?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور انٹربینک میں روپے کی قدر میں مزید ایک روپے 72 پیسے کی کمی واقع ہو گئی۔
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق انٹر بینک میں مقامی کرنسی دوپہر 12 بجے 229 روپے 9 پیسے فی ڈالر پر ٹریڈ کررہی تھی جو روپے کی 0.75 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
اسی دوران ڈالر اوپن مارکیٹ میں ڈالر 234 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے کہا کہ سیلاب کے نتیجے میں درآمدی بل میں متوقع اضافہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ بنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) سے رقم موصول ہونے پر سرمایہ کاری کا وعدہ کرنے والے دوست ممالک نے اپنے وعدوں پر اب تک عمل نہیں کیا۔
ظفر پراچہ نے کہا وعدوں کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ پاکستان کی سیاسی صورتحال ، کرپشن اور رقم کی ادائیگی کے حوالے سے ماضی کا ریکارڈ ہے، ہمارا خیال تھا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے رقم کی ادائیگی کے بعد روپے کی قدر میں 10 سے 20 فیصد تک اضافہ ہوگا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم موصول ہوئی جو ناکافی ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ملک کو موجودہ مالی سال میں 40 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنے کی ضرورت ہے جبکہ حکومت نے پہلے کہا تھا کہ انہوں نے تمام مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تمام انتظامات کرلیے ہیں لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ حکومت اپنے بیانات تبدیل کررہی ہے۔
یاد رہے کہ وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل پریس کانفرنس کے دوران پریشان دکھائی دیے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ روپے پر دباؤ برقرار ہے۔
ظفر پراچہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے میں تاخیر کی ہے جبکہ اب ملک دوبارہ ڈیفالٹ کی جانب بڑھ رہا ہے، انہوں نے کہ حکومت اشیا اور کرنسی کی اسمگلنگ جیسے مسائل کو حل نہیں کرپا رہی۔
ٹریس مارک میں ریسرچ کی سربراہ کومل منصور کا کہنا ہے کہ ملک میں درآمدات عارضی طور پر معطل ہیں لیکن ڈالر کی افغانستان اسمگلنگ کی وجہ سے نقد ادائیگیوں میں مسئلہ پیش آرہا ہے۔
انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں فرق کی وجہ سے بین الاقوامی کرنسی اکاؤنٹ میں امریکی ڈالر نکالنے سے صارفین کو فائدہ ہو رہا ہے اور وہ ڈالر کو اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، بین الاقوامی اکاؤنٹ میں انتہائی کم شرح سود کی وجہ سے یہ صارفین ڈپازٹ کو ترجیح نہیں دے رہے۔
میٹس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے کہا کہ روپے پر دباؤ ہونے کی وجہ سے بینکوں نے غیر ضروری درآمدات کے لیے لیٹر آف کریڈٹ کھولنا بند کر دیا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ سے سپلائی کو جھٹکا لگا ہے اور سیلاب کی وجہ سے کپاس کی فصلیں بہہ گئی ہیں جس کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ پر بہت زیادہ بوجھ پڑے گا۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ حکومت برآمد کنندگان کے لیے ادائیگیوں کا انتظام کرے تاکہ جس دن برآمدات کی کھیپ بھیجی جائے اسی دن ڈالر روپے میں تبدیل ہو جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسی پالیسی متعارف کروائی جاتی ہے تو حکومت 5 سے 6 ارب ڈالر واپس لا سکتی ہے۔
2 ستمبر سے ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی آئی ہے جبکہ پچھلے ہفتے کے دوران روپیہ 9 روپے 2 پیسے سے کمی کے بعد 228 روپے 18 پیسے پر آ گیا تھا۔
مالیاتی اعداد و شمار اور تجزیاتی پورٹل میٹس گلوبل کے مطابق گزشتہ 52 ہفتوں کے دوران روپے کی قدر میں 26روپے 37 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، 28 جولائی کو روپیہ 239 روپے 94 پیسے کی ریکارڈ کم ترین سطح پر گر گیا تھا۔


مشہور خبریں۔
مقبوضہ جموں وکشمیر: پولیس کو آزادی پسندوں کے خلاف کریک ڈاﺅن میں تیزی لانے کی ہدایت
?️ 9 مارچ 2024جموں: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
مارچ
اسرائیل غزہ میں خوراک و دوا کی ترسیل روک رہا ہے:اقوام متحدہ کا انتباہ
?️ 30 اپریل 2025 سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنٹونیو گوٹرش نے کہا ہے
اپریل
بینظیربھٹو کےقاتلوں کومعاف کرنےکا اختیار بلاول بھٹو کے پاس ہے، سرفرازبگٹی
?️ 11 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا
دسمبر
سلامتی کونسل کو اسرائیل کے ساتھ کیا کرنا چاہیے:بین الاقوامی ماہر کا بیان
?️ 7 اپریل 2024سچ خبریں: بین الاقوامی تعلقات کی ایک ماہر نے اس بات کی
اپریل
سویلین کا ملٹری ٹرائل: میری تجویز مان لی جائے تو قانون نہیں ٹرائل کالعدم ہوگا، وکیل فیصل صدیق
?️ 3 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں
مارچ
ایران اسرائیل جنگ : ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، وزارت خزانہ
?️ 16 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں قائم کی
جون
لوگوں کیلئے غذائی تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی ذمے داری ہے
?️ 9 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے
اکتوبر
لاہور: اسموگ کے تدارک کیلئے فیکٹریوں کو دوبارہ سیل کرنے، جوہر ٹاؤن میں کیفے رات 10 بجے بند کرنے کا حکم
?️ 24 نومبر 2023لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے ڈی سیل ہونے والی تمام فیکٹریوں
نومبر