?️
سچ خبریں:مقبوضہ علاقوں میں ہونے والے مختلف جائزوں کے مطابق آئندہ انتخابات کے بعد صیہونی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے 4 ممکنہ منظرنامے زیر بحث ہیں، جبکہ دونوں بڑے سیاسی دھڑوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
مقبوضہ علاقوں میں کرائے گئے مختلف عوامی جائزوں کی نوعیت سے آئندہ پارلیمانی انتخابات کے بعد صیہونی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے 4 ممکنہ منظرنامے سامنے آتے ہیں۔
صیہونی پارلیمانی انتخابات میں تقریباً 5 ہفتے باقی رہ گئے ہیں اور مقبوضہ علاقوں سے جاری ہونے والے جائزوں نے اسرائیل میں آئندہ حکومت اور حزب اختلاف کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ بیشتر جائزوں میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں حریف سیاسی دھڑوں کے درمیان سخت توازن موجود ہے اور فی الحال کسی بھی فریق کی قطعی کامیابی یقینی نہیں سمجھی جارہی۔
27 اکتوبر کو مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے 73 لاکھ ووٹرز، جن میں تقریباً 12 لاکھ فلسطینی عرب یعنی 16 سے 17 فیصد ووٹرز شامل ہیں، آئندہ کنیست کے 120 ارکان کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ رجسٹرڈ 38 جماعتی فہرستوں میں سے جائزوں کے مطابق 12 فہرستوں کے انتخابی حد نصاب عبور کرنے کا امکان ہے۔ یہ حد نصاب 3.25 فیصد ہے، جو 4 نشستوں کے برابر بنتی ہے۔
لیکوڈ جماعت اور نیتن یاہو کے حامی مراکز، ذرائع ابلاغ اور اخبارات کی جانب سے کرائے گئے جائزوں کو الگ رکھا جائے تو دیگر بیشتر جائزے اس بات پر متفق ہیں کہ دونوں بڑے حریف دھڑے غیر متوقع صورت حال پیدا ہونے کے بغیر 61 نشستوں کی مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر پائیں گے۔
جائزوں کے مطابق موجودہ حکومتی اتحاد، یعنی نیتن یاہو کی قیادت میں نسبتاً زیادہ دائیں بازو کا دھڑا، جس میں بن گویر، اسموتریچ اور دیگر مذہبی جماعتیں شامل ہیں، 50 سے 54 نشستیں حاصل کرسکتا ہے۔ بعض اندازوں میں یہ تعداد 58 یا 60 نشستوں تک پہنچنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب معتدل دائیں بازو کی حزب اختلاف کے بارے میں بھی صورتحال تقریباً ایسی ہی ہے۔ بیشتر جائزوں میں اس دھڑے کے لیے 52 سے 56 نشستوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ جماعتی اعتبار سے اندازہ یوں بیان کیا گیا ہے: یش عتید 21 سے 24 نشستیں، بلیو اینڈ وائٹ اتحاد 10 سے 13 نشستیں، ڈیموکریٹس 9 سے 10 نشستیں اور اسرائیل ہمارا گھر 8 سے 9 نشستیں۔ متحدہ فہرست کی نشستوں کو شامل کرنے یا چھوٹے دھڑوں میں سے کسی ایک کے ساتھ اتحاد کی صورت میں یہ دھڑا 61 نشستوں کی فیصلہ کن حد کے قریب پہنچ سکتا ہے۔
انتخابات کے بعد کے ممکنہ منظرنامے
دونوں بڑے دھڑوں کے درمیان موجود توازن اور عوامی جائزوں کو دیکھتے ہوئے، آئندہ حکومت اور وزیر اعظم کی شناخت کا تعین مشکل ہوسکتا ہے۔ اس تناظر میں رپورٹ میں صیہونی انتخابات کے بعد کے 4 ممکنہ منظرنامے پیش کیے گئے ہیں:
1: نیتن یاہو اور ان کے اتحاد کی دوبارہ اقتدار میں واپسی
رپورٹ میں اس منظرنامے کے امکان کو درمیانے سے زیادہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کی اس لڑائی کو انتہائی سنجیدگی سے آگے بڑھائیں گے۔ دائیں بازو کی سخت گیر جماعتیں بھی اس جدوجہد کو نہ صرف فلسطینیوں، عرب ہمسایہ ممالک اور ایران کے ساتھ ایک فیصلہ کن معرکے کے طور پر دیکھتی ہیں بلکہ اسے اپنے نظریات کے مطابق یہودی ریاست کی تشکیل نو کے لیے ایک نادر موقع بھی سمجھتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو حزب اختلاف میں اختلافات پیدا کرنے اور اس کے غیر فیصلہ کن ارکان کو وزارتوں کی پیشکش کے ذریعے اپنی جانب راغب کرنے کی بھرپور کوشش کرسکتے ہیں۔ وہ ماضی کی طرح اپنے سیاسی مخالفین کی کمزوریوں اور حساس نکات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو گادی آیزنکوت کے خلاف بائیں بازو اور ڈیموکریٹس کے ساتھ اتحاد اور عرب ووٹوں پر انحصار کے معاملے کو سیاسی طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ اسی طرح نفتالی بینت کے خلاف لبرل ازم کے معاملے کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے، جسے رپورٹ میں ریاست کی قوم پرستانہ اور یہودی شناخت کے منصوبے کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اپنے مخالفین کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کا سابقہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔ 2011 میں انہوں نے ایہود باراک اور لیبر پارٹی کے بعض ارکان کے ساتھ، 2020 میں بنی گینتز کی قیادت میں بلیو اینڈ وائٹ اتحاد کے ساتھ اور 2022 میں نفتالی بینت کی قیادت میں یمینا جماعت کے ساتھ سیاسی اختلافات سے فائدہ اٹھایا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے کنیست کے 2 ارکان، عیدیت سیلمان اور عمیخای شیکلی، کو اپنے دھڑے میں شامل کرکے بینت کی 61 رکنی حکومت ختم کرنے میں کردار ادا کیا۔ بعد میں دونوں کو لیکوڈ کی فہرست میں محفوظ نشستیں دی گئیں اور نیتن یاہو کی حکومت میں وزارتیں بھی ملیں۔
دوسری جانب رپورٹ کے مطابق گادی آیزنکوت نیتن یاہو کی عوامی مقبولیت میں کمی اور علاقائی و بین الاقوامی حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ اور امریکا کے مؤقف کے ساتھ ساتھ 7 اکتوبر سے پہلے جاری کیے گئے علاقائی انتباہات کو نظر انداز کیے جانے کے نتائج بھی اس صورتحال میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
2: گادی آیزنکوت کی قیادت میں حزب اختلاف کی حکومت
رپورٹ میں اس منظرنامے کے امکان کو پہلے منظرنامے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
گادی آیزنکوت کو حکومت بنانے کا موقع مل سکتا ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق انہیں متعدد مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ حزب اختلاف کے 2 اہم ارکان، بینت اور لیبرمان، عرب ووٹوں پر انحصار کرنے سے گریز کرتے ہیں، خواہ یہ ووٹ اتحاد کے اندر سے حاصل ہوں یا باہر سے۔
اس کے علاوہ انہیں اسرائیل ہمارا گھر جماعت کے سربراہ کی جانب سے مذہبی جماعتوں، مثلاً شاس، کو حکومتی اتحاد میں شامل کرنے کی مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مذہبی جماعتیں ماضی میں لیبر پارٹی اور لیکوڈ دونوں کے ساتھ اتحاد کرچکی ہیں تاکہ سرکاری بجٹ میں اپنا حصہ برقرار رکھ سکیں۔
رپورٹ کے مطابق آیزنکوت نیتن یاہو کی عوامی مقبولیت میں کمی اور ایسے بین الاقوامی ماحول سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے جس میں نیتن یاہو کے دور کے خاتمے کی خواہش پائی جاتی ہے۔ وہ حزب اختلاف کو متحد کرنے والے نعرے نیتن یاہو کے سوا کوئی بھی پر بھی انحصار کرسکتے ہیں۔
3: اسحاق ہرزوگ کا منظرنامہ
رپورٹ نے اس امکان کو اسحاق ہرزوگ کا منظرنامہ قرار دیا ہے اور اس کے امکان کو کم سے درمیانہ بتایا ہے۔
اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے مقبوضہ علاقوں میں حکومت سازی کے تعطل کو ختم کرنے کے لیے تمام قانونی، آئینی اور اخلاقی ذرائع استعمال کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہرزوگ نیتن یاہو کی سخت گیر دائیں بازو کی حکومت کے شدید مخالف ہیں اور ان کے خیال میں اس حکومت کی پالیسیاں اور اقدامات اسرائیل کی عالمی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں اور اسے بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار کررہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انتخابات کے حتمی نتائج کے باضابطہ اعلان کے بعد، جو زیادہ سے زیادہ 8 دن میں ہونا چاہیے، ہرزوگ پارلیمانی دھڑوں سے مشاورت کریں گے اور زیادہ سے زیادہ 14 دن کے اندر حکومت بنانے کی ذمہ داری اس شخصیت کو سونپ سکتے ہیں جو سب سے وسیع اتحاد تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
ضروری نہیں کہ یہ ذمہ داری انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والے دھڑے کے رہنما کو ہی دی جائے۔
رپورٹ میں صیہونی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہرزوگ نے حکومت سازی کی ذمہ داری حاصل کرنے والے شخص کے لیے مقررہ مدت میں مزید توسیع نہ کرنے کا اختیار استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے مشاورت کو علانیہ کرنے کی آمادگی بھی ظاہر کی ہے تاکہ حکومت سازی میں رکاوٹ ڈالنے والے فریق کو عوام کے سامنے لایا جاسکے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق ہرزوگ کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ نیتن یاہو کی جانب سے دوسرے نمبر پر رہنے سے انکار ہوسکتی ہے، یعنی نیتن یاہو اس بات پر رضامند نہ ہوں کہ پہلی مدت میں گادی آیزنکوت وزیر اعظم بنیں۔
اسی طرح آیزنکوت کی نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ حکومت میں شمولیت کی مخالفت بھی ایک اہم رکاوٹ ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق حزب اختلاف کے دیگر رہنما بھی اس شراکت کے مخالف ہیں۔
4: مقبوضہ علاقوں میں قبل از وقت انتخابات کا سلسلہ
اگر حکومت سازی کا عمل صیہونی آئین میں طے شدہ قانونی مدت کے مطابق آگے نہ بڑھ سکا تو نئی حکومت کی تشکیل میں 5 ماہ تک کا عرصہ گزر سکتا ہے۔ اس دوران کنیست کو تحلیل کرکے 3 ماہ کے اندر قبل از وقت انتخابات کرانے پڑسکتے ہیں۔ اس عرصے میں موجودہ حکومت بطور عبوری حکومت کام جاری رکھے گی اور روزمرہ امور چلانے کے لیے ضروری اختیارات برقرار رکھے گی۔
اسرائیل میں قبل از وقت انتخابات کا تجربہ پہلے بھی ہوچکا ہے، بالخصوص اپریل 2019 سے مارچ 2021 کے درمیان، جب صرف 2 برس کے دوران 4 انتخابات ہوئے۔ بالآخر بینت اور لاپید کی حکومت قائم ہوئی، تاہم وہ زیادہ عرصے تک برقرار نہ رہ سکی۔
رپورٹ کے مطابق یہ منظرنامہ نیتن یاہو کے لیے تیسری دفاعی حکمت عملی ہوسکتا ہے، بشرطیکہ وہ موجودہ اتحادیوں کے ساتھ دائیں بازو کی حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہیں یا گادی آیزنکوت کو گھومتی ہوئی وزارت عظمیٰ کے فارمولے پر آمادہ نہ کرسکیں، جس کے تحت ابتدا میں نیتن یاہو وزیر اعظم بنیں۔
رپورٹ کے مطابق ایسی صورت میں نیتن یاہو عبوری حکومت کی صورت میں بھی اقتدار میں برقرار رہ سکتے ہیں، جس سے انہیں ان کے خلاف جاری عدالتی مقدمات اور تحقیقات سے تحفظ حاصل ہوسکتا ہے یا کم از کم انہیں ان کے طریقۂ کار اور رفتار پر اثر انداز ہونے کا اختیار مل سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
اسپین میں میچ کے دوران اسرائیلی پرچم کی جگہ فلسطینی پرچم لہرایا گیا
?️ 12 نومبر 2025 اسپین میں میچ کے دوران اسرائیلی پرچم کی جگہ فلسطینی پرچم
نومبر
شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن
?️ 2 جولائی 2022راولپنڈی (سچ خبریں) شمالی وزیر ستان کے علاقے غلام خان کلے میں
جولائی
واٹس ایپ میں ’چیٹ لاکس‘ کو بہتر بنانے کا فیچر پیش کرنے کا امکان
?️ 10 اکتوبر 2023سچ خبریں: دنیا کی سب سے بڑی انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس
اکتوبر
انسٹاگرام پر اے آئی ویڈیو ایڈیٹنگ ٹولز متعارف
?️ 25 اکتوبر 2025 سچ خبریں: سوشل میڈیا شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام کی اسٹوریز میں
اکتوبر
بائیڈن کی مقبولیت میں نمایاں کمی، یہاں تک کہ ان کی پارٹی میں بھی
?️ 21 مئی 2022سچ خبریں: جمعہ کو جاری ہونے والے ایک نئے سروے میں، بائیڈن
مئی
صہیونی فوجی جنگ کے خوف سے خود کو معذور بنا رہے ہیں
?️ 30 اگست 2023سچ خبریں: عبرانی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس حکومت کی
اگست
آئی ایم ایف کا نواں اور دسواں جائزہ ایک ساتھ ہوسکتا ہے، اسحٰق ڈار
?️ 14 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ بین
دسمبر
ترکی میں صہیونی شہریوں کے کارنامے
?️ 18 اگست 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے سربراہ اسحاق ہرزوگ اور اس حکومت کے وزیر
اگست