کیا پی ٹی آئی پر پابندی حکومت کو مہنگی پڑے گی؟بیرسٹر گوہر کی زبانی

کیا پی ٹی آئی پر پابندی حکومت کو مہنگی پڑے گی؟بیرسٹر گوہر کی زبانی

?️

سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنا حکومت کے خاتمے کا آغاز ہوگا، انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اب آپشنز ختم ہو گئے ہیں اور بوکھلاہٹ میں ایسی باتیں کی جا رہی ہیں۔

پارلیمنٹ کے باہر پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عارضی بنیادوں پر چار ججز کو تین سال کے لیے لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں عارضی بنیادوں پر ججز کی تعیناتی بدنیتی پر مبنی فیصلہ ہے اور یہ اقدام سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کے بعد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی پر پابندی کے اغراض و مقاصد

بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے عارضی بنیادوں پر ججز کی تعیناتی کا مقصد پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کے فیصلے پر اثر انداز ہونا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے اس طرح کے اقدامات اس کی کمزوری اور بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں عارضی بنیادوں پر ججز کا تقرر بدنیتی پر مبنی ہے اور یہ اقدام مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا گیا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کے پاس اب آپشنز ختم ہو چکے ہیں اور بوکھلاہٹ میں ایسی باتیں کی جا رہی ہیں جو غیر معقول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے سے حکومت کا خاتمہ قریب آ جائے گا اور اس کے بعد ملک میں حقیقی جمہوریت بحال ہو گی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کرانا چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اپنے تحفظات تحریری طور پر سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیج رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ 37 ایم این ایز کے حلف نامے الیکشن کمیشن کو بھیجے جا رہے ہیں اور پی ٹی آئی کی رکنیت کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا کہ 56 ہزار کیسز زیر التوا ہیں اور 3 یا 4 ججز کی تعیناتی سے یہ کیسز ختم نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تعیناتی کا مقصد اپنے ہم خیال ججز کو شامل کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا سیاسی جماعتوں پر بابندی لگانے سے مسائل حل ہو جائیں گے؟ جاوید لطیف کی زبانی

عمر ایوب نے مزید کہا کہ سیاسی ورکرز اور وکلاء برادری اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے گزارش کی کہ ایڈہاک ججز ہمارے کیسز نہ سنیں۔

 

مشہور خبریں۔

 مسجد الاقصیٰ کی قانونی حیثیت اور شناخت بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے

?️ 31 جنوری 2026 مسجد الاقصیٰ کی قانونی حیثیت اور شناخت بدلنے کی کوشش کی جا

صیہونی انتہاپسند وزیر کی مسجد الاقصی کی ایک بار پھر بے حرمتی

?️ 12 اپریل 2026سچ خبریں:صیہونی کابینہ کے انتہاپسند وزیر برائے داخلی سلامتی ایتمار بن گویر

الاقصیٰ طوفان کے 2 سال بعد؛ کامیابیاں ؛ 4 علاقائی ماہرین کا تجزیہ

?️ 8 اکتوبر 2025سچ خبریں: صیہونی ریاست نے دہائیوں تک فوجی برتری، معلوماتی بالادستی اور

فیض حمید کا کورٹ ماشل قانونی اور عدالتی عمل ہے، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، آئی ایس پی آر

?️ 25 نومبر 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد

اسپیکر کا جانبدارانہ رویہ پارلیمنٹ کی توہین ہے، تحریک انصاف

?️ 27 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے اراکین اسمبلی کی

بائیڈن اور ٹرمپ کی ملاقات

?️ 10 نومبر 2024سچ خبریں:وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے موجودہ صدر

مسجد اقصیٰ کے خلاف صیہونیوں کی مسلسل جارحیت قابل قبول نہیں:قطر

?️ 10 اپریل 2023سچ خبریں:قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اتوار

آئندہ ووٹر فہرستوں ووٹرز کی تصویر بھی شائع کی جائے گی

?️ 24 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے