ہنگو میں پولیس قافلے پر حملہ، ایس ایچ او سمیت 3 اہلکار زخمی

?️

ہنگو: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاقے دوآبہ میں پولیس قافلے پر آئی ای ڈی حملے کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت 3 اہلکار زخمی ہوگئے۔

ڈان نیوز کے مطابق دوآبہ میں پولیس قافلے کو آئی ای ڈی حملے کا نشانہ اس وقت بنایا گیا جب پولیس افسران سرچ آپریشن سے واپس آ رہے تھے۔

پولیس نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں ایس ایچ او تھانہ دوآبہ عمران الدین سمیت زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال ہنگو منتقل کر دیا گیا۔

واقعے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جب کہ ضلع بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل، پشاور میں یونیورسٹی روڈ پر محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں رکھا پرانا بارودی مواد پھٹنے سے دھماکے کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوگئے تھے۔

دوسری جانب، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سی ٹی ڈی پشاور میں دھماکے اور ضلع ہنگو کے علاقہ دوآبہ میں پولیس گاڑی پر آئی ای ڈی حملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹس طلب کر لیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا نوٹس، رپورٹ طلب کرلی

وزیر اعلیٰ نے واقعات کی وجوہات جاننے اور حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پشاور دھماکے میں سی ٹی ڈی اہلکار کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے ہنگو دھماکے میں زخمی ایس ایچ او اور اے ایس آئی کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی اور سیفٹی پروٹوکول پر سختی سے عمل کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اہلکاروں کے حوصلے اور فرض شناسی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے صوبے میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے اور مشتبہ عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بزدلانہ کارروائیوں میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

خیال رہے کہ 26 اکتوبر کو ضلع ہنگو میں مسلح افراد نے پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا، پولیس کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک ہوگیا۔

پولیس حکام کے مطابق مسلح دہشت گرد کی فائرنگ سے ایک پولیس جوان زخمی ہوگیا جسے علاج کے لیے پشاور منتقل کردیا گیا، پولیس جوانوں نے بہادری کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے حملہ آور کو ماردیا۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں خاص طور پر دہشت گردی کی سرگرمیوں اس وقت نمایاں طور پر اضافہ دیکھا گیا جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے نومبر 2022 میں حکومت کے ساتھ ہونے والا جنگ بندی معاہدہ ختم کر دیا تھا۔

معاہدہ ختم کرتے ہوئے کالعدم ٹی ٹی پی نے اعلان کیا تھا کہ وہ سیکورٹی فورسز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں تیزی لائے گی۔

ایسے ہی ایک واقعے میں 24 اکتوبر کو ہنگو میں ہونے والے دھماکوں میں ایک سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سمیت تین پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے، پولیس کے مطابق، ان دھماکوں کے پیچھے بھی کالعدم ٹی ٹی پی ملوث تھی۔

اس سے قبل، 19 اکتوبر کو خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں دہشت گردوں کی جانب سے پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق، یہ ناکام حملہ کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے کیا گیا تھا اور بکا خیل پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا تھا جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے۔

مشہور خبریں۔

"صومالی لینڈ” کے علیحدگی پسند علاقے کو تسلیم کرنے کے لیے اسرائیل کے محرکات کا تجزیہ

?️ 28 دسمبر 2025سچ خبریں: صومالی لینڈ کے علیحدگی پسند علاقے کو تسلیم کرنے میں

نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی

?️ 3 جنوری 2024سچ خبریں:عبرانی زبان کی نیوز ون ویب سائٹ نے صہیونی کمیونٹی میں

بیرونِ ملک دولت کا الزام: اسد عمر نے سراج الحق کو قانونی نوٹس بھجوا دیا

?️ 3 مئی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سیکریٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف اسد عمر نے

ن لیگ کے دور میں ملک نے ہمیشہ ترقی کی۔ احسن اقبال

?️ 9 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا

مکمل لاک ڈاؤن سے ایک قدم پیچھے ہیں: بلوچستان حکومت

?️ 27 اپریل 2021کوئٹہ(سچ خبریں)کورونا وبا کے  تیزی سے پھیلاؤ اور عوام کی جانب سے

کیا امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کسی کام آئیں گے؟

?️ 13 مئی 2024سچ خبریں: یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے اعلان کیا کہ

وینس فلم فیسٹیول میں صہیونی مظالم کی مذمت کے لیے سینما سے وابستہ افراد کی اپیل

?️ 25 اگست 2025 سچ خبریں: دنیا بھر کے ہزاروں اداکاروں، فلم سازوں اور سینما

سول سوسائٹی ارکان نے کشمیری خاندانوں، ماؤں کی حالت زار کو اجاگر کیا

?️ 14 مئی 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں سول

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے