پی ڈی ایم میں پڑی ایک اور بڑی دراڑ

پی ڈی ایم

?️

اسلام آباد(سچ خبریں)اپوزیشن لیڈر پر پی ڈی ایم میں شدید اختلاف کھل کر سامنے آیا ہے جب پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنا اپوزیشن لیڈر لانے پر اپوزیشن کی اکثر جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کردیا پیپلز پارٹی کے اس فیصلے سے مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن بھی خوش نہیں ہیں۔

 پیپلزپارٹی کے سینیٹر یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے پر پی ڈی ایم میں اختلافات مزید بڑھتے نظر آرہے ہیں اور اپوزیشن کی اکثر جماعتوں نے تحفظات کر اظہار کردیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان پی ڈی ایم کے قائدین کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کی قیادت کے درمیان آپس میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت نے پیپلز پارٹی کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جب کہ مولانا فضل الرحمان بھی پی ڈی ایم اتحاد کو نظر انداز کرنے پر پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے خفا ہیں۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف بھی پیپلز پارٹی کے فیصلے پر نالاں ہیں اور انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے اس حوالے سے بات بھی کی، دونوں رہنماؤں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مولانا غفور حیدری کو ووٹ نہیں دیا اور پھر اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر بھی پیپلز پارٹی نے سولو فلائٹ لی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ لیگی قائدین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پر واضح کیا گیا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے ن لیگ کو موقع دیا جائے گا، بات صرف اکثریت کی نہیں بلکہ پی ڈی ایم اتحاد کے فیصلوں کی ہے، پیپلز پارٹی کی تمام تجاویز کو تسلیم کیا مگر عین وقت پر پی پی خود پی ڈی ایم سے اختلاف کررہی ہے، اتحاد کی خاطر مسلم لیگ ن کی قومی اسمبلی میں اکثریت کے باوجود پیپلز پارٹی کی حمایت کی گئی اور یوسف گیلانی کو متفقہ امیدوار کے طور پر قبول کیا گیا۔

دوسری جانب آج صبح ہونے والے (ن) لیگ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے جس میں یوسف رضا گیلانی کو ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف نامزد کرنے کی درخواست پر ن لیگ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، اور فیصلہ کیا تھا کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو اس حوالے سے شکایت کی جائے گی۔

لیگی رہنماؤں کا شکوہ تھا کہ پیپلزپارٹی نے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ پارٹی) کی حمایت حاصل کرکے پی ڈی ایم کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے، باپ کے سینٹرز کی پیپلزپارٹی کی حمایت سب چیزیں سامنے آگئی ہیں، سب کو پتہ باپ جماعت کس کے کہنے پر پیپلزپارٹی کو ووٹ ڈال رہی ہے۔

لیگی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کو اب سختی سے کہا جائے گا کہ جب پی ڈی ایم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر (ن) لیگ کا ہوگا تو پیپلزپارٹی نے ایسا کیوں کیا، اب پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد کے ساتھ چلنا مشکل ہوگیا ہے، اب آنے والے پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں سب جماعتوں کے سامنے یہ موقف رکھا جائے گا، جو فیصلہ پی ڈی ایم کرے ہم ان کے ساتھ ہیں مگر پیپلزپارٹی نے یہ دھوکا دیا ہے۔

واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرکی درخواست جمع کرائی، درخواست پر 30 ممبرز کے دستخط بھی موجود تھے، جن میں پیپلزپارٹی کے 21 ، اے این پی کے 2، جماعت اسلامی کا ایک، فاٹا کے 2، دلاور خان کے آزاد گروپ کے 4 ممبران شامل تھے۔ جس کے بعد یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف مقرر کردیا گیا، اور سینیٹ سیکریٹریٹ نے ان کے عہدے کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا ہے۔ جب کہ مسلم لیگ (ن) اور سربراہ پی ڈی ایم نے اپنے بیانات میں بارہا اظہار کیا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر (ن) لیگ کا ہوگا کیوں کہ ایک اجلاس میں یہی فیصلہ ہوا تھا۔

مشہور خبریں۔

یمن کی دلدل میں پھنسا سعودی عرب؛نکلنے کا راستہ

?️ 1 مارچ 2023سچ خبریں:عرب دنیا کے اسٹریٹجک مسائل کے تجزیہ کار نے یمن میں

صیہونیوں کے درمیان اختلاف کی وجہ؟

?️ 12 اگست 2023سچ خبریں:ایسی حالت میں کہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول

ایران اسرائیل کشیدگی بڑھنے سے جنگ دنیا بھر میں پھیل جائے گی۔ فیصل واوڈا

?️ 17 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ایران

صیہونیوں کا زور یا بیماروں پر چلتا ہے یا بچوں پر

?️ 16 نومبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی کے اسپتالوں کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا

صیہونی فوجیوں کے ہاتھوں 80 سالہ فلسطینی کی شہادت

?️ 12 جنوری 2022سچ خبریں:  شمالی رام اللہ کے گاؤں جلجلیہ میں رہنے والے 80

سعودی حکام کے اقتصادی منصوبوں میں ناکامیوں کا ریکارڈ اور 2030 وژن کی غیر یقینی صورتحال

?️ 4 دسمبر 2022سچ خبریں:محمد بن سلمان کے وژن 2030 منصوبوں پر عمل درآمد میں

انگلینڈ کے نئے وزیر اعظم Keir Starmer کون ہیں؟

?️ 6 جولائی 2024سچ خبریں: برطانوی پارلیمانی انتخابات میں لیبر پارٹی کی فیصلہ کن کامیابی

اوسلو مذاکرات اور معاہدے کو 30 سال گزر چکے ہیں لیکن نتیجہ، کچھ بھی نہیں

?️ 14 ستمبر 2023سچ خبریں:آج فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور صیہونی عبوری حکومت کے درمیان اوسلو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے