?️
کراچی: (سچ خبریں) قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں 2 عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن کا تعلق کالعدم عسکریت پسند گروپ القاعدہ برصغیر اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔
ترجمان نے جاری بیان میں بتایا کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس سپر مارکیٹ تھانے نے وفاقی حساس ادارے کے تعاون سے کارروائی کرتے ہوئے کالعدم عسکریت پسند گروپ القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کے کارندے صہیب طارق عرف عثمان ولد محمد طارق خان کو گرفتار کیا جو کہ شہر کراچی میں روپوش تھا۔
ترجمان ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے بتایا کہ مذکورہ عسکریت پسند نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ وہ 2019 میں طلحہ نامی شخص کے تعاون سے افغانستان برامچہ میں واقع عسکریت پسند گروپ القاعدہ برصغیر کے کیمپ انچارج قاری عبداللہ سے رابطہ استوار کیا جس کے بعد ملزم براستہ دلبدین افغانستان برامچہ پہنچا، جہاں اس نے ایک ماہ کی عسکری ٹریننگ حاصل کی۔
ملزم نے بتایا کہ اس کی ملاقات برامچہ میں 2 بھارتی شہریوں عبدالرحمن اور طہٰ سے بھی ہوئی، جن کا تعلق بھی اے کیو آئی ایس سے تھا۔
دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد افغانستان میں موجود اے کیو آئی ایس کی لیڈر شپ کے ساتھ اس کا رابطہ بدستور برقرار رہا، ملزم بعدازاں عسکریت پسند گروپ القاعدہ برصغیر کے شعبہ نشرواشاعت کے ساتھ منسلک ہوگیا۔
پولیس کے مطابق پاکستان آنے کے بعد افغانستان میں موجود اے کیو آئی ایس کے اوطاق کا امیر قاری عبداللہ کو ملزم کالعدم القاعدہ کے سہ ماہی میگزین ‘نوائے غزوہِ ہند’ کے ساتھ اے کیو آئی ایس کے مرکزی رہنماؤں مولانا عاصم عمر، شیخ اسامہ محمود و دیگر کے کتابچے اور ان کی آڈیو و ویڈیوز تقاریر سمیت تنظیمی ہدایات اور میٹیریل ملزم کو ٹیلی گرام ایپ پر باقاعدہ شئیر کرتا تھا، جسے ملزم ٹیلی گرام اور واٹس ایپ کے مختلف گروپس میں بھیجتا تھا، ملزم مذکورہ تحریری و تقریری مواد کے ذریعے لوگوں کی ذہن سازی کرتا تھا اور لوگوں کو راغب کرتا تھا۔
اس نے مزید انکشاف کیا کہ وہ دیگر ساتھیوں محمد عرف رومان، ابوعروہ اور عبدالمنان جن کا تعلق بھی عسکریت پسند گروپ القاعدہ برصغیر سے تھا، وہ پہلے ہی گرفتار ہوچکے ہیں، جس کے بعد ملزم کراچی آکر روپوش ہو گیا تھا۔
پولیس نے دعویٰ کیا کہ ملزم کے قبضے سے 1 پستول، 1 عدد دستی بم، 3 موبائل فون اور نقدی بھی برآمد کی گئی ہے، پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
دوسری طرف، محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے وفاقی حساس ادارے کی جانب سے خفیہ اطلاع ملنے پر کارروائی کرتے ہوئے محمد شاہ عرف ڈنگ کو گرفتار کر لیا، جس کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ہے، وہ کراچی میں اپنا نیٹ ورک بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایا کہ گرفتار دہشت گرد کا تعلق کالعدم (ٹی ٹی پی) کے طارق گیڈر سے ہے، وہ عسکری تربیت یافتہ اور سی ٹی ڈی پشاور کو سنگین مقدمات میں مطلوب ہے۔
سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق گرفتار دہشت گرد عبدالرحیم، بلال، جواد عرف چھوکرا، عاصم، گلریز، عدنان نے ازاخیل ڈیم درہ آدم پر ایف سی کی چوکی پر راکٹ لانچر اور خودکار اسلحے سے حملہ کیا تھا، ملزم نے 17 جولائی 2022 کو شیخان نالہ چوک ایریا تھانہ متنی کے پاس پولیس کے جوانوں پر حملہ کیا، جس میں 2 پولیس اہلکار جان علی اور شیر اکبر شہید ہوگئے تھے۔
پولیس نے بتایا کہ گرفتار دہشت گرد درہ آدم خیل کے مختلف علاقوں میں بھتہ وصول کرنے میں بھی ملوث ہے، سی ٹی ڈی پشاور کو اس کی گرفتاری کے بارے میں اطلاع دی جارہی ہے۔


مشہور خبریں۔
ایکس پر پابندی کے بارے میں عظمیٰ بخاری کا بیان
?️ 3 اگست 2024سچ خبریں: پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ
اگست
سعودی عرب کا مسجد الحرام میں سکیورٹی پلان
?️ 13 جون 2023سچ خبریں:اعمال حج کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی پلان پیش کرنا
جون
مڈ بجٹ رئیل می 12 متعارف
?️ 7 مارچ 2024سچ خبریں: اسمارٹ فون بنانے والی چینی کمپنی رئیل می نے اپنی
مارچ
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا تشویشناک ہے، وزیراعظم
?️ 17 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغان
اکتوبر
یمن میں بعض قیدیوں کی رہائی کے لیے ابتدائی معاہدہ طے
?️ 2 اگست 2022سچ خبریں: یمن کی نیشنل سالویشن گورنمنٹ میں قیدیوں کے امور کی
اگست
لبنانی حکومت دشمن کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں اپنے غلط فیصلے سے باز آ جائے
?️ 30 مئی 2026سچ خبریں: لبنانی پارلیمان میں بعلبک-الہرمل کے نمائندوں کے دھڑے کے سربراہ
مئی
امریکہ اور اسرائیل کے لیے تاریخی رسوائی؛ انڈونیشیا کے 83 فیصد عوام نے ایران کے خلاف جنگ کی مذمت کی
?️ 4 اپریل 2026سچ خبریں: انڈونیشیا میں ایک قومی سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ
اپریل
عدالت نے جو بھی طلب کیا وہ ہم فراہم کریں گے:شاہ محمود قریشی
?️ 4 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو
اپریل