?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ روپے کی قدر میں استحکام آرہا ہے اور امید ہے مہنگائی میں کمی ہوگی اور پہلی تاریخ کو پیٹرول کی قیمت کے حوالے سے خوش خبری ملے گی۔
کراچی میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا کہ وزیراعظم انوارالحق گزشتہ ماہ حلف لینے کے بعد کابینہ کے ساتھ کراچی آئے تھے کیونکہ کراچی کی کاروباری برادری ملک کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انٹربینک میں ڈالر 286 روپے کا تھا وہ 306 روپے ہوگیا اور کرنسی اوپن مارکیٹ میں 350 تک چلی گئی تھی لیکن حکومت نے اقدامات کیے، جس کے بعد کرنسی واپس اپنی جگہ پر آکر کھڑی ہوگئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس مہنگائی میں ہم سب تڑپ رہے ہیں، اس کی اصل وجہ بھی یہی کرنسی ہے، پچھلے سال ڈالر 160 روپے کا تھا اور اس سال 306 کا ہوگیا، جتنی چیزیں درآمد ہوتی ہیں، جس میں توانائی، ایندھن، کیپسٹی ادائیگیاں بھی شامل ہیں وہ ڈالر میں درآمد ہوتی ہیں۔
وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ اشیائے خورونوش اور پیداوار میں استعمال ہونے والی تمام اشیا ڈالر پر تھیں لیکن خدا شکر ہے جب کرنسی بہتر ہوئی ہے تو اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کرنسی کی وجہ سے پیٹرول کی قیمت بڑھی لیکن مجھے پوری امید ہے کہ پہلی تاریخ کو پیٹرول کی قیمت پر خوش خبری آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت بڑھی اور پوری امید ہے کہ کرنسی کنٹرول ہو رہی ہے اور اصل قیمت کی طرف آرہی ہے، کرنسی کے حوالے سے صرف ان لوگوں کو روکا گیا ہے، جو لوگ ٹیکس بچا کر ڈالر خرید رہے تھے اور ناجائز طریقے سے ڈالر ہمارے ملک سے باہر لے کر جا رہے تھے۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ یہ حکومت کی رٹ تھی، ایس آئی ایف سی سے حکومت کو تعاون ملا اور اس کے بعد پورے ملک میں ایک نظام قائم ہوگیا اور اس کے بعد بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ 160 روپے کا ڈالر 286 کا ہوتا یا 305 روپے کا ہوتا، جس کی وجہ سے پوری قوم کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا۔
نگران وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدات 20 فیصد کم ہوئیں، اگر کرنسی کی وجہ سے برآمدات میں اضافہ ہوتا تو کرنسی پچھلے سال 160 روپے تھی اور اس دفعہ جب سال ختم ہوا تھا 286 روپے تھی جبکہ برآمدات 32 ارب ڈالر سے گر کر 27 ارب ڈالر رہ گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ برآمدات 5 ارب ڈالر کم ہوئیں تو اس کا مطلب ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے برآمدات کو کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ ہر چیز ڈالر کی بنیاد پر ہوتی ہے حالانکہ ہمارے ملک میں آج بھی برآمدات کا 10 ارب سرپلس موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ساڑھے 7 ارب ڈالر کا صرف ٹیکسٹائل میں سرپلس موجود ہے اور اس کے علاوہ دیگر مصنوعات کا ڈھائی ارب ڈالر سرپلس ہے، رواں برس 3 ارب کی روئی سرپلس ہوگئی ہے جو گزشتہ برس درآمد کرنا پڑی تھی۔
نگران وزیر تجارت نے کہا کہ ملک میں کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے مزید بہتری آئے گی اور ہمارا ملک دوبارہ ترقی کے راستے پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نگران حکومت ہیں اور ہم نے وزارت کا خیال رکھنا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری انتخابات کرانا ہے، جب تک ہم اپنی ذمہ داری ادا کریں گے۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان میں زراعت اور دیگر شعبوں میں مواقع ہیں، صرف ایمان داری سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور میرا ایمان ہے اگلے 10 سال میں پاکستان کی جیسی ترقی کوئی اور ملک نہیں کرے گا۔


مشہور خبریں۔
صیہونی حکومت کے وزیراعظم کے دورے کے خلاف بحرینیوں کا احتجاج جاری
?️ 16 فروری 2022سچ خبریں: شرکاء نے بحرینی حکومت کی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے
فروری
بلاشبہ یوکرین میں ہمارے آپریشن کے اہداف پورے ہوں گے: پوٹن
?️ 12 اپریل 2022روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین میں ان کے
اپریل
شامی بحران کا واحد حل وفاقی نظام ہے: شامی ڈیموکریٹک فورسز سربراہ
?️ 26 دسمبر 2025شامی بحران کا واحد حل وفاقی نظام ہے: شامی ڈیموکریٹک فورسز سربراہ
دسمبر
طالبان ترجمان: اگر پاکستان نے جنگ جاری رکھی تو ہم سختی سے جواب دیں گے
?️ 27 فروری 2026سچ خبریں: طالبان کی نگراں حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے
فروری
سعودی عرب کی صیہونی جارحیت پر وارننگ
?️ 19 نومبر 2024سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے خطے میں اسرائیلی جارحیت
نومبر
طالبان کو سرعام سزا نہیں دی جائیں گی
?️ 24 ستمبر 2021 سچ خبریں:ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئےسابق طالبان حکومت کے
ستمبر
چابہار بندرگاہ عالمی منڈیوں کے لیے ایک پائیدار راستہ ہے:بھارت
?️ 12 دسمبر 2021سچ خبریں:ہندوستانی وزیر خارجہ نے چابہار بندرگاہ کے منصوبے کے بارے میں
دسمبر
داعش کے سرپرستوں کے خلاف بولنا لبنانی وزیر خارجہ کو مہنگا پڑگیا
?️ 19 مئی 2021سچ خبریں:لبنان کے وزیر خارجہ کو داعش کو ایجاد کرنے والوں پر
مئی