ہمیں کہا گیا عمران خان سے ملاقات نہیں ہوسکتی جب تک عاصم مُنیر کا نوٹیفکیشن نہیں آتا، علیمہ خان

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمیں کہا گیا عمران خان سے ملاقات نہیں ہوسکتی جب تک عاصم مُنیر کا نوٹیفکیشن نہیں آتا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تین ہفتے قبل جب ہم بارش میں سڑک پر بیٹھ گئیں تو عظمیٰ خان کو 5 منٹ کے لیے عمران خان سے ملوا دیا، اگلے ہفتے ایس ایچ او نے وعدہ کیا آپ چلے جائیں اگلے منگل ملاقات کروا دیں گے لیکن کل بھی نہیں کروائی گئی اور الٹا پولیس والے ہم پر الزامات لگاتے رہے ہیں، ہم 20 سے 25 لوگ فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے سب پہلے سوشل میڈیا کے لڑکوں کو وہاں سے بھگایا کیوں کہ یہ ان کے موبائل بھی چھین لیتے ہیں تو اس لیے وہ وہاں سے چلے گئے، باقیوں کو بھی ہم نے کہا آپ یہاں سے چلے جائیں انہوں نے لائٹ بند کر دی ہیں آپ بھی چلے جائیں لیکن باقی لوگ نہیں گئے۔

علیمہ خان کا کہنا ہے کہ ایک بچے نے ہمیں آ کر بتایا کہ پولیس والے پائپ لے آئے ہیں پانی چھوڑنے لگے ہیں، وہ بچہ 12 سال کا تھا ہم پانی میں بیٹھے رہے تاہم پولیس والوں نے اس 12 سال کے بچے کو مارنا شروع کر دیا، اٹھا کر گاڑی میں ڈال دیا اور الزام لگایا کہ پانی اس بچے نے چھوڑا ہے ہم نے نہیں، مینا خان صوبائی وزیر ہے عوامی نمائندہ ہے لوگوں نے ووٹ دیا ہے اس پر بدترین تشدد کیا گیا ہے، شاید خٹک پر تشدد کیا گیا، گلو بٹنیاں مریم نواز نے بھیجھیں، میں نے خود سنا ایک پولیس والی گلو بٹنی گلناز خاتون نے کہا ان کو مارو تو پولیس والیوں نے ہمیں مارنا شروع کردیا۔

سابق وزیراعظم کی ہمشیرہ نے کہا کہ ہم کبھی اس طرح پریس کانفرنس نہیں کی لیکن اب بس بہت ہو گیا ہے، ڈھائی تین سال ہم نے بہت برداشت کر لیا ہے اب اس طرح نہیں چل سکتا، ساڑھے چار سو دن ہم جیل کے اندر گئے ہیں، کئی گھنٹے ہم نے باہر گزارے ہیں لیکن کبھی انتشار نہیں کیا، یہ مرضی کے مالک ہیں جب دل کرتا ہے ملاقات کرواتے ہیں، نہیں تو نہیں کرواتے، عمران خان سے ملاقات کرنا ہمارا قانونی حق ہے، عدالت نے ہمیں اور وکلاء کو اجازت دے رکھی ہے، ہم نے کبھی آئین نہیں توڑا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری خواتین وکلا کو مرد اہلکار اٹھا اٹھا کر قیدی وینز میں پھینکتے رہے، ان مردوں نے ہماری خواتین کے منہ پر تھپڑ مارے، ہماری خواتین کو مردوں کے ساتھ ایک قیدی وین میں بند کیا گیا، میری بہن نورین نیازی 71 سال کی خاتون ہیں، انہیں سڑک پر گھسیٹا گیا، شدید تشدد کیا گیا، کیا یہ ہیں اخلاقیات؟ کیا ہم ڈر جائیں گے؟ کیا یہ ہمارا ملک نہیں؟ کیا یہ صرف بدمعاشوں کا ملک ہے؟ 9 مئی کو خواتین کے ڈپٹوں پر جو ہاتھ ڈالا گیا اس کا سلسلہ آج تک جاری ہے ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے، ہم پھر سے اڈیالہ جیل جائیں گے۔

علیمہ خان کہتی ہیں کہ نورین نیازی کا بیٹا 10 سال کی قید میں ہے لیکن سب ہونے کے باوجود یہ ہنس رہی تھیں، اگر عمران خان نے کہہ دیا ہے کہ آزادی یا موت تو پھر ہم اڈیالہ کےباہر اکیلے بیٹھیں گے، اپنے بھائی کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، ما دو گے ہم مرنے کو تیار ہیں، جو کہتے ہیں یہ چیئرمین بننا چاہتے ہیں سن لیں ہمیں کچھ نہیں چاہیئے، عمران خان نے بھی جیل ٹرائل کے دوران جج یا پولیس والوں سے کچھ نہیں کہا، بس یہی ڈیمانڈ کی کہ میری کتابیں دے دو یا میری بچوں سے بات کروا دو۔

مشہور خبریں۔

ہم مشرق اور مغرب کے درمیان رابطے کا پل بننے کے لیے تیار ہیں: عراق

?️ 24 ستمبر 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کرتے

پاکستان کے بھارت کی جانب سے پاکستان کی حدود میں گرنے والے میزائل پر مختلف سوالات

?️ 12 مارچ 2022(سچ خبریں)ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی جانب سے بھارت کی جانب

عراق کے تمام سرکاری دفاتر اور اداروں کو بند کرنے کا حکم ؛ وجہ؟

?️ 12 نومبر 2025سچ خبریں: عراق کے دفترِ اطلاعاتِ وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم

پرویز خٹک نے آئندہ الیکشن کے متعلق بڑا اعلان کیا

?️ 15 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) سینئر صحافی چوہدری غلام حسین نے اے آر

عمران خان کے مجرم ہونے میں کوئی شک نہیں:نواز شریف

?️ 17 جنوری 2021عمران خان کے مجرم ہونے میں کوئی شک نہیں:نواز شریف اسلام آباد

آرمینیا اور امارات کے درمیان تجارت میں اضافے کا راز

?️ 7 جنوری 2025سچ خبریں: گزشتہ سال کے پہلے 9 مہینوں میں امارات کے ساتھ آرمینیا

ہنیہ کی جانب سے خطے میں امریکی اتحاد کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد بنانے کی دعوت

?️ 14 جولائی 2022سچ خبریں:  فلسطین کی اسلامی استقامتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے

ایک ساتھ انتخابات کا معاملہ: حکومت، پی ٹی آئی کے مذاکرات کا پہلا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق

?️ 28 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ملک بھر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے