?️
کراچی: (سچ خبریں) سندھ ہائیکورٹ نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ لائن لاسز اور بجلی چوری کو کم کرنے کے لیے کے۔الیکٹرک نے اپنے صارفین کے لیے پری پیڈ بلنگ سسٹم کیوں متعارف نہیں کرایا؟
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے یہ سوال جماعتِ اسلامی کی جانب سے کے۔الیکٹرک اور دیگر کے خلاف دائر پٹیشن کی سماعت کے دوران اٹھایا، جس میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی استدعا کی گئی تھی۔
سماعت کے آغاز پر کے۔الیکٹرک کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق لوڈشیڈنگ سے متعلق تکنیکی معاملات پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے رجوع کیا جانا چاہیے۔
بینچ نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر اس پٹیشن کے قابلِ سماعت ہونے کے حوالے سے دلائل دینے کی تیاری کے ساتھ آئیں۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ لوڈشیڈنگ کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں لائن لاسز بھی شامل ہیں، لیکن ان صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے جو باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں اور بجلی چوری میں ملوث نہیں ہیں۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ کے۔الیکٹرک نے ابھی تک اپنے صارفین کے لیے پری پیڈ کارڈ سسٹم کیوں نافذ نہیں کیا، حالانکہ اگر آج سے اس پر کام شروع بھی کیا جائے تو اسے مکمل ہونے میں 5 سال لگ جائیں گے۔
کے۔الیکٹرک کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ شہر کے تقریباً 70 فیصد فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دیا گیا ہے اور نجکاری کے بعد بجلی چوری کو روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کے۔الیکٹرک کے وکلا نے یہ بھی کہا کہ عدالت کی جانب سے تجویز کردہ پری پیڈ کارڈ پالیسی متعلقہ حکام تک پہنچا دی جائے گی۔
جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر اور دیگر دو رہنماؤں نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں بجلی کی وزارت، کے۔الیکٹرک اور نیپرا کو فریق بنایا گیا تھا۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ کے۔الیکٹرک کراچی میں بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی ذمہ دار ہے، گرمی کی شدید لہروں کے دوران بھی مختلف علاقوں میں روزانہ اوسطاً 10 سے 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کر رہی ہے، اور اس کو بجلی چوری سے متعلق نقصانات سے جوڑ رہی ہے۔
درخواست گزاروں نے یہ بھی کہا تھا کہ کراچی کے 2 ہزار 109 فیڈرز میں سے ایک ہزار 500 پر لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی، جب کہ باقی فیڈرز پر ان کے نقصانات کی شرح کے مطابق بجلی بند کی جاتی ہے۔
درخواست گزاروں کے مطابق کراچی کے ہائی لاسز والے علاقوں میں طلب بڑھنے پر ساڑھے 7 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے، جب کہ کم نقصان والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ بالکل نہیں کی جاتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کے۔الیکٹرک نے بتدریج لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ کیا، اور اب شہر رات کو 2 سے چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا شکار ہے جبکہ 40 فیصد شہر بدترین بجلی بحران سے دوچار ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ کے۔الیکٹرک کو حکم دیا جائے کہ وہ فوری طور پر لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم کرے، اور نیپرا کے پرفارمنس اسٹینڈرڈ رولز اور فائن ریگولیشنز پر عمل کرے۔
مزید یہ کہ عدالت کے۔الیکٹرک کو ہدایت دے کہ وہ ایک جامع منصوبہ تیار اور نافذ کرے تاکہ لوڈشیڈنگ ختم ہو، بجلی چوری کو روکا جا سکے اور انفرااسٹرکچر کو جلد از جلد بہتر بنایا جا سکے۔


مشہور خبریں۔
معاشی نقصانات سے نجات کیلئے غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، آرمی چیف
?️ 28 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ
ستمبر
بھارت کشمیریوں کو کیوں جیلوں میں بند کر رہا ہے؟
?️ 26 اگست 2023سچ خبریں: بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی
اگست
ملاکنڈ میں چار روزہ آپریشن میں 9 خوارج ہلاک اور 8 گرفتار کرلیے گئے، آئی ایس پی آر
?️ 20 جولائی 2025ملا کنڈ: (سچ خبریں) خیبرپختونخو اکے ضلع ملاکنڈ میں 16 تا 20
جولائی
غزہ کی جنگ میں ناکامیوں اور داخلی بحرانوں کا شکار نیتن یاہو
?️ 14 نومبر 2024سچ خبریں:اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، جو اسرائیل کو ایک طاقتور
نومبر
ڈالر کی اونچی اڑان جاری
?️ 12 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی
ستمبر
اسٹیبلشمنٹ مجھے اقتدار میں نہ آنے دے لیکن کیا ان کے پاس کوئی روڈمیپ ہے، عمران خان
?️ 26 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے
مارچ
قدس کے تمام علاقے ہماری قوم کے ہیں: رام اللہ
?️ 8 مئی 2022سچ خبریں: فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے آج اسرائیلی
مئی
جرمنی یورپ کی احمق ترین حکومت ہے:جرمن پارلیمنٹ کی رکن
?️ 10 ستمبر 2022سچ خبریں:جرمنی کے بائیں بازو کی خاتون سیاست دان کا کہنا ہے
ستمبر