?️
سچ خبریں:جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ سوڈان میں سول اور جمہوری حکومت کی بحالی کے لیے بات چیت کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے امکانات بعید نظر آتے ہیں جو سوڈانی عوام کو مشتعل کر رہا ہے۔
الجزیرہ چینل کی رپورٹ کے مطابق سوڈانی فوج اور ریپڈ ایکشن فورسز کے درمیان لڑائی کوکئی دن گزر چکے ہیں، اس جنگ میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں،یہ ملک دن بدن مزید کشیدگی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے جسے دیکھتے ہوئے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تنازعہ کہاں تک جائے گا؟ اس تجزیے میں اس سوال کا جواب چار ذیلی سوالات کی شکل میں دینے کی کوشش کی گئی ہے:
1۔ سوڈان کا بحران کیسے شروع ہوا؟
سوڈان کے آرمی چیف، عبدالفتاح البرہان، جو اب حکومت کے سربراہ ہیں اور ان کے نائب اور ریپڈ ایکشن فورسز کے سربراہ محمد حمدان دقلو جنہیں حمیداتی کے نام سے پکارا جاتا ہے، کے درمیان اقتدار کی کشمکش ایجاد ہوئی ہے اس لیے کہ دونوں ہر ایک کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے نتیجہ میں پورا ملک میں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں،اگرچہ دونوں جنگ بندی اور مذاکرات کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن عملی طور پر دونوں اپنے دعووں کے برعکس عمل کر رہے ہیں۔
2۔ سوڈان کی شہری آبادی اور سیاسی قوتوں کا کیا حال ہے؟
سوڈانی شہری جرنیلوں کی جنگ کے المناک اثرات سے دوچار ہیں،خرطوم کے لوگ، جو جنگ کے ابتدائی دنوں سے اپنے گھروں میں چھپے ہوئے تھے، اب لڑائی بڑھنے اور پانی، بجلی اور انٹرنیٹ بند ہونے کے باعث بڑے پیمانے پر فرار ہو رہے ہیں، فضائی بمباری اور بھاری ہتھیاروں سے حملوں نے ہسپتالوں اور سکولوں کو بھی نہیں بخشا۔ سوڈانی ڈاکٹروں کی تنظیم کے مطابق 50 لاکھ کی آبادی والے شہر خرطوم کے 74 میں سے 60 ہسپتال عدم تحفظ اور طبی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں۔
3۔ علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کا کردار کیا ہے؟
جنگ کے پہلے دن سے ہی جنگ بندی کے مطالبات اور بات چیت کے آغاز میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے پیر کو سلامتی کونسل سے کہا کہ سوڈان میں تشدد کو روکنا چاہیے اور اس ملک کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے جنگ بندی ہونی چاہیے،گزشتہ بدھ کو خرطوم میں 15 مغربی سفارت خانوں نے، جن میں امریکہ، یورپی یونین اور ناروے شامل ہیں، نے ایک پریس ریلیز میں متحارب فریقوں سے فوری اور غیر مشروط طور پر دشمنی ختم کرنے” کا مطالبہ کیا لیکن دو دن بعد ان میں سے زیادہ تر سفارت خانے، سفارتی عملے اور سفیروں کو دوسری جگہوں پر منتقل کر کے اپنے سفارت خانوں کو بند کر دیا۔
واضح رہے کہ البرہان اور حمیدتی کچھ فعال بین الاقوامی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، مختلف حکومتوں نے حالیہ برسوں میں ان دو فوجی رہنماؤں میں سے کسی ایک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں،البرہان مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ہم جماعت تھے ، دونوں نے مصری ملٹری اکیڈمی سے گریجویشن کیا تھا،جہاں تک ریپڈ ایکشن فورسز کے کمانڈر حمیدتی کا تعلق ہے، انہوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر یمن میں مداخلت کی اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے لیبیا کی جنگ میں حصہ لیا، انہوں نے سوڈان میں سونے کی کانوں کی حفاظت کے لیے روس کے ویگنر ملٹری گروپ کے ساتھ بھی تعاون کیا۔ اگرچہ خطے کے بہت سے ممالک کے سوڈانی کمانڈروں میں سے کسی ایک کے ساتھ تعلقات ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی ملک اس حد تک ملوث نہیں ہے کہ سوڈان کی موجودہ جنگ کو پراکسی وار سمجھا جا سکتا ہے نیز تنازعات کو روکنے میں
یقیناً ان میں سے کوئی بھی بین الاقوامی کردار کافی موثر نہیں ہے۔
4۔ ممکنہ نتائج کیا ہیں؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ البرہان اور حمیدتی دونوں ہی طاقتور فوجی دستوں کی قیادت کرتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان موجودہ جنگ بہت مشکل اور پیچیدہ ہے جسے روکنے کا ان کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے،البرہان کا کہنا ہے کہ وہ ریپڈ ایکشن فورسز کی شکست تک لڑتے رہیں گے جبکہ حمدتی نے بھی کہا ہے کہ وہ اس وقت تک لڑتے رہیں گے جب تک کہ فوج کی مکمل شکست نہیں ہو جاتی لہذا، بعض ماہرین کے مطابق، یہ تنازعہ مہینوں یا سالوں تک جاری رہ سکتا ہے، تاہم بیرونی دباؤ دونوں فریقوں کو دشمنی ختم کرنے پر مجبور کر سکتا ہےخاص طور پر سوڈان کو مغربی ممالک کی عائدہ کردہ اقتصادی پابندیاں ہٹائے جانے اور بین الاقوامی اداروں سے مالی امداد کے حصول کی ضرورت ہے، یاد رہے کہ اس ملک میں اثر و رسوخ رکھنے والی مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب وغیرہ جیسی علاقائی طاقتوں کے ساتھ بین الاقوامی ہم آہنگی کے ذریعے تنازعہ کے دونوں فریقوں کو جنگ روکنے پر راضی کرنا بھی ممکن ہے۔
یہ وہی کوآرڈینیشن میکانزم ہے جو افریقی یونین، عرب لیگ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں بنایا گیا تھا، حالانکہ فی الحال کوئی دباؤ کارساز نہیں ہوا ہے کہ وہ انہیں لڑائی بند کرنے پر راضی کرے،اس سلسلے میں ایک مصری تجزیہ کار محمود سالم نے الم مانیٹر کی خصوصی ویب سائٹ پر ایک مضمون میں کہا کہ سوڈان کی صورت حال اب بھی بہت غیر مستحکم ہے اور یہ شام میں ہونے والی جنگ کی طرح مکمل پیمانے اور عدم استحکام کی جنگ تک جا سکتی ہے، بہر حال، جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ سوڈان میں سول اور جمہوری حکومت کی بحالی کے لیے اقتدار کی منتقلی اور بات چیت کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے امکانات بہت دور نظر آتے ہیں، یہ بات سوڈانی عوام کو مشتعل کر رہی ہے۔


مشہور خبریں۔
کراچی کا بلدیاتی نظام تہران کی طرح خود مختار ہونا چاہیے: وزیر اعظم
?️ 11 دسمبر 2021کراچی (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہر
دسمبر
لبنان کے ساتھ معاہدے میں فتح کے آثار نظر نہیں آتے: اسرائیل
?️ 29 جنوری 2025سچ خبریں: تل ابیب یونیورسٹی کے موشہ دیان ریسرچ سینٹر کے سینئر
جنوری
سیکیورٹی خدشات کے باعث سائفر کیس کا اوپن ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا، خصوصی عدالت
?️ 28 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سائفر کیس میں سابق وزیراعظم و چیئرمین پاکستان
نومبر
مسجد الاقصی پر ایک بار پھر صیہونی یلغار
?️ 30 جولائی 2023سچ خبریں: صیہونی فوج کی بھرپور حمایت سے متعدد صیہونی آباد کاروں
جولائی
ایران کے پاسچر انسٹی ٹیوٹ کی تباہی علاقائی صحت کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے: بقائی
?️ 22 مئی 2026 سچ خبریں: اسماعیل بقائی، ترجمان وزارت امور خارجہ ایران، نے امریکہ
مئی
بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے صیہونیوں کی اپیل مسترد
?️ 30 نومبر 2024سچ خبریں: بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے غزہ میں فلسطینیوں
نومبر
ہمارے کمانڈروں کا قتل ہمارے اعزاز کا تمغہ ہے: قسام بٹالین
?️ 4 جنوری 2024سچ خبریں:حماس کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ شہید صالح العروری کے
جنوری
’مولانا حلوہ کھانے کیلئے فوراً تیار ہو جاتے ہیں بشرطیکہ میٹھے کا تناسب ٹھیک ہو‘:مصطفیٰ نواز کھوکھر
?️ 14 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صوبہ خیبرپختونخواہ کے نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
اکتوبر