اوپن بیلٹ انتخابات، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

فضل الرحمن

?️

اسلام آباد (سچ خبریں) سینیت الکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے اعلان کے ساتھ ساتھ حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے آگئی ہے، پی ڈی ایم نے صدارتی آرڈیننس مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن شوآف ہینڈ کی مخالفت میں عدالت بھی جانا پڑا تو جائینگے، مریم نواز نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں پتہ چل جائیگاکون کس کیساتھ کھڑا ہے۔

وزیراطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ حکومت سینیٹ الیکشن کو مکمل شفافیت سے کرانا چاہتی ہے، اپوزیشن کا ایمان پیسوں پر ہے اور پیسوں سے ہی اِنہوں نے لوگوں کو خریدا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کو اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل ہے ، کچھ دنوں میں پی ٹی آئی کے نمبر آجائینگے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں ایسا شفاف نظام لایا جائے جس میں کرپشن اور خرید وفروخت کے بازار بند ہو جائیں،سینیٹ انتخابات اوپن کرانے سے متعلق ہمارے پاس قانون سازی کے لئے دو تہائی اکثریت نہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات اوپن کرانے سے متعلق ہمارے پاس قانون سازی کے لئے دو تہائی اکثریت نہیں۔

اوپن بیلٹ آرڈیننس ہوا جاری، بیلٹ پیپر قابل شناخت ہے

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کی شق 23 میں لکھا تھا کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کروائے جائینگے تاہم اب دونوں جماعتیں اپنے قول سے پیچھے ہٹ چکی ہیں، ہم نے اس مقصد کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ آئینی تشریح کی جائے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے سینیٹ کے سابقہ انتخابات میں تحریک انصاف نے شکایت ملنے پر اپنے 20 اراکین صوبائی اسمبلی کو پارٹی سے بے دخل کردیا تھا جب کہ پی ڈی ایم ایک طرف حکومت کو جعلی حکومت کہتی ہے اور دوسری طرف سینیٹ انتخابات میں حصہ لیکر اسی جعلی اسمبلی میں جاناچاہتی ہے۔

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو عمران فوبیا ہوگیا ہے، پی ڈی ایم جتنا مرضی لانگ مارچ یا احتجاج کرلے تاہم لٹیروں سے مفاہمت نہیں ہو سکتی، نواز شریف نے مودی کو شادی پر بلا کر گلے لگایا اور کشمیریوں سے بغاوت ک تاہم کسی بھی صورت میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کا کہنا ہے حکومت سینیٹ الیکشن کو مکمل شفافیت سے کرانا چاہتی ہے، مخالفت کرنے والے پیسے کے ذریعے سیاست کرنا چاہتے ہیں۔

اوپن بیلٹ سے متعلق شبلی فراز نےکہا کہ ملک کو لوٹنے والوں کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوسکتی، اپوزیشن کی عادت ہے کہ بغیر پڑھے مٹھائی تقسیم کرنا شروع کردیتے ہیں۔پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اورمسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے آرڈیننس سے سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈ سے کرانے کے اقدام پرشدید تنقیدکی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نوازنے صدر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی ہے، جس میں سیاسی صورتحال اور سینیٹ الیکشن سے متعلق بات چیت کی گئی۔ دونوں قائدین نے پی ڈی ایم میں ہونے والے فیصلوں اور لانگ مارچ کی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

مریم نواز نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں پتا چل جائیگا کون کس کے ساتھ کھڑا ہے،آئینی ترمیم کے بغیر سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سینیٹ الیکشن شوآف ہینڈ کی مخالفت میں عدالت بھی جانا پڑا تو جائینگے۔

مشہور خبریں۔

ایران کے خلاف جنگ کا صیہونی حکومت کو کتنا نقصان ہوا ہے؟

?️ 22 جون 2025 سچ خبریں:اسرائیل کو ایران پر حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑ

تنازعہ کشمیر کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد میں مضمر ہے: حریت کانفرنس

?️ 17 اپریل 2023سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

یوکرین جنگ کے بارے میں ٹرمپ کا بیان

?️ 28 فروری 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر

ملک میں کورونا کی صورت حال سنگین ہونے کا خطرہ

?️ 25 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) ملک بھر میں کورونا کی صورتحال سنگین ہو رہی

مظلوم کی مظلوم کے حق میں آواز

?️ 17 جون 2023سچ خبریں:یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے صنعاء میں فلسطینی جہاد

بھارتی انتظامیہ نے میر واعظ کو تین روز بعد پروفیسر بٹ کے اہلخانہ سے تعزیت کیلئے سوپور جانے کی اجازت دی

?️ 20 ستمبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

کوئٹہ: تاجروں کا تمام کاروباری مراکز  کھولنے کا اعلان

?️ 11 مئی 2021کوئٹہ(سچ خبریں) تاجروں نے حکومتی پابندی ماننے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت، ٹرانزٹ معاہدے طے پاگئے

?️ 29 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور افغانستان کے مابین کابل میں ہونے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے