?️
لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو تحریک انصاف کی جلسہ کرنے کی اجازت کے لیے درخواست پر شام پانچ بجے تک فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔
پی ٹی آئی کو لاہور جلسے کی اجازت سے متعلق درخواست پر جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
اس موقع پر آئی جی پنجاب، چیف سیکریٹری پنجاب سمیت دیگر متعلقہ افسران لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔
جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نہیں آئے، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ اسلام آباد ہیں اس لیے یہاں پیش نہیں ہو سکے۔
پنجاب حکومت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کرنے کی استدعا کر دی، وکیل پنجاب حکومت نے دلائل دیے کہ عالیہ حمزہ نے جلسہ کی اجازت کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا۔
وکیل پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ ہراساں کرنے سے متعلق درخواست گزار کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں، عمر ایوب سمیت دیگر نے 21 ستمبر کو جلسے کی اجازت مانگی۔
وکیل پنجاب حکومت نے مزید کہا کہ ڈی آئی جی آپریشن اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کا اجلاس ہوا ، پی ٹی آئی کے ماضی کے رویے پر تحفظات کا اظہار ہے۔
سرکاری وکیل نے مؤقف جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد جلسے میں پی ٹی آئی نے نفرت انگیز تقاریر کیں، اشتہاری ملزم حماد اظہر نے صوابی جلسے میں کہا تھا کہ پنجابیو تیار ہو جاؤ میدان لگنے والا ہے۔
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ حماد اظہر نے کہا پنجابیو، خون کے آخری قطرے تک لڑنا ہے۔
جسٹس علی ضیا باجوہ نے درخواست گزار وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے جلسے کے لیے ڈپٹی کمشنر کو کوئی درخواست دی، جس پر وکیل درخواست گزار اشتیاق اے خان کا کہنا تھا کہ جی ہم نے درخواست دی ہے اور درخواست تحریک انصاف کی جانب سے دی گئی ہے۔
جسٹس علی ضیا باجوہ نے ڈی سی لاہور سے سوال کیا کہ کیا درخواست گزار کی جانب سے آپ کو کوئی درخواست وصول ہوئی؟ جس پر ڈی سی لاہور نے بتایا کہ ہمیں جلسے کی اجازت کے لیے کوئی درخواست نہیں دی گئی۔
وکیل اشتیاق اے خان نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی ممبر ہیں جلسے کی کوآرڈینیٹر بھی ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ ہمیں کوئی ایسی دستاویز دکھا دیں جس سے پتا چلے کہ پارٹی نے عالیہ حمزہ کو درخواست دائر کرنے کے لیے اجازت دی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت کے لیے انتظامیہ کو فوری درخواست دینے کی ہدایت کر دی۔
جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ ہم سوا دس بجے دوبارہ بیٹھیں گے، آپ کی اس درخواست پر آج ہی فیصلہ ہو گا۔
جسٹس فاروق حیدر کا مزید کہنا تھا کہ سوا دس تک اگر جلسے کی اجازت کے لیے درخواست نہ دی گئی تو ہم آرڈر پاس کر دیں گے، تمام افسران عدالت میں موجود رہیں گے۔
عدالت نے کاروائی سوا دس بجے تک ملتوی کر دی۔
بعد ازاں، سماعت دوبارہ شروع ہونے پر جسٹس محمد طارق ندیم نے چیف سیکریٹری پنجاب کو روسٹرم پر بلایا۔
جسٹس محمد طارق ندیم نے مکالمہ کیا کہ چیف سیکریٹری صاحب یہ ملک ہے تو ہم ہیں، چیف سیکریٹری صاحب آج جو لوگ حکومت میں ہیں، کل وہ حزب اختلاف میں تھے، آپ تو تب بھی ملازمت کر رہے تھے آج بھی کر رہے ہیں۔
جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دیے کہ کیا اس مسئلے کو مستقل حل نہیں ہونا چاہیے، اتنے قانون منظور ہوتے ہیں آپ یہ بھی کر سکتے ہیں، پنجاب بھر میں جگہ مختص کر دیں کہ یہیں جلسہ ہو گا اس کے علاوہ کہیں نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ اتنی قانون سازی ہو رہی ہے اس پر بھی قانون بنا دیں کہ جلسہ کہاں ہونا ہے کہاں نہیں ہونا، آئی جی پنجاب بھی یہاں موجود ہیں، آپ دونوں کریڈٹ لے لیں اور یہ کام کر لیں۔
جسٹس طارق ندیم کا کہنا تھا کہ دینا کہاں کی کہاں پہنچ گئی ہے ہم یہاں ہی ہیں کہ جلسہ کی اجازت نہیں ہے بولنے کی اجازت نہیں ہے، جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ آئی جی پنجاب صاحب آپ کے ہوتے ہوئے غیر قانونی ہراساں کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
اس موقع پر آئی جی پنجاب نے مؤقف اپنایا کہ ہماری طرف سے ہراساں کرنے کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ میرے گھر کے باہر کئی دن سے پولیس گھوم رہی ہے ہراساں کیا جا رہا ہے۔
آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی کو ہراساں نہیں کیا۔
کمرہ عدالت میں ہی عدالتی حکم پر جلسے کی اجازت کے لیے تحریری درخواست ڈی سی لاہور کو دے دی گئی۔
لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو تحریک انصاف کی جلسہ کی اجازت کے لیے درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس فاروق حیدر نے ہدایت دی کہ ڈپٹی کمشنر لاہور قانون کے مطابق آج شام 5 بجے تک درخواست پر فیصلہ کریں۔
بعد ازاں، لاہور ہائی کورٹ نے جلسہ کی اجازت کے لیے دائر درخواست نمٹا دی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں 21 ستمبر کو ہونے والا جلسہ آر یا پار ہے، پوری پارٹی کو کہہ دیا ہے کہ حکمران جو مرضی کرلیں، وہ باہر نکلیں، جلسے سے اگر روکا تو جیلیں بھر دیں گے۔


مشہور خبریں۔
صیہونی ریاست کا زوال قریب
?️ 3 جون 2022حزب اللہ کے سابق سکریٹری جنرل شہید سید عباس الموسوی کی بہن
جون
باخبر امریکی ذرائع نے انکشاف کیا: ٹرمپ نیتن یاہو کے اقدامات سے صبر کا دامن کھو بیٹھے ہیں
?️ 9 مئی 2025سچ خبریں: خطے میں اہم پیش رفت کے حوالے سے امریکی صدر
مئی
قالیباف کے بیروت کے سفر کے بارے میں رائ الیوم اخبار کا تجزیہ
?️ 13 اکتوبر 2024سچ خبریں: علاقائی اخبار رائ الیوم نے اپنی ایک رپورٹ میں خطے کی
اکتوبر
صیہونیوں کی علاقے میں کشیدگی بڑھانے کی خفیہ حکمت عملی بے نقاب
?️ 14 نومبر 2024سچ خبریں:اسرائیلی چینل 13 کی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل
نومبر
ٹرمپ: ہم نیٹو کو ہتھیار بیچتے ہیں اور یہ بہت اچھا ہے / قطر امریکہ کا اچھا اتحادی ہے
?️ 15 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے ساتھ اپنے ملک
ستمبر
پیوٹن اور بن سلمان ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں:نیویارک ٹائمز
?️ 11 اکتوبر 2022سچ خبریں:پیوٹن اور بن سلمان امید کر رہے ہیں کہ توانائی کی
اکتوبر
ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 29 فیصد اضافہ
?️ 24 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان کے ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ مہنگائی
دسمبر
جنرل مشرف کی عسکری اور سیاسی زندگی پر ایک نظر
?️ 5 فروری 2023سچ خبریں:1999 میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ
فروری