ڈاکٹر عارف علوی نے الیکشن ترمیمی بل دستخط کیے بغیر واپس بھجوا دیا

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) الیکشن ترمیمی بل کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ آئین کی پاسداری کرتا رہا ہوں، ادراک ہے کہ آئین پاکستان اِس بل پر دستخط نہ کرنے کے باوجود اسے قانون کی شکل دے دے گا، بحیثیت صدر پاکستان مجلس شوریٰ کے منظور کردہ بل پر دستخط نہ کرنا میرے لیے ذاتی طور پر ایک تکلیف دہ امر ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹنگ کے معاملے سے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے منسلک ہوں، تمام حکومتوں، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں اِس معاملے کی پیروی کرتا رہا ہوں۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ٹیکنالوجی ‘ہمیشہ سے متنازعہ’ اور چیلنج شدہ انتخابی عمل میں ابہام، اختلاف اور الزامات کو کم کر سکتی ہے، ٹیکنالوجی کا استعمال انتخابی عمل میں شفافیت لانے، انتخابی مرحلے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شرکت، سیاسی اعتماد کی فضا قائم کرنے، اور تقسیم کے عمل کو کم کرنے میں مدگار ثابت ہو گا، ٹیکنالوجی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ہمارے اب تک کے ادھورے خواب کو پورا کر سکتی ہے، چاہتا ہوں کہ پاکستان مستقبل میں تیزی سے کامیابی کی طرف بڑھے، آج کے مسائل کو صرف ماضی کے تجربات کی روشنی میں ہی حل نہیں کرنا چاہئے بلکہ جدید اور نئے سائنسی طریقوں کو بھی بروئے کار لانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے اپنے دلائل اور خیالات قلم بند کرنا چاہتا ہوں، مجوزہ قوانین کی نوعیت رجعت پسندانہ ہے، ٹیکنالوجی، خاص طور پر ای وی ایم ، کو جب موثر طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو اس میں بہت سے مسائل کا حل موجود ہے جو روایتی طریقوں میں درپیش آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا پورا ادراک ہے کہ پارلیمان کے دونوں اطراف میں اعتماد سازی کے فروغ اور شراکت داروں کی وسیع تر شمولیت کے بغیر اصلاحات ممکن نہیں، ایسا اب تک کیوں نہیں ہوا اور رائے سازوں اور فیصلہ سازوں کی جانب سے اس عام فہم چیز کو نظر انداز کیوں کیا گیا، یہ میرے لئے ایک معمہ رہے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ اس طرح کے بہت سے مُشکل فیصلوں کا ہمیں مستقبل میں بھی سامنا رہے گا، تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں صحیح فیصلے کرتی ہیں وہ ترقی کی منازل تیزی سے طے کرتی ہیں اور جو ایسا نہیں کر پاتی وہ مواقع ضائع کرتی ہیں جو اُنہیں بلندی اور کامیابی کی طرف لے جا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اور مستقبل کی حکومتوں اور پارلیمان کو دو چیزوں کا انتخاب کرنا ہوگا، ہم ماضی کو اجازت دی سکتے ہیں کہ وہ پاکستان کو پستی کی طرف لے جائے، ماضی کے تجربات اور آج کی ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم پاکستان کے روشن، ترقی پسند اور متحرک مستقبل کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

عراقی عوام کا سعودی عرب کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ

?️ 23 مارچ 2022سچ خبریں:عراقی عوام نے مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ملک کی حکومت سے

لانگ مارچ کے شرکا کے مطالبات، کل اسلام آباد جاکر وزیر اعظم سے ملاقات کروں گا، گورنر بلوچستان

?️ 21 دسمبر 2023کوئٹہ: (سچ خبریں) گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ نے کہا ہے کہ

پیوٹن نے ٹرمپ کے لیے اپنی شرط کا اعلان کیا 

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گذشتہ ہفتے امریکی ہم منصب

غزہ پھر سے لہو لہان، اسرائیل، خطے کا سب سے بڑا دہشت گرد

?️ 15 مئی 2021(سچ خبریں)  پاکستانی اخبار نیوز نے اپنے ایک مضمون میں صہیونی ریاست

وزیراعظم نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کی منظوری دے دی

?️ 26 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی

ترکیہ نے ہرمشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، وزیراعظم

?️ 30 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترکیہ

عامر خان نے کونسی تین خواتین کو اپنے زندگی میں سب سے زیادہ اہم قرار دیا؟

?️ 4 جولائی 2021ممبئی (سچ خبریں) بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان نے اپنے

80 ممالک میں دنیا کے سب سے زیادہ جنگ دوست ملک کے 750 اڈے

?️ 26 دسمبر 2022سچ خبریں:       جنگ، قبضہ، مداخلت اور فوجی اڈے جیسے الفاظ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے