نواز شریف کی کرپشن!

نواز شریف

?️

وزیراعظم عمران خان اگر اپنے کسی سیاسی مخالف کو سب سے زیادہ ہدفِ تنقید بناتے ہیں تو وہ نواز شریف اور شہباز شریف ہیں۔ اُس کی ایک تو سیاسی وجہ ہے کیوں کہ سیاسی طور پر عمران خان یا پی ٹی آئی کو اگر اپنے کسی مخالف سے سب سے زیادہ خطرہ ہے تو وہ ن لیگ اور شریف فیملی ہے۔ جب کرپشن کی بات آتی ہے تو خان صاحب شریف برادران کو ہی سب سے بڑے کرپٹ اور چور کا خطاب دیتے ہیں اور اُن کا یہ بیانیہ عوام میں کافی زیادہ پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔

پاناما اسکینڈل نے کیا اور کس کس کے بارے میں انکشافات کیے، پاناما جے آئی ٹی کیسے بنی اور کس طرح چن چن کر اپنی مرضی کے لوگ اُس میں واٹس ایپ کال کے ذریعے ڈلوائے گئے؟

کوئی چار پانچ سو پاکستانیوں کے نام پاناما اسکینڈل میں سامنے آئے لیکن نیب اور سپریم کورٹ نے صرف اُس وقت کے وزیراعظم کے کیس کو ہی فوکس کیا، اقامہ کی بنیاد پر نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دے دیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ صادق اور امین نہیں۔

پاناما اسکینڈل میں آنے والے کسی دوسرے فرد کا کیس نہ تو نیب نے کھولا نہ ہی سپریم کورٹ نے اِس بارے میں کوئی نوٹس لیا۔ یہ بات درست ہے کہ وزیراعظم یا اُن کے بچوں کا نام اسکینڈل میں آ گیا تو احتساب اُن سے ہی شروع ہونا چاہئے لیکن یہاں پاناما اسکینڈل شروع بھی نواز شریف سے ہوا اور ختم بھی اُنہی پر ہو گیا۔

سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دے کر نیب کو ریفرنس بنانے کا کہا اور احتساب عدالت کو ہدایت جاری کی کہ دو ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے اور سپریم کورٹ کے ایک جج صاحب کو مانیٹر بھی مقرر کر دیا تاکہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق فیصلہ فوری ہو۔

ایسا کسی دوسرے کیس میں نہیں کیا گیا۔ بہرحال سپریم کورٹ کا فیصلہ آ چکا، اِس لئے قانونی طور پر نواز شریف نااہل بھی ہیں اور صادق اور امین بھی نہیں۔ احتساب عدالت نے نواز شریف کے خلاف دو فیصلے دیے اور اُن فیصلوں کے نقائص پر قانونی ماہرین نے جو کہا، وہ سب کے سامنے ہے۔

ایک فیصلے کو تو اسلام آباد ہائی کورٹ تقریباً رد کر چکی ہے، دوسرا فیصلہ مرحوم جج ارشد ملک کے وڈیو آڈیو اسکینڈل کی وجہ سے ویسے ہی تنازعہ کا شکار ہے لیکن قانونی طور پر نواز شریف سزا یافتہ مجرم ہیں اور اب تو اسلام آباد ہائی کورٹ اُنہیں مفرور بھی قرار دے چکی ہے۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ ہو، نیب کے ریفرنسوں کو دیکھ لیں، احتساب عدالتوں کے فیصلوں کو پڑھ لیں، نواز شریف کی کرپشن کا تعلق ذرائع سے زائد آمدن سے ہے۔ برطانیہ میں فلیٹ کیسے خرید لئے؟ سعودی عرب اور دبئی میں کس طرح اربوں کا بزنس کیا؟ اُس کا سچا اور کھرا جواب تو شریف فیملی کے پاس کل تھا اور نہ آج ہے۔

یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ اِس کا جواب نہ شریف فیملی دے سکتی ہے اور نہ ہی نیب کے پاس اس سوال کا کوئی جواب موجود ہے۔ کیا یہ پیسہ حکومتی ٹھیکوں، بڑے بڑے پروجیکٹس سے کمیشن اور کک بیکس سے کمایا گیا تو یہ نہ تو پاناما جے آئی ٹی نے کہا، نہ نیب نے کوئی ایسا الزام لگایا اور نہ ہی احتساب عدالت کے فیصلوں میں کوئی ایسی بات موجود ہے۔

یہ بات درست ہے کہ ایون فیلڈ کے فلیٹ سے شریف فیملی کا تعلق نوے کی دہائی سے ہے۔ قطری خط مشکوک تھے۔ اگر کک بیکس نہیں لیں، کمیشن نہیں کھایا تو یہ پیسہ کہاں سے آیا جس سے بیرون ملک اثاثے بنائے گئے؟ اِس کا جواب پاکستان کے عمومی طور پر ہر بڑے بزنس مین کو ٹٹولیں گے تو آپ کو مل جائے گا۔ اور وہ جواب منی لانڈرنگ ہے۔

یعنی آپ اپنے کاروبار اور بزنس سے پیسہ بہت زیادہ کماتے ہیں لیکن ٹیکس گوشواروں میں اصل منافع شو نہیں کرتے۔ اِس کمائی سے جو بلیک منی ہوتی ہے اُسے جائز کرنے کے لئے منی لانڈر کرنے کے لئے حوالہ، ہنڈی، ٹی ٹی جیسے طریقے اپنائے جاتے ہیں اور یہ بھی قانون 1992میں بنایا گیا کہ بیرون ملک سے بینکنگ چینل سے بھیجے گئے ڈالرز کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھا جا سکتا۔ چاہے کسی بھی شوگر مل یا کسی دوسری انڈسٹری کے کروڑ پتیوں، ارب پتیوں کو دیکھ لیں تقریباً ہر کیس میں آپ کو یہی منی لانڈرنگ کے طریقے نظر آئیں گے۔

اگر یہ بڑے بڑے کاروباری لوگ اپنی اپنی کمائی کا پورا ٹیکس ادا کرنا شروع کر دیں تو پاکستان کا ٹیکس ریونیو بہت بڑھ سکتا ہے۔ گویا شریف فیملی جو گزشتہ کئی دہائیوں سے بزنس میں ہے، وہ اُنہی طریقوں پر چلتی رہی جو عمومی طور پر ہمارا کاروباری طبقہ، اُس کا تعلق چاہے کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، کا طریقہ کار رہا اور شاید اب بھی ہے۔

ویسے تو یہ ٹیکس کے محکمے کا معاملہ ہے لیکن جو لوگ حکومتی عہدوں پر رہے ہوں اُن کے کیس میں یہ نیب کے قانون کے تحت آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا جرم ہے۔

جب ہم کہتے ہیں کہ جو کام شریف فیملی نے کیا وہ تو ہر بڑا کاروباری کرتا ہے لیکن یہاں ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسا خاندان جو پاکستان میں حکمرانی کرتا رہا، کیا اُسے ایسا کرنا چاہئے تھا؟ ہر گز نہیں لیکن شریف فیملی نے ایسا نہیں کیا اور یہی وہ کام ہے جسے چاہے قانونی طور پر جائز بھی بنا دیا جائے اُس کا دفاع وہ لوگ نہیں کر سکتے، جو خود حکمران رہے ہوں۔

مشہور خبریں۔

جناح ہاؤس حملہ کیس: پی ٹی آئی کی خواتین سمیت 9 افراد کی ضمانت منظور

?️ 24 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) لاہور نے

مستقل فلسطینی ریاست کے قیام میں کیا چیز اثرانداز ہوسکتی ہے؟؛ کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر کا اظہار خیال

?️ 29 نومبر 2023سچ خبریں: کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر نے غزہ میں اسرائیل کے جرائم

’بلے‘ کا انتخابی نشان واپس لینے کیلئے پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ سے رجوع

?️ 4 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ’بلے‘ کا

برطانیہ کا روس کے منجمد اثاثے یوکرین کو دینے کا اعلان

?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں:برطانوی خبر رساں ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس ملک

تل ابیب فلسطینیوں کے خلاف کشیدگی پیدا کرنے سے باز رہے: یورپی یونین

?️ 3 مئی 2023سچ خبریں:برسلز میں اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن کے ساتھ اپنی پہلی

اردوغان: حماس کا ردعمل دیرپا امن کے لیے تعمیری اور اہم قدم ہے

?️ 4 اکتوبر 2025سچ خبریں: ترک صدر نے تحریک حماس کے حالیہ مؤقف کا خیر

ابو شباب گروپ کو اسرائیلی فوجی ریڈیو کا انتباہ

?️ 9 اکتوبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوجی ریڈیو نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں شاباک

صہیونی ماہر: اسرائیل میں ٹرمپ کے چاپلوسوں نے ایسے دنوں کا تصور بھی نہیں کیا تھا

?️ 12 مئی 2025سچ خبریں: عبرانی بولنے والے ماہرین کے مطابق اس حکومت کے بہت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے