی ملاقات یامذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتے، کشمیری عوام نریندرمودی پر بالکل بھی اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جنہوں نے کشمیر کو آئین، جھنڈے، شناخت اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر کے خود اپنے زر خریدوں کی تذلیل کی ہے۔

اس یک طرفہ اور صرف بھارت نواز کٹھ پتلی کشمیری مدعوعین کی موجودگی کے باوجود یہ نام نہاد کل جماعتی کانفرنس بری طرح ناکام رہی ہے، کانفرنس میں بھارتی حکومت کے زیر اثر آٹھ جماعتوں کے کل 14 رہنمائوں نے شرکت کی جب کہ بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول بھی اپنے وزیر اعظم کی مدد کے لیے موجود تھے، تاہم بھارتی وزیر اعظم نریند مودی بھارتی حکومت کے پروردہ رہنمائوں کو بھی اپنے موقف پر قائل کرنے میں قطعی ناکام رہے چنانچہ نسل در نسل بھارتی مقبوضہ کشمیر میں حکمرانی کرنے والے شیخ محمد عبداللہ کے خاندان کی تیسری نسل کے چشم و چراغ سابق وزیر اعلیٰ مقبوضہ کشمیر فاروق عبداللہ کے صاحبزادے عمر عبداللہ نے کانفرنس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفت گو میں بتایا کہ ہم نے وزیر اعظم نریندر مودی پر واضح کر دیا ہے کہ کشمیری عوام کا بھارت کے ساتھ اعتماد کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی تک ہماری لڑائی جاری رہے گی، ہم وادی میں انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیاں قبول نہیں کریں گے۔

عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ہم نے کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ بات چیت کا معاملہ بھی اٹھایا ہم دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کا خیر مقدم کریں گے کیوں کہ پاکستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور دوست تو بدلے جا سکتے ہیں مگر ہمسائے بدلے نہیں جا سکتے۔ عمر عبداللہ نے مزید بتایا کہ کانفرنس میں وزیر اعظم مودی نے یقین دلایا کہ وہ انتخابات کے بعد کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنا چاہتے ہیں۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر کی ایک اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کانفرنس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ ہم نے مودی حکومت پر واضح کیا ہے کہ پانچ اگست 2019ء کو بھارتی آئین سے دفعہ 370 کا غیر قانونی طریقے سے خاتمہ کیا گیا ہم نے پاکستان کے ساتھ سیز فائر کو اچھا اقدام قرار دیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان سے تجارت اوربات چیت کا آغاز کرے کیونکہ دونوں ملکوں کی تجارت سے کشمیر کے عوام کا روز گار وابستہ ہے اور اس سے کشمیری لوگوں کے معاشی حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے الطاف بخاری، کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد اور کانفرنس میں شریک دیگر رہنمائوں نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا صرف ساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے والی اس کل جماعتی کانفرنس میں اگر کشمیری عوام کے حقیقی نمائندے اور حق خودارادیت کے علم بردار تحریک حریت کے رہنما شریک ہوتے تو نریندر مودی کو نہ جانے کس قدر شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا اور شاید اسی سے محفوظ رہنے کے لیے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے جذبات کی حقیقی ترجمان قیادت کو کانفرنس میں شریک نہیں کیا گیا مگر بھارتی حکومت کے پروردہ رہنمائوں نے بھی جس طرح نریندر مودی کو کھری کھری سنائی ہیں اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام میں بھارت کے خلاف کس قدر نفرت پائی جاتی ہے خاص طور پر پانچ اگست 2019ء کے اقدام اور اس کے بعد تقریباً دو سال سے مقبوضہ وادی میں کرفیو اور بھارتی فوج کے مسلسل محاصرے نے عام کشمیری کی زندگی کو جس قدر اجیرن بنا دیا ہے، اس کے بعد بھارت کے حامی کشمیری سیاست دانوں کے لئے مودی حکومت کے حق میں کلمہ خیر کہنا ممکن نہیں رہا،  یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودوی کی جانب سے رچایا گیا کل جماعتی کانفرنس کا ڈرامہ بری طرح فلاپ ہو گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

فلسطینی اتھارٹی کی مزاحمتی تحریک کے خلاف تازہ ترین خیانت

?️ 7 جنوری 2025سچ خبریں:ایک برطانوی ویب سائٹ نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مزاحمتی

روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر بلاول بھٹو کے بیان کے بعد دفترخارجہ کی تفصیلات

?️ 27 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارت پیٹرولم  نے روس سے تیل اور گیس خریدنے کے حوالے سے دفتر

مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے گھروں پر قابضین کا حملہ

?️ 25 دسمبر 2023سچ خبریں:صیہونی غاصبوں نے گذشتہ دنوں کی طرح مغربی کنارے کے رام

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات مالی سال 2025 میں 17 ارب 89 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں

?️ 20 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ادارہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے جاری

جارحیت کا دارالحکومت

?️ 18 مارچ 2022سچ خبریں:یمنی نیشنل سالویشن گورنمنٹ کے وزیر اعظم نے خلیج تعاون کونسل

حکومت نے سی پیک کے تحت کراچی کے لئے ایک بڑا اعلان کیا

?️ 26 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے سی

غزہ جنگ کے بارے میں اسرائیل کے میڈیا کے اصول

?️ 10 جنوری 2024سچ خبریں:نیویارک ٹائمز اخبار کے مطابق اسرائیلی حکام، غزہ میں جنگ کو

غزہ میں انگوٹھوں کی سرجری بے ہوشی کے بغیر 

?️ 10 نومبر 2023سچ خبریں:عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے منگل کو بتایا کہ غزہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے