?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ سیلاب کے بعد تباہ کاریوں کے نتیجے میں 2 کروڑ متاثرہ افراد آج بھی انسانی امداد کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے 81 کروڑ 60 لاکھ ڈالر امداد میں سے صرف 30 فیصد امداد پاکستان کو موصول ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جب کسی ملک کے لوگ بحالی اور کثیر الجہتی امدد پر انحصار کرتے ہیں تو ان کی بحالی کے لیے منصوبہ بندی کرنا آسان نہیں ہوتا۔
شیری رحمٰن نے اپنے بیان میں کہا کہ سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا لہذا بحالی اور تباہی کے بعد تعمیر نو کے لیے کم از کم 16 ارب 30 کروڑ ڈالر امداد کی ضرورت ہے، اس میں ماحولیاتی تبدیلی اور مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری کیلئے امداد شامل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ 8 کروڑ 40 ہزار سے 9 کروڑ 10 ہزار لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جاسکتے ہیں۔
شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ موسم سرم میں سیلاب زدگان کے لیے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ متاثرین کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ہی وقت میں درمیانے درجے کے تین یورپی ممالک کی آبادی کی زندگی کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’سیلاب زدگان کی انسانی بحالی کے کئی ماہ بعد بھی دسمبر 2022 سے مارچ 2023 تک 14 لاکھ 6 ہزار لوگوں کو فوری خوراک کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سندھ میں 39 لاکھ اور بلوچستان میں 16 لاکھ لوگوں کو خوراک کی شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے، جن میں 55 لاکھ لوگوں کو پینے کا صاف میسر نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ سیلاب کے بعد تباہ کاریوں میں سب سے زیادہ بچے متاثر ہوئے ہیں، 2 کروڑ سیلاب زدگان میں سے 96 لاکھ بچوں کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’موسم سرما میں کیمپ میں بچوں کی زندگی خطرے میں ہے۔‘
شیری رحمٰن نے تمام مخیر حضرات اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کا بوجھ کم کرنے میں صوبائی حکومتوں کی مدد کریں، انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ 60 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور 70 لاکھ بچوں کو فوری غذائیت اور خوراک کے شدید ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایک لاکھ سے زائد بچے ویکسین سے محروم ہیں جو پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کے لیے خوفناک ثابت ہوسکتا ہے۔
سیلاب سے 34 ہزار سے زائد اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا جس کے باعث 2 لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جارہے جن میں لڑکیوں کی تعلیم شدید متاثر ہوئی، جس کے نتیجے ان بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔


مشہور خبریں۔
مجھے آئل ریفائنریوں کی بدولت کینسر ہوا ہے: بائیڈن
?️ 21 جولائی 2022سچ خبریں: امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کی شام کہا
جولائی
یوٹیوب شارٹس میں مصنوعی ذہانت کا ایک نیا فیچر متعارف
?️ 18 فروری 2025سچ خبریں: یوٹیوب نے ویڈیو شارٹس بنانے کے لیے حال ہی میں
فروری
لوکاشینکو نے زیلنسکی کی طرف سے پیوٹن کو کوئی پیغام نہیں پہنچایا: کریملن
?️ 30 جون 2026سچ خبریں: کرملین کے ترجمان دیمیتری پسکوف نے پیر کے روز بتایا کہ
جون
زیلنسکی کی ٹرمپ سے یوکرین میں امن ثالثی کی اپیل کی
?️ 12 اکتوبر 2025سچ خبریں: صدر یوکرین ولودیمیر زیلنسکی نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ
اکتوبر
نسلی امتیاز ملک کے لئے ایک بڑی مشکل
?️ 30 جون 2023سچ خبریں:مون ماؤتھ یونیورسٹی کے ایک سروے سے پتا چلا ہے کہ
جون
مری جانے والے راستے مزید 24 گھنٹوں کے لئے بند ہو گئے
?️ 10 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد
جنوری
قرض پروگرام کا پہلا جائزہ: آئی ایم ایف کی ٹیم 2 نومبر کو پاکستان آئے گی
?️ 25 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کے موجودہ
اکتوبر
نواز شریف کی رپورٹس پرپنجاب حکومت کے میڈیکل بورڈ نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے
?️ 21 جنوری 2022لاہور (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے
جنوری