معروف پاکستانی اینکر: امریکی اپنے سرکش صدر سے تنگ آ چکے ہیں

پاکستانی

?️

 سچ خبریں: پاکستان کے معروف نیوز چینل کے صحافی اور اینکر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ جویانہ پالیسیوں کے خلاف امریکی عوام کی لاکھوں کی تعداد میں ہونے والے مظاہروں کو ریگیم چینج کے لیے حقیقی مطالبت قرار دیا اور کہا کہ امریکی معاشرے میں ٹرمپ کے خلاف جذبات شدت اختیار کر چکے ہیں اور وہ اپنے سرکش صدر کا علاج چاہتے ہیں۔

جیو نیوز کے معروف اینکر "حامد میر” نے "سرکش ٹرمپ کا علاج” کے عنوان سے ایک تحریر میں کہا کہ امریکی عوام طویل عرصے سے اپنے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بیزار تھے، لیکن ۲۸ مارچ کو یہ بیزاری ایک مل گیر عوامی بغاوت میں تبدیل ہو گئی۔

انہوں نے لکھا: ایک ہی دن میں لاکھوں افراد امریکہ کے درجنوں شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے اور "بادشاہت نہیں – ٹرمپ واپس جا” کے نعرے لگائے۔ ٹرمپ، جس نے مارچ ۲۰۲۶ کے اوائل میں اسرائیل کے ہمراہ ایران پر حملہ کیا تھا اور ایرانی عوام سے کہا تھا کہ وہ نظامِ حکومت کی تبدیلی کے لیے سڑکوں پر آئیں، اب خود صرف چار ہفتوں میں امریکی عوام کی طرف سے ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر آمد کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس عوامی بغاوت کی سب سے بڑی وجہ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ ہے، جس نے امریکی عوام کو معاشی جھٹکے بھی دیے ہیں۔

حامد میر نے مزید کہا: امریکیوں میں ٹرمپ سے بڑھتی ہوئی نفرت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ جب وہ دوسری بار صدر بنیں گے تو امریکہ کو نئی جنگوں میں نہیں ڈالیں گے۔ ٹرمپ اپنی پہلی صدارت میں ایسا کچھ نہیں کر پائے تھے کہ لوگ انہیں دوبارہ صدر بنانا چاہیں، لیکن انہوں نے جنگ مخالف نعرے کے ذریعے امریکیوں کو اپنی طرف راغب کیا اور پھر وعدہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو جو غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے ہیں، "امریکہ فرسٹ” کے نعرے کے تحت ملک بدر کر دیں گے۔

اس صحافی نے نشاندہی کی: ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ امریکہ دوسرے ممالک میں جنگوں پر کھربوں ڈالر خرچ کرتا ہے اور وہ نہ صرف جنگوں کے خاتمے سے کھربوں ڈالر کی بچت کریں گے بلکہ غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرکے امریکیوں کے لیے روزگار پیدا کریں گے۔ ٹرمپ نے دوسری بار صدر بننے کے بعد غیر ملکیوں کے خلاف مہم شروع کی، لیکن نئی جنگوں میں نہ پڑنے کا اپنا وعدہ توڑ دیا۔

انہوں نے کہا: ٹرمپ نے دوسری بار صدر بننے کے بعد شام، نائیجیریا، صومالیہ، عراق اور یمن پر بمباری کی۔ انہوں نے وینزویلا پر حملہ کیا اور گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش کا اظہار کرکے یورپ کو غصہ دلایا۔ انہوں نے ۲۰۲۵ کی گرما میں ایران پر حملہ کیا اور اعلان کیا کہ ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اور اب فروری ۲۰۲۶ سے ایران پر ایک اور حملہ کیا، اور کہا کہ اس حملے کا مقصد نظام کی تبدیلی اور ایران کی جوہری صلاحیت کو تباہ کرنا ہے۔

حامد میر نے لکھا: ٹرمپ کا خیال تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ایران میں نظام کی تبدیلی واقع ہو جائے گی اور جس طرح وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے بعد امریکی کمپنیوں نے وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا، وہی صورت حال ایران میں بھی پیش آئے گی۔ ایران کے معاملے پر ٹرمپ کی تمام پیشین گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کر لیا اور دنیا بھر میں تیل کا بحران پیدا ہو گیا۔ اس جنگ کے طول پکڑنے کے ساتھ ہی ٹرمپ سے عوامی عدم اطمینان نفرت میں بدل گیا۔ یورپی ممالک نے بھی ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔

پاکستانی جیو نیوز کے اینکر نے مزید کہا: ایران نے خلیج فارس کے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے شروع کر دیے، جس سے امریکہ کی عظیم طاقت ہونے کی حیثیت کو بھی نقصان پہنچا۔ امریکہ میں آرتھوڈوکس یہودیوں نے بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ایران کے خلاف جنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور امریکی میڈیا میں یہ تبصرے شائع ہوئے کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو اس جنگ میں دھکیل دیا ہے جس میں امریکہ کی کوئی دلچسپی نہیں۔ سب سے بڑی تنقید یہ تھی کہ ۲۰۲۵ میں ایران پر حملے کے بعد ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے ایران کی جوہری صلاحیت ختم کر دی ہے۔ پھر ۲۰۲۶ میں دوسرے حملے کے بعد انہوں نے دوبارہ کیوں کہا کہ ہم ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ٹرمپ کا ۲۰۲۵ کا دعویٰ جھوٹ تھا؟

انہوں نے آخر میں لکھا: امریکی عوام اس عہد شکنی کے خلاف ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ جمہوریت میں سڑکوں پر نکلنا اور نعرے لگانا جائز ہے، لیکن نعرے حکومت تبدیل نہیں کرتے۔ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے مواخذہ کیا جا سکتا ہے اور یہ فیصلہ کانگریس کے اختیار میں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ مشہور امریکی اسکالر نوام چومسکی نے برسوں پہلے ایک کتاب لکھی تھی جس کا ترجمہ "سرکش ریاستیں” کے عنوان سے شائع ہوا۔ چومسکی نے اس کتاب میں لکھا کہ امریکہ ایران، عراق اور شمالی کوریا کو سرکش ریاستیں قرار دیتا ہے، لیکن حقیقت میں دنیا کی سب سے بڑی سرکش ریاست خود امریکہ ہے جو کسی بین الاقوامی قانون کی پیروی نہیں کرتا۔

مشہور خبریں۔

ترکی اور پاکستان کے مابین گن شپ ہیلی کاپٹرز معاہدہ، امریکا نے رکاوٹ ڈال دی

?️ 10 مارچ 2021انقرہ (سچ خبریں) ترکی اور پاکستان کے مابین گن شپ ہیلی کاپٹرز

نتن یاہو کے دورۂ واشنگٹن کے اصل اہداف کیا ہیں؟

?️ 17 دسمبر 2025 نتن یاہو کے دورۂ واشنگٹن کے اصل اہداف کیا ہیں؟ اسرائیلی

فلسطین پر اسرائیلی دہشت گردی کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تیسری بار اہم اجلاس طلب کرلیا

?️ 14 مئی 2021جنیوا (سچ خبریں) فلسطین پر اسرائیلی دہشت گردی کو دیکھتے ہوئے اقوام

صمود فلوٹیلا پر اسرائیل کے حملے کے خلاف یورپ میں زبردست مظاہرے

?️ 2 اکتوبر 2025سچ خبریں: غزہ کی طرف بحری امدادی کونوائی "عزم” پر صہیونی ریاست

مسلم ممالک متحد ہو کر عملی اقدامات کریں، انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار

?️ 21 جون 2025استنبول: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلامی

کیا امریکہ عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے؟

?️ 15 اگست 2023سچ خبریں: عراق کے ایک سیاسی تجزیہ کار نے کہا کہ امریکہ

نگراں حکومت پنجاب نے شرپسندوں کےخلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کی منظوری دے دی

?️ 16 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگراں حکومت پنجاب نے آرمی تنصیبات اور املاک پر

ایران کی تاریخی فتح پر عرب تجزیہ نگاروں کا ردعمل؛ ایران اب خطے کی بلامنازع طاقت ہے

?️ 25 جون 2025 سچ خبریں:عرب زبان تجزیہ نگاروں نے ایران-اسرائیل جنگ میں جنگ بندی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے