?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ڈی ایم اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی کال پر سپریم کورٹ کے سامنے دھرنے کے لیے جے یو آئی (ف) سمیت پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کے قافلے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم کے زیر اہتمام پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے پر امن احتجاجی دھرنا ہوگا، ملک بھر سے قافلے روانہ ہوگئے ہیں اور عوام اب عوامی عدالت میں فیصلہ کریں گے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ پُرامن طریقے سے اسلام آباد پہنچیں اور سپریم کورٹ کے سامنے ملاقات ہوگی، یہ ملک ہمارا ہے اور اس کی حفاظت بھی ہم کریں گے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قافلے علی الصبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور لکی مروت، ڈیرہ اسمٰعیل خان، پشاور، کوہاٹ سمیت صوبہ پنجاب کے مختلف حصوں سے بھی اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں۔
اس دھرنے میں پارٹی کی نائب صدر مریم نواز کی قیادت میں مسلم لیگ(ن) دھرنے شرکت کرے گی۔
دھرنے میں شرکت کے لیے مسلم لیگ (ن) کے قافلے ملک کے مختلف حصوں سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے کہا کہ مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہوگئے ہیں، تاحال تمام صورتحال پُر امن ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں وفاقی پولیس کا کہنا تھا کہ عوام سے گزارش ہے کہ پُرامن رہیں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔
دارالحکومت کی پولیس نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کے خدشات موجود ہیں لہٰذا عوام سے گزارش ہے کہ اجتماع والے مقامات سے دور رہیں۔
اس سے قبل وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ سمیت وفاقی حکومت کے ایک وفد نے سربراہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) مولانا فضل الرحمٰن کو سپریم کورٹ کے باہر دھرنے کا مقام تبدیل کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ناکام رہے تھے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دھرنے کا مقام تبدیل کر دیں لیکن بظاہر وہ انہیں قائل کرنے میں ناکام رہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ پیر کی صبح اپنے اپنے علاقوں سے قافلوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف سپریم کورٹ کے باہر اس دھرنے میں شرکت کریں جس کا اعلان پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے کیا تھا۔
جے یو آئی(ف) کے کارکنان پیر کی صبح اپنے اپنے علاقوں میں جمع ہو کر پشاور اسلام آباد موٹروے پر ہکلہ انٹر چینج کی طرف روانہ ہوں گے اور پھر وہاں سے مشترکہ طور پر اپنی منزل کی طرف بڑھیں گے۔
جے یو آئی (ف) کے صوبائی ترجمان حاجی جلیل جان نے ڈان کو بتایا کہ صوبے بھر سے کارکنان ہکلہ انٹر چینج تک پہنچنے کے لیے مختلف راستے استعمال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی علاقوں کے کارکن صبح 6 بجے اپنا سفر شروع کریں گے جبکہ ہزارہ ڈویژن سے جانے والے صبح 8 بجے روانہ ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام کارکنان صبح 10 بجے ہکلہ انٹر چینج پر جمع ہوں گے اور ان قافلوں کی قیادت پارٹی کے ضلعی اور ڈویژنل رہنما کریں گے۔
پشاور سے ریلی کی قیادت مولانا عطاالرحمٰن، مولانا عطاالحق درویش، سید ہدایت اللہ شاہ، مفتی فضل غفور، مفتی عبید اللہ، آصف اقبال داؤدزئی اور دیگر کریں گے۔
اس سلسلے میں جاری ایک بیان کے مطابق جے یو آئی (ف) کے سیکیورٹی ونگ انصار الاسلام کے تقریباً 10 ہزار کارکن بھی پارٹی کارکنوں کے ساتھ سپریم کورٹ کے باہر دھرنے کے انتظام کے لیے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔
جے یو آئی(ف) نے اپنے کارکنوں کو ضروری اشیا، پارٹی پرچم اور بینرز ساتھ لانے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں، انہوں نے کارکنوں سے یہ بھی کہا کہ وہ دھرنے کے دوران پرامن رہیں اور شرپسندوں پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ جے یو آئی (ف) کے کارکنوں کی آڑ میں پی ٹی آئی کے کارکنان ان کے پرامن احتجاج میں خلل ڈال سکتے ہیں۔
دریں اثنا، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر پی ڈی ایم کے دھرنے میں شامل ہونے سے کبھی انکار نہیں کیا لیکن انہیں کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا۔
اتوار کو باچا خان مرکز سے جاری ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کو دھرنے میں شرکت کا کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا، پارٹی قیادت نے دھرنے میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا اور عوامی نیشنل پارٹی بھی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
باجوڑ میں جے یو آئی (ف) اور پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر دھرنے میں شرکت کرے گی۔
دونوں جماعتوں نے میڈیا کو جاری علیحدہ علیحدہ بیانات میں یہ اعلان کیا۔
جے یو آئی (ف) کے بیان میں کہا گیا کہ پارٹی نے پیر کو دھرنے میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں کارکنوں کو اسلام آباد لانے کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔
اتوار کو جے یو آئی (ف) کے ضلعی سربراہ مولانا عبدالرشید کی زیر صدارت دھرنے کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے پارٹی کے مقامی قیادت کا اجلاس بھی ہوا۔
اجلاس کے شرکا نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا، جے یو آئی (ف) کے کارکنان صبح 8 بجے کے قریب خار بازار سے کارواں میں اسلام آباد روانہ ہوں گے۔
اسی طرح پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نے بھی سپریم کورٹ کے باہر دھرنے میں شرکت کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی۔
ایک بیان کے مطابق اس سلسلے میں ایک اجلاس پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر حاجی شیر بہادر کی زیر صدارت خار میں منعقد ہوا، اجلاس میں دھرنے میں شرکت کے لیے کارکنوں کی بڑی تعداد کو اسلام آباد لانے کا فیصلہ کیا گیا، پیپلز پارٹی کے کارکنان صبح ساڑھے 8 بجے گھر سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔


مشہور خبریں۔
ہندوستان غزہ کی نسل کشی میں صہیونیوں کا ساتھی کیوں بنا؟
?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: حالیہ دنوں میں غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے دوران
جولائی
نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گرفتار کرلیا
?️ 3 دسمبر 2021سندھ(سچ خبریں) نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی اور رہنما پیپلزپارٹی آغا سراج
دسمبر
کیا اسرائیل کے ساتھ حزب اللہ کی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے؟
?️ 26 نومبر 2025سچ خبریں: حزب اللہ کے عالی رکن فوجی کمانڈر ہیتھم علی طباطبائی کا
نومبر
وزیراعلیٰ سندھ کی نئے ایرانی قونصل جنرل سے معاہدے
?️ 14 جولائی 2023سچ خبریں:لسید مراد علی شاہ نے آج صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی
جولائی
عالمی امن کیلئے پاکستان کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ انتونیو گوتریس
?️ 22 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے کہا
جولائی
امریکی تھنک ٹینک: بھارت اپنا علاقائی اثر و رسوخ چین کو دے رہا ہے
?️ 29 مئی 2025سچ خبریں: امریکہ کے ایک تھنک ٹینک، کونسل آن فارن ریلیشنز نے
مئی
غزہ کے لیے بائیڈن جزیرہ کیا ہے؟
?️ 16 مارچ 2024سچ خبریں:امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی فوج کو غزہ کے ساحل
مارچ
پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ
?️ 31 دسمبر 2025 پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ
دسمبر