?️
سچ خبریں:لبنان کے روزنامه الاخبار کے ایڈیٹر ابراہیم امین نے سید هاشم صفیالدین کی شہادت کی برسی کے موقع پر اپنی آخری ملاقات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ شہید صفیالدین نہ صرف ایک عظیم رہنما تھے بلکہ ان کی شخصیت بہت حد تک سید حسن نصراللہ سے مشابہت رکھتی تھی۔
سید هاشم صفیالدین نے حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کے طور پر صرف چھ روز گزارے، مگر ان چھ دنوں میں انہوں نے نہ صرف حزب اللہ کی قیادت اور تنظیم کو نئے سرے سے متحرک کیا بلکہ اسرائیل کے خلاف جاری مزاحمت کو بھی طاقت دی۔
یہ بھی پڑھیں:حزب اللہ: صہیونی دشمن کے خلاف مزاحمت اور ان کا مقابلہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں
ان کی شہادت 4 اکتوبر 2024 کو صیہونی حملے میں ہوئی، جس کے بعد حزب اللہ نے 24 اکتوبر کو ان کی شہادت کا اعلان کیا، شہید سید ہاشم صفیالدین کی شہادت کا صدمہ حزب اللہ کے لیے ایک سنگین دھچکا تھا، لیکن انہوں نے اس وقت کی قیادت کو مضبوط کیا اور حزب اللہ کی رہنمائی میں عزم و ہمت سے کام لیا۔
شہید سید هاشم صفیالدین کی شخصیت کی جھلک
ابراہیم امین نے اپنی تحریر میں شہید سید هاشم صفیالدین کی شخصیت کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور کہا کہ وہ نہ صرف ایک مدبر رہنما تھے بلکہ ان کی شخصیت میں وہ سادگی اور محنت تھی جو سید حسن نصراللہ کی شخصیت سے مشابہت رکھتی تھی، شہید صفیالدین کی قیادت میں حزب اللہ کے معاملات میں نیا جذبہ اور حکمتِ عملی نظر آئی، ان کی نظر میں مذہبی اور سیاسی مسئلے یکساں اہمیت رکھتے تھے اور وہ ہر فیصلہ حزب اللہ کی اجتماعی حکمت کے مطابق کرتے تھے۔
آخری ملاقات کی تفصیل
ابراہیم امین نے شہید صفیالدین کے ساتھ اپنی آخری ملاقات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات میں شہید صفیالدین نے نہ صرف میدانِ جنگ کی حکمت عملی پر بات کی بلکہ لبنان کی داخلی سیاست اور فلسطینیوں کی جدوجہد پر بھی گہرے خیالات کا اظہار کیا، وہ ہمیشہ غزہ میں فلسطینی مزاحمت کے عزم کو سراہتے تھے اور عالمی برادری کی فلسطین کے بارے میں خاموشی پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے تھے۔
ابراہیم امین نے کہا کہ سید هاشم صفیالدین نے طوفان الاقصیٰ کے دوران فلسطینیوں کی قربانیوں اور مزاحمت کو سراہا اور کہا کہ ہم کیسے خاموش رہ سکتے ہیں جب فلسطین میں ظلم ہو رہا ہو؟
حزب اللہ کی قیادت کا سنگین مرحلہ
شہید صفیالدین کی شہادت کے بعد حزب اللہ کے لیے ایک نیا چیلنج تھا، حزب اللہ کی قیادت نے شہید صفیالدین کی رہنمائی کے بعد اپنی اندرونی طاقت کو دوبارہ فعال کیا، ان کی قیادت میں حزب اللہ نے نہ صرف مزاحمت کو جاری رکھا بلکہ عالمی سطح پر اپنے موقف کو بھی پختہ کیا۔
ابراہیم امین نے لکھا کہ شہید سید هاشم صفیالدین ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے نہ صرف لبنان کی مزاحمت کی قیادت کی بلکہ پورے خطے میں فلسطین کے قومی حقِ خودارادیت کے لیے آواز بلند کی،ان کی شخصیت میں وہ جوہر تھا جو ایک رہنما کو لازم ہوتا ہے، اور وہ ہر وقت اپنی قوم کے لیے وقف رہے۔
مزید پڑھیں:شہید محمد عفیف؛ حزب اللہ کے میڈیا جہاد کی قیادت کرنے سے لے کر جنگ کے دل میں ہونے تک
ابراہیم امین نے اپنے مضمون کے اختتام پر کہا کہ وقت تمام سوالات کے جواب دے گا، لیکن شہید سید هاشم صفیالدین کی قربانی اور ان کی قیادت ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھی جائے گی، حزب اللہ کے لیے یہ ایک نیا مرحلہ تھا اور اب وقت ہے کہ نئے قائدین اس ورثے کو آگے بڑھائیں۔


مشہور خبریں۔
ٹرمپ قطر پر اسرائیلی دہشتگردانہ حملےمین ملوث تھے:حماس
?️ 11 ستمبر 2025ٹرمپ قطر پر اسرائیلی دہشتگردانہ حملےمین ملوث تھے:حماس فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس
ستمبر
لاہور میں پہلے کمرشل کورٹ کا افتتاح کیا گیا
?️ 6 جون 2021لاہور(سچ خبریں) چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے لاہور جوڈیشل کمپلیکس
جون
ٹرمپ کی ضیافت میں بن سلمان؛ امریکہ کے کاغذی وعدوں کے بدلے سعودی سرمایہ
?️ 20 نومبر 2025سچ خبریں: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا واشنگٹن کا
نومبر
مغربی کنارے میں ایک اور جنین
?️ 5 اگست 2023سچ خبریں: مغربی کنارے کے شمال میں واقع بلاطہ کیمپ بتدریج مزاحمتی
اگست
سعودی اور اسرائیلی حکام کی خفیہ ملاقاتوں کا انکشاف
?️ 23 ستمبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے قومی ریڈیو اور ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی
ستمبر
حکومت کا ’غیرجانبدارانہ فیصلوں‘ کیلئے آئینی عدالت کے قیام پر غور
?️ 30 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی زیر قیادت
مئی
تل ابیب کی یو اے ای سے حالات کو پرسکون کرنے کی درخواست
?️ 8 جنوری 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیر اٹمار بن گوئر کے مسجد الاقصی
جنوری
حکومت کا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار، قانونی آپشنز پر غور
?️ 5 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومتی اتحاد نے واضح طور پر سپریم کورٹ
اپریل