کورکمانڈرز کانفرنس: ’پڑوسی ملک میں کالعدم ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں، پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ‘

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پاک فوج نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروپوں کو پڑوسی ملک میں حاصل پناہ گاہیں اور جدید ہتھیار کی دستیابی پاکستان کی اندرونی سلامتی متاثر کرنے والی بنیادی وجوہات ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت 258ویں کور کمانڈرز کانفرنس جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں منعقد ہوئی۔

بیان میں کہا گیا کہ کانفرنس میں دہشت گردی کے خطرات کے خلاف مادر وطن کے دفاع میں مسلسل اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کرنے والے بہادر سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

کور کمانڈرز کانفرنس کے بارے میں بتایا گیا کہ شرکا کو ملک کی اندرونی سیکیورٹی ماحول کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’اجلاس کے دوران پڑوسی ملک میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر انتہا پسند گروپوں کے دہشت گردوں کو حاصل پناہ گاہیں اور کارروائیوں کی آزادی اور دہشت گردوں کو جدید ہتھیاروں کی دستیابی کو پاکستان کی سلامتی متاثر کرنے والی بنیادی وجہ قرار دیا گیا‘۔

بیان میں کہا گیا کہ کور کمانڈرز کانفرنس میں فوج کی آپریشنل تیاریوں اور تربیتی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ’معروضی تربیت ہماری پیشہ ورانہ صلاحیت کا بدستور طرہ امتیاز ہے اور ہمیں اپنی قومی سلامتی کے ہر طرح کے خطرے سے تحفظ کے لیے تیار رہنا چاہیے‘۔

بیان میں بتایا گیا کہ فورم کو حکومت کی معیشت کی بحالی کے منصوبے اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت زراعت کی بحالی، آئی ٹی، کان کنی، منرلز اور دفاعی پیداوار کے شعبے میں فوج کے کردار کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

بیان کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکا نے معیشت کی بحالی کے لیے حکومت پاکستان کے اسٹریٹجک اقدامات کے تمام ممکنہ ٹیکنیکل اور انتظامی تعاون کی فراہمی کے ذریعے تعاون کا عزم دہرایا جو پاکستان کے عوام کے فلاح کے لیے ہے۔

اس سے قبل 14 جولائی کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ژوب میں دہشت گردی کے حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی سی ایم ایچ کوئٹہ میں عیادت کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کو کارروائیوں کے لیے دستیاب مواقع پر تشویش ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کو کارروائیوں کے لیے آزادی اور محفوظ مقامات کی دستیابی پر انتہائی تشویش ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’افغانستان کی عبوری حکومت سے توقع تھی کہ وہ حقیقی معنوں اور دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی روشنی میں کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردوں کی سہولت کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دے گی‘۔

آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ’پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا ایک اور تشویش ہے، جس کو حل کرنے کی ضرورت ہے‘۔

دہشت گردی کی کارروائیوں کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ’اس طرح کے واقعات ناقابل برداشت ہیں جن پر پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے مؤثر جواب دیا جائے گا‘۔

بعد ازاں 15 جولائی کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان ہمسایہ اور برادر ملک ہونے کا حق ادا نہیں کر رہا اور نہ ہی دوحہ معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ 50 سے 60 لاکھ افغان شہری تمام تر حقوق کے ساتھ پاکستان میں 4 سے 5 دہائیوں سے پناہ لیے ہوئے ہیں، اس کے بر عکس پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو افغان سر زمین پر پناہ گاہیں میسر ہیں۔

خیال رہے کہ 12 جولائی کو بلوچستان کے علاقے ژوب میں واقع گیریژن میں دہشت گردوں کے حملے میں 9 فوجی جوان شہید اور جوابی کارروائی میں 5 دہشت مارے گئے تھے۔

اسی روز سوئی میں فوجی آپریشنز کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 3 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا تھا جبکہ مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے 2 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

مشہور خبریں۔

قفقاز میں امریکہ کا عظیم موقع پرستی؛ کیا "ٹرمپ روڈ” بن رہا ہے؟

?️ 9 اگست 2025سچ خبریں: ممکنہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر، آرمینیائی حکومت

قومی مفاد میں آئینی ترمیم پراتحاد ضروری ہے:محمود قریشی

?️ 19 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء وزیرخارجہ

سید حسن نصراللہ کی وارننگ کا صیہونیوں پر اثر

?️ 3 جون 2023سچ خبریں:سید حسن نصر اللہ کے الفاظ میں قابضین کے لیے ایک

مقبوضہ کشمیر سے متعلق مغرب میں بہت زیادہ بات نہیں کی جاتی: وزیراعظم

?️ 29 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ کشمیر میں بھارت

امریکہ حماس کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟

?️ 12 اکتوبر 2023سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر

فرانس کو سیکورٹی کے مسائل کا سامنا 

?️ 3 اکتوبر 2023سچ خبریں:180 ڈگری کے موڑ میں جب سے موجودہ حکومتوں نے گزشتہ

غزہ میں موجود صیہونی قیدی ایک بار پھر نیتن یاہو کے لیے درد سر

?️ 30 ستمبر 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے ایک اخبار نے صیہونی حکومت کے وزیر

سعودی عرب روس کے ساتھ تیل کے تعاون میں خلل ڈالنے پر آمادہ نہیں

?️ 29 مارچ 2022سچ خبریں:  روئٹرز نے بتایا ہے کہ یوکرین کے تنازع اور امریکہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے