?️
کراچی: (سچ خبریں) سندھ حکومت نے لیاری میں عمارت گرنے کے سانحے پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے سربراہ کو معطل کرتے ہوئے لواحقین کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے امداد کا اعلان کرتے ہوئے شہر میں انتہائی مخدوش قرار دے گئی 51 عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیر بلدیات سعید غنی اور وزیر داخلہ ضیا لنجار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لیاری میں عمارت گرنے کے سانحے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، فرائض میں کوتاہی برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ڈی جی ایس بی سی اے کو معطل کردیا ہے، وزیراعلیٰ نے وزیر داخلہ کو فوری طور پر ایف آئی آر کاٹ کر ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے کمشنر کراچی کو کمیٹی میں شامل کیا ہے اور 2 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے جس کی سفارشات پر بے رحم آپریشن کیا جائے گا۔
وزیر بلدیات سعید غنی نے بتایا کہ انہوں نے حادثے کے روز علاقے میں تعینات ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر اور انسپکٹر سطح کے ایس بی سی اے افسران کو معطل کیا تھا لیکن آج فیصلہ کیا گیا ہے کہ 2022 میں جب پہلی مرتبہ اس عمارت کا سروے ہوا اور اس عمارت کو خطرناک قرار دیا گیا، اس وقت سے آج تک اس علاقے میں ایس بی سی اے کے جتنے افسران تعینات رہے ہیں، ان سب کی نشاندہی کرنے کے بعد انہیں اس انکوائری کا حصہ بنایا جائے گا اور اگر کسی افسر کی لاپروائی اور غفلت ثابت ہوئی تو اس کا نام ایف آئی آر میں شامل کیا جائے گا۔
سعید غنی نے بتایا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی مہلت میں 48 گھنٹے کا اضافہ کیا گیا ہے اور اس کمیٹی کی سربراہی کمشنر کراچی کو سونپی گئی ہے، یہ کمیٹی 2 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ کمشنر کراچی کو یہ ذمے داری بھی دی ہے کہ وہ اگلے 24 گھنٹے کے اندر کراچی میں مخدوش قرار دی گئی 51 عمارتوں کی مکمل تفصیلات فراہم کریں گے کہ ان عمارتوں میں کتنے یونٹس ہیں اور ان میں کتنے لوگ مقیم ہیں، تاکہ ان عمارتوں کو گرانے کا کام فوری طور پر شروع کیا جاسکے۔
وزیربلدیات نے کہا کہ کمشنر کراچی کو 2 ہفتے میں شہر میں خطرناک قرار دی گئی 588 عمارتوں کا جائزہ لینے کے بعد درجہ بندی کرکے تمام تفصیلات دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، تاکہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ کن عمارتوں کو فوری طور پر گرانا ہے اور کون سی ایسی عمارتیں ہیں جو بنیادی مرمت کے بعد ٹھیک ہوجائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کمشنر کراچی نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ ان عمارتوں میں کتنے یونٹس ہیں؟ کتنے افراد مقیم ہیں، کتنے لوگ ان یونٹس کے مالک ہیں، کتنے پگڑی اور کتنے کرائے پر ہیں، تاکہ ان لوگوں کی بحالی کا کام بھی کیا جاسکے۔
سعید غنی نے کہا کہ حادثے میں جاں بحق 27 افراد کے ورثا کو حکومت فوری طور پر فی کس 10 لاکھ روپے فراہم کرے گی، انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے کا نیا سربراہ آئے گا اور اگر تحقیقات میں سابقہ ڈی جی ایس بی سی اے کی کوئی مجرمانہ غفلت پائی گئی تو ایف آئی آر میں ان کا نام بھی شامل کرلیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پورے صوبہ سندھ میں 740 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، ایس بی سی اے ان تمام عمارتوں کے لیے قانونی طریقہ کار پر تو عمل کرتا ہے، ان عمارتوں کو نوٹسز بھیجے جاتے ہیں، اخبارات میں اشتہار دیے جاتے ہیں، عمارتوں پر بینر آویزاں کیے جاتے ہیں اور وہاں جاکر میگا فون پر اعلانات کیے جاتے ہیں، مگر اس سب کے باوجود ایس بی سی اے کی ذمے داری ختم نہیں ہوجاتی، اگر اس سب کے باوجود لوگ وہاں مقیم ہیں تو کسی نہ کسی پر ذمے داری لاگو ہوتی ہے۔
وزیربلدیات نے بتایا کہ ایس بی سی اے کے قانون میں ترمیم کے لیے ان کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں چیف سیکریٹری، وزیر قانون اور میئر کراچی شامل ہیں، اس کمیٹی کو ایس بی سی اے کے قانون میں ترمیم لانے کے لیے 2 ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔
اس موقع پر وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افسران اور عام افراد کے خلاف بے رحمانہ کارروائی ہوگی، حکومت سنجیدہ طور پر ذمے داروں کو تعین کرے گی، کسی بے قصور کو ایف آئی آر میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے اعتراف کیا کہ ایس بی سی اے کے قانون میں ذمے داری کا تعین کرنے کے حوالے سے سقم موجود ہے، لیکن مجرمانہ غفلت کا اقدام ہوا ہے جس کے ذمے داروں کا تعین کرکے بہت جلد انہیں گرفتار کیا جائے گا۔
اس سوال پر کہ انتہائی مخدوش قرار دی گئی 51 عمارتوں کو گرانے سے قبل وہاں مقیم افراد کو کہاں لے جایا جائے گا، پر سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ یہ مسئلہ موجود ہے، حکومت خاموش نہیں بیٹھے گی، حکومت نے ایمرجنسی میں سیلاب زدگان کے لیے انتظامات کیے تھے، کورونا کے دوران قرنطینہ کا انتظام کیا گیا تھا، اب بھی کوئی ایمرجنسی صورتحال ہوئی تو حکومت متبادل انتظامات کرے گی، فی الحال اعلان نہیں کیا جاسکتا مگر حکومت کسی کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گی۔


مشہور خبریں۔
افغانستان پر امریکی حملے کی وجہ چینی میڈیا کی زبانی
?️ 12 ستمبر 2022سچ خبریں: شینہوا نے افغانستان کے ایک ماہر کے حوالے سے
ستمبر
632000 یمنی بچوں کی زندگی خطرے میں
?️ 10 ستمبر 2022سچ خبریں:یمن کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ
ستمبر
سی ٹی ڈی کی اہم کارروائی، تخت بیگ چیک پوسٹ پر خودکش دھماکے میں ملوث 7 دہشت گرد گرفتار
?️ 12 اپریل 2023پشاور: (سچ خبریں) محکمہ انسداد دہشتگردی پشاور ریجن ٹو نے اہم کارروائی
اپریل
دنیا میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوتا جا رہا ہے: سردارمسعود
?️ 15 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں)آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا
مارچ
ماضی میں شدید مالی مشکلات کا شکار ہونے والے بالی وڈ کے معروف اداکار
?️ 10 اگست 2023سچ خبریں: بالی وڈ میں ستاروں کے لیے مالی مشکلات کا شکار
اگست
ملکی سلامتی میں پاک افواج کا بہت بڑا کردار ہے: گورنر پنجاب
?️ 7 اکتوبر 2021لاہور (سچ خبریں) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے ملکی سلامتی میں
اکتوبر
ماریہ بی اور ترک ماڈل نے ایک دوسرے کو ہرجانے کے نوٹسز بھجوا دیے
?️ 28 اپریل 2025کراچی: (سچ خبریں) معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی اور ترکیہ کی ماڈل
اپریل
عرب ممالک کے لوگ رمضان میں کون سے ڈرامے دیکھتے ہیں؟
?️ 3 اپریل 2023سچ خبریں:فلسطین اور صیہونی حکومت کے خلاف فلسطینی قوم کی جدوجہد پر
اپریل