?️
اسلام آباد{سچ خبریں} پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2021 کے 8 ماہ میں 10.64 فیصد اضافے کے ساتھ 17 ارب 54 کروڑ ڈالر ہوگیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 15 ارب 85 کروڑ ڈالر تھا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2020 کے بعد سے تجارتی خلا میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، فروری میں اس میں 23.93 فیصد، 2 ارب 52 کروڑ ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے دوران 2 ارب 3 کروڑ ڈالر تھا۔
تاہم مہینوں کے حساب سے اس میں 5.87 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
تجارتی خسارے میں اضافے کی وجہ بنیادی طور پر فروری 2021 میں درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے درآمدی بل میں اضافے کا جواز پیش کرنے کے لیے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزارت تجارت نے درآمدات میں اس اضافے کا ابتدائی تجزیہ کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ زیادہ تر نمو خام مال اور انٹرمیڈیٹ سامان کی درآمد میں اضافے سے ہوئی ہے جس میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیپٹل گڈز کی درآمد میں 0.2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ صارفین کے سامان کی درآمد میں 7.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
مشیر نے دعویٰ کیا کہ ‘اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزارت تجارت کی ‘میک اِن پاکستان’ پالیسی منافع بخش ہے اور ملک میں صنعتی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں’۔
عبدالرزاق داؤد نے مزید کہا کہ اس سال درآمدی بل میں اس لیے بھی اضافہ ہوا کیونکہ پاکستان کو مارکیٹ کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے گندم اور چینی درآمد کرنا پڑی، برآمدی صنعتوں کی مدد کے لیے روئی بھی درآمد کی گئی تاکہ برآمدات میں رکاوٹ نہ آئے۔
جولائی 2020 سے فروری 2021 کے دوران گندم کی درآمدات 90 کروڑ 90 لاکھ ڈالر، چینی ایک کروڑ 26 لاکھ ڈالر اور روئی 91 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی۔
آٹھ مہینوں میں تینوں مصنوعات کا مجموعی درآمدی بل ایک ارب 94 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا۔
کاٹن کی قلت
وزیر اعظم عمران خان نے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد سے ملاقات میں روئی کی سوت کی قلت اور قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم نے روئی کے سوت کی تجارت سمیت ضروری اقدامات کی ہدایت کی تاکہ اس کو مارکیٹ میں برقرار رکھا جاسکے۔
سرحد پار بھارت سے روئی کے سوت کی درآمد کی اجازت دینا نئی دہلی کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی کی طرف پہلا قدم ہوگا۔
پاکستان پہلے ہی بھارت سے ادویات کی درآمد کی اجازت دے چکا ہے۔
یہ اجلاس ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے ایک روز بعد طلب کیا گیا تھا۔
ٹیکسٹائل سیکٹر نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بھارت سمیت دنیا بھر سے کاٹن کے سوت کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے۔
23 دسمبر 2020 کو حکومت نے ریگولیٹری ڈیوٹی کو ختم کردیا تھا تاہم روئی کی سوت کی درآمد ابھی بھی کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز کے تابع ہے۔


مشہور خبریں۔
فرانس میں کشیدگی میں شدت/وزارت داخلہ کا مزید 13000 پولیس فورس کو میدان میں آنے کا حکم
?️ 29 مارچ 2023سچ خبریں:فرانس کی وزارت داخلہ نے پنشن قانون میں ترمیم کے منصوبے
مارچ
بجلی چوری میں ملک کی بڑی بڑی کمپنیاں بھی ملوث ہیں، وزیر توانائی کا انکشاف
?️ 10 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے انکشاف کیا
جولائی
وال اسٹریٹ جرنل کا اعتراف: ایران نے اسرائیل کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو گھسنے کا راستہ تلاش کرلیا
?️ 16 جولائی 2025سچ خبریں: وال سٹریٹ جرنل اخبار نے صیہونی حکومت کے ساتھ 12
جولائی
صیہونیوں کو خطے کی سلامتی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے:ایران
?️ 16 جنوری 2023سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم صیہونیوں
جنوری
مارچ کے مہینے میں آئی ٹی برآمدات سب سے زیادہ رہیں، شہباز شریف
?️ 26 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ
اپریل
سعودی عرب میں صحافیوں پر ظلم بند کرنے کی اپیل
?️ 5 نومبر 2022سچ خبریںانسانی حقوق کی ایک تنظیم نے سعودی عرب میں آزادی بیان
نومبر
اسلام آباد کی 3 نمائندہ بار ایسوسی ایشنزنے حکومت کے مجوزہ آئینی پیکج کو مسترد کردیا، مزاحمت کااعلان
?️ 3 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی 3 نمائندہ بار ایسوسی ایشنز نے
اکتوبر
وزیر اعظم کا موسمیاتی تبدیلیوں کیخلاف ‘پائیدار نظام’ پر زور، سیلاب سے مزید 18 افراد جاں بحق
?️ 7 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں بدھ کے روز سیلاب سے مزید
ستمبر