یحییٰ السنوار حماس کا نمبر ایک شخص صہیونیوں کا ڈراؤنا خواب کیسے بن گیا؟

یحییٰ السنوار

?️

سچ خبریں: یحییٰ السنوار، جو آج حماس کے نمبر ایک قائد اور صیہونی ریاست کے لیے ایک مستقل کابوس بن چکے ہیں، کا جنم غزہ کے خان یونس پناہ گزین کیمپ میں اس وقت ہوا جب ان کا خاندان مجدل کے علاقے سے بے گھر ہو کر آیا تھا۔
واضح رہے کہ انہوں نے خان یونس کیمپ کے اسکولوں میں ہی بنیادی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد اسلامی یونیورسٹی سے عربی مطالعات میں ڈگری حاصل کی۔
اسیری کے دوران بھی السنوار نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور اسرائیلی جیلوں میں حماس کے قیدیوں کی قیادت سنبھالی۔ فلسطینی جلاوطن "عصمت منصور” جو کئی سال اسرائیلی جیلوں میں رہے، کے مطابق السنوار ایک عام، سادہ اور مذہبی انسان ہیں جن کے ہر عمل پر ان کے مذہبی پس منظر کی واضح نشانی ہے۔
منصور کے مطابق السنوار کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے قائل نہیں تھے اور ہر معاملے کو ایک خاص حکمت عملی کے تحت ہی دیکھتے تھے۔ فتح سے تعلق رکھنے والے سابق قیدی "عبدالفتاح دولہ” نے 2006 میں السنوار سے اپنی پہلی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں سماجی اور انسان دوست شخصیت قرار دیا۔
حماس کے سابق قیدی "صلاح الدین طالب” جو سالہا سال جیل میں السنوار کے ساتھ رہے، نے ان کی عاجزی اور نوجوانوں کے ساتھ پرلطف تعلقات کو ان کی شخصیت کی خاص بات بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حماس رہنما کی سلامتی کے معاملے میں ہوشیاری نے انہیں تحریک کے دیگر رہنماؤں سے ممتاز کر دیا تھا۔
سلامتی کا جنون:
نوے کی دہائی کے وسط میں، حماس کو ویسٹ بینک اور غزہ پٹی میں کاری ضرب لگی جس میں اس کے کئی رہنماؤں کو صیہونی جاسوسی اداروں نے نشانہ بنایا۔ اس صورت حال نے السنوار کے اندر سلامتی کے معاملے میں ایک نئے جنون کو جنم دیا۔
شالیٹ ڈیل اور السنوار:
نوے کی دہائی کے آغاز میں ہی جب السنوار اسرائیلی جیلوں میں تھے، حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے صیہونی فوج کے خلاف اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ جیل کے اندر ہی السنوار کے تحریک کے عسکری ونگ کے اراکین کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہوئے۔ 2011 میں جیل سے رہائی کے بعد ان تعلقات نے السنوار کی سرگرمیوں کے لیے نئی راہیں کھول دیں۔
انہی تعلقات کی بدولت، 2011 میں شالیٹ کے تبادلے اور "ابو ابراہیم” (یحییٰ السنوار) کی رہائی کے بعد، ان کے کیریئر کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ السنوار کے چھوٹے بھائی محمد السنوار القسام بریگیڈز کے ایک اہم کمانڈر تھے جنہوں نے صیہونی فوجی "گلعاد شالیٹ” کے اغوا اور اسے سالہا سال قید رکھنے کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔
2011 میں ہونے والے قیدیوں کے تبادلے کی مذاکرات میں السنوار کی مرکزی حیثیت بن گئی۔ یہاں تک کہ صیہونی مذاکراتی ٹیم کا ایک اہم رکن براہ راست ان سے بات چیت کے لیے جیل آیا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مذاکرات کے عمل پر السنوار کا گہرا اثر ہے۔
موت کے دہانے تک:
تبادلے کی بات چیت کے آخری مراحل میں السنوار ایک ایسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو گئے جس نے ان کی جان کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ سابق قیدی عبدالفتاح دولہ کے مطابق السنوار نے ابتدائی طور پر جیل کی طبی سہولت جانے سے انکار کر دیا، لیکن جب ان کی حالت زیادہ بگڑ گئی تو ان کے ساتھیوں نے مجبوراً انہیں کلینک لے جانا ہی بہتر سمجھا۔
بئر السبع جیل کے کلینک میں السنوار کی آمد نے اسرائیلی جیل انتظامیہ میں ہلچل مچا دی۔ ایک بے مثال اقدام کے طور پر، فوری طور پر ہیلی کاپٹر بلا کر انہیں "سوروکا” ہسپتال لے جایا گیا جہاں ایک نہایت پیچیدہ اور خطرناک آپریشن میں ان کے دماغ سے ایک بے قابو ٹیومر نکالا گیا۔ اسرائیلی انتظامیہ کا یہ غیر معمولی رد عمل درحقیقت شالیٹ ڈیل پر السنوار کی صحت کے ممکنہ منفی اثرات کے گہرے خوف کا آئینہ دار تھا۔
برغوثی اور سعدات کے ساتھ تعلقات:
عصمت منصور کے مطابق، "ہداریم” مرکزی جیل میں السنوار نے مروان برغوثی اور احمد سعدات جیسے نمایاں فلسطینی رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ اگرچہ ان کے نقطہ ہائے نظر میں مکمل ہم آہنگی نہیں تھی، لیکن باہمی اعتماد اور احترام کی فضاء نے انہیں مشترکہ طور پر کام کرنے کے قابل بنایا۔
ان تینوں رہنماؤں نے جیلوں میں ہونے والی ہڑتالوں کی قیادت کی اور باہر کی دنیا کے لیے منصوبے اور پیغامات تیار کیے، جن میں سب سے اہم 2006 کے موسم بہار میں "قیدیوں کے قومی مفاہمت کے معاہدے” کی صورت میں سامنے آیا، جس کا مقام فتح اور حماس کے درمیان پھیلنے والی خلی کو پاٹنا تھا۔
2011 کے بعد القسام بریگیڈز اور السنوار:
2011 میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت رہائی کے بعد، السنوار نے حماس میں اپنی سلامتی کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تحریک کے عسکری ونگ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا۔ 2012 میں انہیں تحریک کی سیاسی بیورو کا رکن منتخب کیا گیا اور فوری طور پر عسکری ونگ کے ساتھ رابطے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ بالآخر 2017 کے انتخابات میں وہ غزہ میں حماس کی سیاسی بیورو کے سربراہ بن گئے۔
طوفان الاقصیٰ کے اشارے:
عبدالفتاح دولہ کا کہنا ہے کہ السنوار کے بارے میں ہمیشہ یہ احساس موجود تھا کہ وہ کسی بڑے عمل کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔ یہ احساس ان کی جیلوں میں قیدیوں کے لیے بھیجی گئی تقاریر اور پیغامات سے مزید مضبوط ہوا۔ جب 7 اکتوبر کو طوفان الاقصیٰ کا عمل شروع ہوا اور صیہونی ریاست نے غزہ میں نسل کشی کا آغاز کیا، تو صیہونی ریاست نے السنوار کو "نمائشی نمبر ون” قرار دیتے ہوئے انہیں طوفان الاقصیٰ کی مکمل ذمہ دار ٹھہرایا۔

مشہور خبریں۔

متحدہ عرب امارات کا انصاراللہ اور سعوی حکام کے درمیان مذکرات پر ردعمل

?️ 19 ستمبر 2023سچ خبریں: متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے یمن کے بحران

اپوزیشن ملک میں صرف انتشار پھیلانا چاہتی ہے

?️ 23 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بڑا بیان، بھارت سیخ پا ہوگیا

?️ 30 مئی 2021نئی دہلی (سچ خبریں)  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکان

یمن کے تعز پر سعودی اور عرب امارات کے درمیان جھڑپیں

?️ 26 فروری 2022سچ خبریں:  ایک سینئر فوجی اہلکار نے الاصلاح پارٹی کے طائز فوجی

واٹس ایپ پر وائس نوٹ کو تحریر میں تبدیل کرنے کا طریقہ جان لیں

?️ 28 فروری 2025سچ خبریں: انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے نومبر 2024 میں

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نے نیتن یاہو کو جھوٹا اور ٹرمپ کو ناسمجھ قرار دیا

?️ 17 اگست 2025اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نے نیتن یاہو کو جھوٹا اور ٹرمپ

صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کے گھروں کے انہدام میں تیزی

?️ 13 فروری 2021سچ خبریں:نئے سال کے آغاز سے ہی صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کے

حماس کا اصرار ہے کہ معاہدے میں جنگ کا خاتمہ لکھا جائے

?️ 6 مئی 2024سچ خبریں: غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر قاہرہ کے مذاکرات سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے