?️
سچ خبریں: برطانیہ کے ایک سیاسی تجزیہ کار اور جنگ مخالف اتحاد کے سینئر رکن اسٹیو بیل نے ایرنا کے لیے اپنے خصوصی مضمون میں لکھا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ فوجی کارروائی ٹرمپ انتظامیہ کے بحران کی عکاسی کرتی ہے اور واشنگٹن خطے میں اپنی جنگی پالیسیوں کی ناکامی سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اس وقت ویتنام جنگ کے بعد اپنی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی کا سامنا کر رہا ہے۔
اسٹیو بیل نے اپنے مضمون میں لکھا: "امریکہ کے نئے حملے ٹرمپ حکومت کے اندر موجود بحران کا ایک اور مظہر ہیں اور واشنگٹن نے ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام کے ذریعے جنگ بندی اور ایران و امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکام نے ان حملوں کو پیر کے روز ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے گرنے کا جواب قرار دیا، جس کے بارے میں واشنگٹن کا دعویٰ تھا کہ یہ ایرانی ڈرون حملے کا نتیجہ تھا۔ تاہم بیل کے مطابق ہیلی کاپٹر کا عملہ محفوظ رہا اور امریکی بحریہ نے انہیں بچا لیا، جبکہ ایران نے بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کسی فوجی کارروائی کی تردید کی۔
برطانوی تجزیہ کار نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی سی نیوز کو ایک نامعلوم امریکی عہدیدار کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ: "یہ واضح نہیں کہ ڈرون نے جان بوجھ کر ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا تھا یا نہیں۔” ان کے مطابق امریکی حکومت اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر سکتی تھی اور ایران سے وضاحت طلب کر سکتی تھی، لیکن اس کے بجائے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسی فوجی کارروائی کی منظوری دی جس سے جنگ بندی اور مذاکرات دونوں خطرے میں پڑ گئے۔
امریکہ جب شکست کھاتا ہے تو سفارت کاری کی طرف رجوع کرتا ہے
بیل نے ٹرمپ کے اسی روز کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "ہم ایک بہت اچھے معاہدے کے آخری مراحل میں ہیں”، لکھا کہ امریکی حکومت کے غیر متوقع، غیر ذمہ دارانہ اور متضاد اقدامات اس کی پالیسی کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔
ان کے مطابق واشنگٹن پہلے فوجی طاقت کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا، پھر ایران کے ساتھ جنگ بندی پر آمادہ ہوا، اس کے بعد آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ مسلط کرنے کے لیے ایک نام نہاد "آزادی آپریشن” شروع کیا، اور جب اس میں بھی کامیاب نہ ہوا تو ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے کہا: "امریکہ ہر مرحلے پر جب ناکام ہوتا ہے تو سفارت کاری کی طرف لوٹ آتا ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے وہی چیز حاصل کر سکے جو طاقت کے استعمال سے حاصل نہیں کر سکا۔”
ویتنام جنگ کے بعد سب سے بڑی ناکامی
جنگ مخالف اتحاد کے اس سینئر رکن نے زور دیا کہ: "امریکی سامراج ویتنام کے خلاف جنگ کے بعد اپنی خارجہ پالیسی کی سب سے سنگین ناکامی سے دوچار ہے۔”
ان کے مطابق ٹرمپ حکومت شکست تسلیم کرنے اور کشیدگی بڑھانے کے درمیان پھنسی ہوئی ہے، جبکہ حکومت کے اندر موجود جنگ پسند حلقے امریکہ کی ساکھ میں کمی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
امریکی عوام جنگ سے تھک چکے ہیں
بیل نے لکھا کہ امریکی عوام جنگ سے اکتا چکے ہیں۔ ان کے مطابق 8 جون کو جاری ہونے والے ایک تازہ مجموعی سروے میں 57.4 فیصد ووٹرز جنگ کے مخالف تھے جبکہ صرف 37 فیصد اس کے حامی تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ:
- مہنگائی تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
- جنگ کے باعث اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
- پٹرول کی قیمت 4.16 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ جنگ سے پہلے یہ 2.98 ڈالر تھی۔
- جنگ کی اضافی لاگت امریکی خاندانوں پر تقریباً 100 ارب ڈالر کا بوجھ ڈال رہی ہے، جو اوسطاً 750 ڈالر فی خاندان بنتی ہے۔
ریپبلکن پارٹی کو انتخابی شکست کا خدشہ
اسٹیو بیل نے امریکی فوجی اخراجات میں اضافے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ دفاعی بجٹ کو ایک ٹریلین ڈالر سے بڑھا کر 1.5 ٹریلین ڈالر تک لے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق توانائی، اسلحہ سازی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے منافع میں اضافہ اسٹاک مارکیٹ کو سہارا دے رہا ہے، جبکہ محنت کش طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے حالات میں ریپبلکن پارٹی کو نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور بعض شرط لگانے والے اداروں کی پیش گوئی کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں پر کنٹرول حاصل کر سکتی ہے۔
بیل نے مزید لکھا کہ ٹرمپ کی مقبولیت مسلسل کم ہو رہی ہے: "59 فیصد لوگ ان کی کارکردگی سے ناخوش ہیں جبکہ صرف 37 فیصد اسے پسند کرتے ہیں۔”
ٹرمپ کے "امن پسند” ہونے کے دعوے پر تنقید
برطانوی تجزیہ کار نے ٹرمپ کے خود کو "امن کا صدر” قرار دینے کے دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا: "ٹرمپ کا یہ دعویٰ بالکل کھوکھلا دکھائی دیتا ہے۔”
ان کے مطابق غزہ اور لبنان میں جن جنگ بندیوں کا دعویٰ کیا گیا، انہوں نے اسرائیل کو اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ کے انتظام کے لیے ٹرمپ کی مجوزہ "امن کمیٹی” اقوام متحدہ کا متبادل بننے میں ناکام رہی ہے۔ فروری کے بعد سے اس کا کوئی اجلاس نہیں ہوا، اس کے پاس کوئی بجٹ نہیں، اور وہ غزہ میں اپنا انتظامی ڈھانچہ بھی قائم نہیں کر سکی۔
بین الاقوامی اداروں کے استعمال پر اعتراض
بیل نے امریکی اتحادیوں، خصوصاً برطانیہ اور یورپی یونین، پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ان کی حمایت کے نتیجے میں بین الاقوامی ادارے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران سے فوری معلومات طلب کرنے کا مطالبہ کیا گیا، لیکن اسی ادارے نے ایران کی غیر فوجی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی اسرائیل سے اپنے جوہری پروگرام کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ان کے بقول: "ایک بار پھر کثیرالجہتی اداروں کو ایک ترقی پذیر ملک کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔”
اختتامی تجزیہ
اپنے مضمون کے اختتام پر اسٹیو بیل نے خبردار کیا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ مزید شدت اختیار کرے گی یا نہیں۔
تاہم ان کے مطابق: "عالمی معیشت میں بڑھتی ہوئی بے چینی، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اندر جنگ اور کفایت شعاری کی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت، اور مغربی ایشیا کی آزادی پسند قوموں کی مزاحمت نے سامراجی جنگی مشین کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔”
انہوں نے آخر میں لکھا: "سامراجی طاقتوں کی دباؤ اور مداخلت پر مبنی پالیسیاں جاری ہیں، لیکن ان کے مسائل بھی گہرے اور طویل المدت ہوتے جا رہے ہیں۔ مستقبل مظلوم قوموں کا ہے، نہ کہ ظالم طاقتوں کا۔”


مشہور خبریں۔
سعودی نفرت انگیز ولی عہد بھی یوکرینی بحران سے فائدہ اٹھانے کے درپے: یورپی خارجہ تعلقات کونسل
?️ 16 فروری 2022سچ خبریں:یورپی خارجہ تعلقات کونسل نے اپنی ایک حالیہ تحقیق میں کہا
فروری
عراق کے شہر بصرہ میں امریکی فوج کے لاجسٹک قافلے کو نشانہ بنایا گیا
?️ 6 جنوری 2022سچ خبریں: جمعرات کو عراقی صوبے بصرہ میں ایک اور امریکی فوجی
جنوری
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کیا چل رہا ہے؟
?️ 6 اکتوبر 2023سچ خبریں:طالبان کے نائب وزیر خارجہ شیر محمد عباس استانکزئی نے 17
اکتوبر
اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے وجود کو مسترد کیا
?️ 16 دسمبر 2023سچ خبریں:اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے عرب اور اسلامی وزارتی
دسمبر
صہیونی جنگی طیاروں کے جنوبی لبنان پر حملے؛ 10 افراد شہید
?️ 3 دسمبر 2024سچ خبریں:صہیونی جنگی طیاروں کی جانب سے گزشتہ روز جنوبی لبنان کے
دسمبر
صیہونیوں کو غزہ جنگ کے جاری رہنے کے نتائج پر تشویش
?️ 17 اگست 2025سچ خبریں: عبرانی اخبار "معاریو” کے تازہ ترین سروے کے مطابق، اسرائیلی
اگست
سائبری جنگ میں ایران کے مقابل میں اسرائیل کی شکست
?️ 2 نومبر 2021سچ خبریں: گزشتہ ہفتے اسرائیلی اخبار یدیوتھ احرونوت نے انکشاف کیا تھا کہ
نومبر
یورپی بینک سائبر حملوں کی زد میں
?️ 11 فروری 2022سچ خبریں:یورپی مرکزی بینک ECBنے یورپی بینکوں کو خبردار کیا ہے کہ
فروری