?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے کیس کی سماعت کے دوران وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہاں آئین پر عمل نہیں ہوتا آپ رولز کی بات کرہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سٹون کریشنگ کیس کی سماعت ہوئی جہاں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی، آئینی بنچ نے سٹون کرشنگ پلانٹس کے خلاف کیس پر سماعت کا آغاز کیا تو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ نے بتایا کہ ’صوبے میں کل 903 کرشنگ پلانٹس ہیں، جن میں سے 544 فعال ہیں، 230 زیر تعمیر کرشنگ پلانٹس ہیں، 37 سٹون کرشرز کو شوکاز نوٹس اور 210 کو قوائد کی خلاف ورزی پر سیل کیا گیا‘۔
اس موقع پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ ’سٹون کرشرز کے قیام کا قانون کیا ہے؟‘، جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ ’ پہلے قانون کے تحت آبادیوں کے ایک کلومیٹر کی حدود میں کرشرز قائم نہیں ہوسکتے تھے، تاہم کریشرز کے حوالے سے اب نیا قانون آچکا ہے، جس کے تحت شہری علاقوں میں 500 میٹر کی حدود تک کرشرز قائم نہیں ہوسکتے، دیہاتی علاقوں میں یہ حد 300 میٹر ہے‘۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ’ہم نے لوگوں کے روزگار اور ماحولیات کو بھی مدنظر رکھنا ہے، ممبر کمیشن وقار زکریا نے بتایا سٹون کرشرز والے علاقوں میں ہوا کا رخ آبادی کی طرف ہو جائے تو فاصلے کا اصول بے معنی ہوجاتا ہے، دھول کے ذرّات کی آبادیوں تک روم تھام کیلئے آبپاشی کے نظام کے ساتھ درخت بھی لگائے جائیں‘، اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ نے کہا کہ ’سٹون کرشرز کیلئے رولز بن جائیں گے تو اس پر عملدرآمد ہوگا‘، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ’یہاں آئین پر عمل نہیں ہوتا اور آپ رولز کی بات کرہے ہیں‘، دوران سماعت وکیل صوبائی حکومت نے استدعا کہ کہ ’ہمیں رولز کی منظوری کیلئے تین ماہ کا وقت چاہیئے‘، جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ ’کیا اتنے وقت کیلئے لوگ مرتے رہیں گے؟‘ اس موقع پر سٹون کرشرز کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ ’ہم نے 11 جولائی کے سپریم کورٹ کے حکمنامے کیخلاف اپیل دائر کر رکھی ہے، اب 26ویں ترمیم کے بعد عدالت مانگی گئی استدعا سے باہر نکل کر فیصلہ نہیں دے سکتی‘۔
جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا کہ ’استدعا سے باہر نکل کر فیصلہ نہ کرنے کا اطلاق ماضی سے ہوگا یا 26ویں ترمیم کے بعد سےہوگا؟‘، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ’پھر آپ کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ کسی قانون کے درست اور غلط ہونے کا جائزہ لینے کیلئے عدالت کس حد جاسکتی ہے؟‘ اس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ’یہ کیس صرف اس حد تک تھا کہ سٹون کرشرز کا آبادیوں سے فاضلہ کتنا ہوگا‘، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ’رولز طے ہونے دیں، ہوسکتا ہے آپ کی نظر ثانی درخواست خود بخود غیر مؤثر ہوجائے‘۔
بعد ازاں سپریم کورٹ میں سٹون کریشنگ کیس میں خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت کو رولز کی منظوری کیلئے ایک ماہ کا وقت دیدیا گیا، عدالت نے اپنے حکمنامے میں قرار دیا کہ ’خیبرپختونخواہ حکومت کی جانب سے ایک ماہ کا وقت مانگا گیا، عدالت سے استدعا کی گئی کہ قوائد کی قومی ماحولیاتی قونسل سے منظوری کیلئے ایک ماہ کا وقت چاہیئے، جس پر عدالت کی جانب سے صوبائی حکومت کو وقت فراہم کرتے ہوئے سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کی جاتی ہے‘۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل کی حمایت میں جرمنی کی پالیسی کے خلاف دنیا کے 500 دانشوروں کا خط
?️ 17 نومبر 2024سچ خبریں: جرمنی اور دیگر ممالک کے 500 سے زائد دانشوروں اور
نومبر
امریکی فوج میں انتہا پسندی کی شدت کے حوالے سے اہم انکشاف ہوگیا
?️ 16 جولائی 2021واشنگٹن (سچ خبریں) یونیورسٹی آف میری لینڈ کی جانب سے ایک رپورٹ
جولائی
ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی دھمکیوں پر ماسکو کا ردعمل
?️ 31 دسمبر 2025سچ خبریں: روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران کے خلاف امریکی
دسمبر
جو بائیڈن کے خلاف ڈاکٹر جِل پر بڑھاپے کے استحصال کا مقدمہ دائر
?️ 22 مئی 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی محکمہ انصاف کے معروف
مئی
حلقہ 122 سے عمران خان کے کاغذات مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر ریٹرننگ افسر کو نوٹس
?️ 7 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) ہائیکورٹ کے ایپلیٹ ٹریبونل نے لاہور کے حلقہ این
جنوری
افریقی ترقیاتی فنڈ میں امریکی امداد میں کٹوتی؛ چیلنجز اور امیدیں
?️ 17 مئی 2025سچ خبریں: امریکی حکومت نے افریقی ترقیاتی فنڈ کے لیے اپنی مالی
مئی
پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روز میں کرنے کے عدالتی حکم معطل
?️ 25 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی
اپریل
ملک میں صدارتی نظام کی نہ گنجائش ہے
?️ 29 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) مسلم لیگ ضیاء الحق کے سربراہ اعجاز الحق
جنوری