ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ میں اسرائیل کی تاریخی شکست

ایران

?️

سچ خبریں:  ایران کے سپریم لیڈر کی  تاکیدی بیانات کے مطابق، یہ جارحیت اسرائیل کی ایران سے مقابلے کی 20 سالہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی جو مکمل ناکامی پر منتج ہوئی۔
مقبوضہ علاقوں میں میڈیا سنسرشپ کی شدید پابندیوں کے باعث اصل اعداد و شمار کبھی بھی مکمل طور پر منظر عام پر نہیں آسکے، لیکن اسرائیلی اہلکاروں اور میڈیا کے اعترافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ریاست کو معاشی، فوجی اور سماجی طور پر زبردست نقصانات اٹھانے پڑے۔ یہ اعداد و شمار بحران کے حقیقی پیمانے کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہیں، لیکن یہ واضح طور پر بتاتے ہیں کہ تل ابیب نے 12 دن بعد کیوں جنگ بندی کو قبول کیا۔
صیہونی اہلکاروں کے اعترافات
اسرائیلی سیکورٹی کونسل کے سابق سربراہ جنرل گیورا آیلنڈ نے سب سے قابل ذکر بیان دیا۔ انہوں نے اسرائیلی میڈیا سے بات چیت میں تصریح کی کہ اسرائیل کے مفاد میں جنگ ختم کرنا اور جنگ بندی قبول کرنا تھا۔ جنگ جاری رکھنا مناسب نہیں تھا۔ یہ بیانات اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کی براہ راست عکاسی ہیں۔ آیلنڈ کے مطابق، جنگ جاری رکھنے کے اخراجات، بشمول معاشی نقصانات اور بین الاقوامی دباؤ، ممکنہ فوائد سے زیادہ تھے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرت نے بھی 12 روزہ جنگ کے بارے میں کہا کہ ایرانی میزائلوں نے اسرائیلی شہروں کو بھاری نقصان پہنچایا اور ایران کا اسرائیل کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ صریح اعتراف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ایران سے نمٹنے کے اسرائیل کے 20 سالہ منصوبے کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیلی میڈیا کے تجزیہ کاروں نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ اسرائیل کے چینل 12 کے نامہ نگار نے اعتراف کیا کہ ہم ایران کو شکست نہیں دے سکے اور اس کی قیمت ہمیں مستقبل میں ادا کرنی پڑے گی۔ یدیعوت احرونوت کے فوجی تجزیہ کار یوسی یہوشوا نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل اپنی ساری صلاحیتوں کے باوجود ایران پر غالب نہیں آسکا۔ اسرائیلی ٹی وی کے نیٹ ورک 12 نے رپورٹ دیا کہ ایران نے ابھی تک طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار اور بھاری میزائل استعمال نہیں کیے، جبکہ اخبار معاریو نے تسلیم کیا کہ ایران جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر ابھرا ہے۔
مالی اور معاشی نقصانات
اسرائیلی ٹیکس اتھارٹی کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے 41,651 نقصان کے دعوے درج ہوئے ہیں:
• 32,975 دعوے عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق
• 4,119 دعوے گاڑیوں سے متعلق
• 4,456 دعوے سامان اور املاک سے متعلق
خیال کیا جاتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں متاثرہ عمارتیں ابھی تک رجسٹرڈ نہیں ہوئی ہیں۔ اخبار معاریو کے معاشی تجزیہ کار شلومو معوز نے لکھا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر 12 دنوں میں تقریباً 16 ارب ڈالر لاگت آئی اور اسرائیلی ریاست کی جی ڈی پی کو بھی اسی قدر نقصان پہنچا۔
روزانہ کی معاشی سرگرمیوں میں خلل نے تقریباً 1.5 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا اور ہائی ٹیک، نقل و حمل، سیاحت، ریستوراں اور صنعتوں کے شعبوں کو مفلوج کر دیا۔ ہوائی اڈوں کی بندش اور پروازوں کے معطل ہونے نے معیشت پر اضافی دباؤ ڈالا۔ اگر مستقبل میں نصف نقصان کی تلافی کا بھی تخمینہ لگایا جائے، تو پھر بھی تقریباً 8 ارب ڈالر کا نقصان برقرار رہے گا، جو کہ اسرائیل کی جی ڈی پی کا 1.3 فیصد کے برابر ہے۔
فوجی و دفاعی اخراجات
اسرائیل کا اوسط فوجی خرچ 725 ملین ڈالر یومیہ تھا، جو 12 دنوں میں کل 8.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس رقم میں فضائی حملے، ایف 35 لڑاکا جہازوں کی پروازیں اور مختلف اسلحہ کا استعمال شامل تھا۔ میزائل ڈیفنس سسٹمز جیسے آئرن ڈوم، آرو اور ڈیوڈز سلنگ کی فعالیت میں روزانہ 10 سے 200 ملین ڈالر تک کی لاگت آئی۔ ہر انٹرسیپٹر میزائل کی قیمت 700,000 سے 4 ملین ڈالر کے درمیان تھی، اور ان 12 دنوں میں کل دفاعی و فوجی اخراجات تقریباً 12.2 ارب ڈالر تخمینہ زد ہیں۔
ایران کے حملوں سے ہونے والے نقصانات
ایرانی میزائل حملوں نے بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 3 ارب ڈالر کا براہ راست نقصان پہنچایا۔ اہداف میں حیفا تیل ریفائنری، وائزمین انسٹی ٹیوٹ اور تل ابیو میں فوجی عمارتیں شامل تھیں۔ اسرائیلی ٹیکس اتھارٹی نے ابتدائی تخمینہ 1.3 ارب ڈالر بتایا، جس کے 1.5 ارب ڈالر سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ یہ رقم ایران کے پچھلے حملوں کے براہ راست نقصان سے دگنی ہے۔ 18,000 سے زیادہ افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور ان کے ہنگامی رہائش کے اخراجات تقریباً 500 ملین ڈالر تخمینہ زد ہیں۔ بنیادی ڈھانچے اور گھروں کی تعمیر نو کے لیے کئی سال اور دسیوں ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
وسیع تر معاشی اثرات
اس جنگ میں شکست کے بعد، اسرائیلی ریاست کے بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کا 6 فیصد تک اضافہ ہوا اور دفاعی اخراجات 20 سے 30 ارب شیکل تک پہنچ گئے۔ اسرائیل کے مرکزی بینک نے سال 2025 کے معاشی ترقی کے تخمینے کو گھٹا کر 3.5 فیصد کر دیا اور جنگ کی لاگت جی ڈی پی کے 1 فیصد (تقریباً 5.9 ارب ڈالر) کے برابر بتائی۔ اسرائیلی ریاست کی کریڈٹ ریٹنگ متاثر ہوئی اور اسٹینڈرڈ اینڈ پورز اور فچ جیسی اداروں کی طرف سے انتباہ جاری کیا گیا۔ اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکہ نے بھی تقریباً 1 سے 1.2 ارب ڈالر خرچ کیے، بنیادی طور پر THAAD سسٹمز کے استعمال سے، لیکن ابتدائی مقاصد میں ناکامی کے بعد تصادم کو پھیلنے سے روک دیا۔
نتیجہ
اسرائیل اور ایران کی 12 روزہ جنگ اسرائیلی ریاست کے جعلی تاریخ کے سب سے مہنگے اور ناکام ترین ادوار میں سے ایک ثابت ہوئی۔ اعداد و شمار اور سرکاری بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے معاشی نقصانات 12 سے 20 ارب ڈالر بتائے گئے ہیں، لیکن جامع تخمینے 40 ارب ڈالر کا پیش کرتے ہیں۔
اہم اخراجات میں شامل ہیں:
• براہ راست فوجی اخراجات: 12.2 ارب ڈالر
• معاشی خلل اور کاروباری بندش: 21.4 ارب ڈالر
• ایران کے حملوں سے نقصان: 4.5 ارب ڈالر
• نقل مکانی اور تعمیر نو کے اخراجات: 2 ارب ڈالر
یہ اعداد و شمار، یہاں تک کہ اسرائیلی ریاست کے سرکاری اعداد و شمار کو شامل کرنے کے باوجود، اسرائیل پر معاشی، فوجی اور سماجی دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔ طویل مدتی اثرات، بشمول بجٹ خسارہ، معاشی ترقی میں کمی، سیاحت کو نقصان، ماہرین کی ہجرت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی، اب بھی برقرار ہیں۔
بالآخر، 12 روزہ جنگ نے ثابت کیا کہ ایران سے نمٹنے کے اسرائیل کے 20 سالہ منصوبے کو ناکامی ہوئی اور مزید نقصانات اور معاشی تباہی سے بچنے کے لیے تل ابیب کو جنگ بندی قبول کرنی پڑی۔ اس بیانیے نے خود اسرائیلیوں کے اعترافات اور ان کے میڈیا کے ذرائع پر انحصار کرتے ہوئے شکست اور نقصانات کے حقیقی پیمانے کی واضح تصویر پیش کی ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیلی ریاست اپنے تمام دعووں اور ہلڑ بازیوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کے دباؤ میں تقریباً مفلوج ہو گئی۔

مشہور خبریں۔

ٹیکس کے  پیسوں سے متعلق فرخ حبیب کا اہم بیان

?️ 6 فروری 2022لاہور (سچ خبریں) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے

نیتن یاہو نے گزشتہ برسوں میں ایرانی سائنسدانوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی

?️ 13 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیراعظم نے گزشتہ برسوں میں پہلی بار ایرانی سائنسدانوں

صیہونیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ سعودی حکام کے زیر غور

?️ 26 مئی 2022سچ خبریں:سعودی عرب نے کہا کہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو

جیل بھرو تحریک کی بسم اللہ زمان پارک سے ہونی چاہیے، مریم نواز

?️ 6 فروری 2023ملتان: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر و

خیبرپختونخوا: سی ٹی ڈی نے بریکوٹ میں فتنہ الخوارج کے 3 مطلوب دہشتگرد ہلاک کر دیے

?️ 26 جولائی 2025پشاور: (سچ خبریں) محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سوات کو

عمران خان نے اسمبلی تحلیل کرنے کی ڈیڈلائن بتادی، مسلم لیگ (ق) کا فیصلے دانشمندی سے کرنے پر زور

?️ 11 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) مسلم لیگ (ق) عوامی سطح پر عمران خان کے

آڈیو لیکس معاملہ: نجی شخصیات کی ٹیلی فونک گفتگو کی ریکارڈنگز پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب

?️ 1 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ کیا

20 سال بعد افغانستان میں امریکہ کی خوشحالی کا راز

?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں: دہشت گردی سے لڑنے، جمہوری نظام کے قیام، امن و

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے