26 نومبر کوآمرانہ رویہ اختیار کیا گیا، وزیرداخلہ مستعفی ہوجائیں، حافظ نعیم کا مطالبہ

?️

لاہور: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر وزیر داخلہ محسن نقوی سے استعفے اور واقعے کی تحقیقات کے لیے بااعتماد عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کردیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ 26 نومبر کو اسلام آباد میں آمرانہ رویہ اختیار کیاگیا، لوگوں میں بہت غم و غصہ ہے، انہوں نے کہا کہ میں پوچھنا چاہتاں ہوں کہ حکومت نے جوکچھ کیا ہے یہ کس قانون، کس آئین اور کس ضابطے کے تحت کیا؟

انہوں نے کہاکہ ملک میں حکومت تو فارم 47 کی ہے لیکن کہنے کو ہی سہی جمہوری نظام تو موجود ہے نا؟ آئین موجود ہے، آئین میں انسانی حقوق موجود ہیں، جمہوری و سیاسی آزادیاں موجود ہیں، ہر سیاسی کارکن کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی آواز بلند کرسکتاہے۔

انہوں نے کہاکہ ہر سیاسی جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ احتجاج اور مظاہرہ کرسکتی ہے لیکن حکمران طبقہ یہ چاہتا ہے کہ وہ سیاسی کارکنوں کے لیے پورے ملک کے لیے ہی نوگوایریا بنادیں اور جب احتجاج کے لیے لوگ کھڑے ہوں تو ان پر گولیاں چلادی جائیں۔

انہوں  نے کہاکہ شیلنگ بھی کیوں کی جائے؟ لاٹھی چارج بھی کیوں کیا جائے؟ لیکن یہ تو گولیاں چلادیتے ہیں، گاڑیاں جلا دیتے ہیں، خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے، یہ قابل مذمت ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ اتنے خون خرابے کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی کو فوری مستعفی ہوجانا چاہیے، ان کا اس عہدے پر کا کیا جواز ہے جب وہ انسانی جانوں کا تحفظ نہیں کرسکے؟ بلکہ خود اس عمل میں شریک ہوئے ہیں۔

انہوں نے بااعتماد عدالتی کمیشن کے قیام کا بھی مطالبہ کردیا، ان کا کہنا تھاکہ بااعتماد جوڈیشل کمیشن اس واقعے کی تحقیقات کرے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آئیں۔

انہوں نے کہ کہ اس طرح میڈیا کا گلا بند کرکے آپ اپنی مرضی کی چیزیں نہیں چلا سکتے، آج کے زمانے میں آپ لوگوں کو پابند نہیں کرسکتے، سوچ پر پہرے نہیں بٹھاسکتے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے تحریک انصاف کے احتجاج میں حصہ لینے والے سیاسی کارکنوں اور عوام کو قوم کے ماتھ جھومر قرار دیتے ہوئے کہاکہ احتجاج میں حصہ لینے والے ان تمام سیاسی کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو جگہ جگہ رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھے۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی کارکن کسی ایک پارٹی نہیں بلکہ قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، یہ بڑی مشکل سے تیار ہوتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہاکہ جہاں آمرانہ طرز حکومت ہو، جہاں لوگوں کی آوازیں بند کی جارہی ہوں، جہاں لوگوں کو سیاسی عمل سے دور کرنے کی کوششیں کی جاتی ہوں، جہاں جمہوریت پر قدغن لگائی جاتی ہو، وہاں پر اگر ایک سیاسی کارکن تمام خطرات کے باوجود سڑک پر نکلتا ہے تو وہ پوری قوم کے ماتھے کا جھومر ہے اور اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ عوام کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔

مشہور خبریں۔

امریکی وفاقی حکومت کا شٹ ڈاؤن برقرار  کویی متبادل منصوبہ نہیں 

?️ 22 اکتوبر 2025امریکی وفاقی حکومت کا شٹ ڈاؤن برقرار  کویی متبادل منصوبہ نہیں امریکہ

نصراللہ ہمارے بارے میں کیا کیا جانتے ہیں؟صیہونی تجزیہ کار

?️ 10 جولائی 2023سچ خبریں: یدیعوت احرونٹ اخبار کے صیہونی فوجی مسائل کے تجزیہ نگار

جنوبی لبنان میں "محدود زمینی کارروائیوں” کے بارے میں اسرائیلی حکومت کا دعویٰ

?️ 10 جولائی 2025سچ خبریں: صیہونی کومت کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس

صیہونی جنرل کا طیارہ سعودی فضائی حدود میں

?️ 20 جولائی 2022سچ خبریں:اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ تین ماہ قبل اسرائیلی

حماس کے بارے میں ہماری پالیسیاں غلط تھیں:صہیونی فوج کے سربراہ کا اعتراف

?️ 7 دسمبر 2025 حماس کے بارے میں ہماری پالیسیاں غلط تھیں:صہیونی فوج کے سربراہ

صہیونیوں کا جنوبی لبنان کے عیسائیوں پر حملے کا منصوبہ

?️ 14 مارچ 2024سچ خبریں:جنوبی لبنان پر اپنے حملوں کے نئے دور میں صیہونی حکومت

25 ممالک برکس میں شامل ہونے کے لیے قطار میں

?️ 27 فروری 2024سچ خبریں:روس میں جنوبی افریقہ کے سفیر Mzvokili Maktoka نے ایک انٹرویو

دیگر ممالک میں افغانستان کے سفارت خانوں کی غیر یقینی صورتحال

?️ 19 ستمبر 2021سچ خبریں:کابل اور افغانستان پر طالبان کے قبضہ کرنےکے ایک ماہ بعد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے